زوجیلا بائی پاس کے دشوارگزارراستہ کے متبادل کے طورپر تعمیر کی جارہی یہ سرنگ ایشیا کی سب سے طویل سرنگ ہے۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 11:31 AM IST | Srinagar
زوجیلا بائی پاس کے دشوارگزارراستہ کے متبادل کے طورپر تعمیر کی جارہی یہ سرنگ ایشیا کی سب سے طویل سرنگ ہے۔
ایشیا کی سب سے بڑی زوجیلا ٹنل کی اب صرف۲۱۰؍ میٹر کی کھدائی کا کام باقی رہ گیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ اگلے چند ماہ میں ٹنل کا منہ دونوں طرف سے کھل جائے گا۔ میگا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ(ایم ای آئی ایل)کے کنسٹرکشن منیجر معراج الدین نے بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ سرینگر لداخ شاہراہ کو سال بھر آمد و رفت کیلئے کھلا رکھنے اور سڑک حادث کی روک تھام کیلئے مرکز نے۶۸۰۰؍کروڑ روپے کی لاگت سے ۱۳ء۵؍ کلو میٹر زوجیلا ٹنل پرابتدائی کام ۲۰۱۸ء میں شروع کیا گیا تھاجبکہ اس پر باقاعدہ کام اکتوبر نومبر۲۰۲۰ء میں شروع ہوا لیکن سخت سردی کے باعث اس وقت مکمل مشینری کی منتقلی اور افرادی قوت کی فراہمی ممکن نہیں ہوسکی۔واضح رہےکہ زوجیلا بائی پاس پہاڑی راستہ ہے جس پرسردیوں میں برف باری اور بارش میں چٹانیں کھسکنے کے خطرات کے پیش نظر گزربہت مشکل رہتا ہے۔بائی پاس کو عبور کرنے میںدو سے تین گھنٹےلگتے ہیںجبکہ ٹنل کے ذریعے یہ راستہ تقریباً۲۰؍ منٹ میںطے کیاجاسکے گا اورٹنل ہر موسم میں کھلی رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ پیپر لیک معاملہ میں لاتور سے ایک ڈاکٹر گرفتار، بیٹے کیلئے پرچہ لیا تھا
پہلے۶؍ مہینےکیلئے راستہ بند رہتا تھا
انہوں نے کہا کہ ۲۰۲۱ء کے موسم بہار کے بعد ٹنل کا کام دونوں طرف (منی مرگ اور باتل) سے باضابطہ طور پر شروع کیا گیا اور لگاتار کام کے نتیجے میں اب ۱۳؍کلو میٹر میں سے صرف۲۱۰؍ میٹر کی کھدائی کا کام باقی رہ گیا ہے۔ کنسٹرکشن منیجر معراج الدین نے بتایا کہ ٹنل میں داخل ہونے کیلئے سونمرگ نیلہ گراٹھ سے۱۷؍کلو میٹر کا اپروچ روڈ تعمیر کیا گیا ہے جو سونمرگ سے زوجیلا ٹنل کے ویسٹرن پورٹل تک جاتا ہے جس میں دو چھوٹی سرنگ ایک ۱ء۹۵؍کلو میٹر اور۴۵۰؍ میٹر ہے ۔ بارڈر روڈ آرگنائز یشن زوجیلا روڈ سے برف ہٹانے کاکام کرتی ہے۔
معراج الدین نے مزید کہا کہ سڑک کے مختلف مقامات پر۷؍کٹ اینڈ کو ر انفراسٹرکچر برفانی تودے کے بچاؤ کیلئے بنائے گئے ہیں۔’ ای ٹی وی بھارت‘ کے مطابق دراس کے رہنے والے مقامی شخص مختار حسین نے بتایا کہ پہلے۶؍ مہینے کیلئے راستہ بند رہتا تھا جس کی وجہ سے ہمیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ہمیں کھانے پینے کا سامان پیشگی جمع کرکے رکھنا پڑتا تھا اور سردیوں میں وہی سامان کھانے پینےکیلئے استعمال میں لاتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: بابا جانی درانی کانگریس کے پربھنی ضلع صدر، عبدالغفار ناندیڑ شہر صدر
سیاحت کے ساتھ ساتھ روزگار بڑھ جائے گا
انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ سال سے بارڈر روڈ آرگنا ئزیشن کی محنت کی وجہ سے زوجیلا روڈ پر برف ہٹانے کا کام جلدی ہوجاتا تھا جس کی وجہ سے ہمیں کچھ مہینے کیلئے آرام ملتا تھا لیکن اب ٹنل بننے سے ہمیں کافی فائدہ ملے گا۔ ایک اور مقامی شخص ظہور احمد نے بتایا کہ ہمیں زوجیلا ٹنل بننے سے بہت سارا فائدہ ملے گا۔ سیاحت کے ساتھ ساتھ روزگار بڑھ جائے گا اور ہمیں تازی سبزی ملے گی۔ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ زوجیلا ٹنل ہونی چاہئے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ ہمارا خواب پورا ہو جائے گا۔ جو ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا ہمارے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جب ہمارے لیے کوئی ایمرجنسی بیمار ہوتا تھا ہمیں بیماروں کو چوپر کے ذریعے سری نگر یا پھر جموں لے جانا پڑتا تھا۔ ٹنل بننے سے اب ہم سری نگر محض دو گھنٹے میں پہنچ جائیں گے اور دن میں ہی واپس آجائیں گے۔ ٹنل بننے سے ہمیں بہت سارے فائدے حاصل ہوں گے۔