۵؍ مہلوکین کے اہل خانہ کو اب تک معاوضہ بھی نہیں ملا۔ زخمی ہونے والے مسافروں نے مالی پریشانی کی شکایت کی۔
گزشتہ سال ۹؍ جون کو ممبرا اسٹیشن کے قریب حادثہ ہوا تھا-تصویر:آئی این این
ممبرا میں گزشہ ستال اندوہناک ٹرین حادثہ میں ۵؍ افراد ہلاک اور ۱۳؍ افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ حیرت انگیز طور پر نہ تو ریلوے پولیس نے اس معاملہ میں چارج شیٹ کی ہے اور نہ ہی مہلوکین کے ہل خانہ کو معاوضہ ملا ہے ۔ اس حادثہ میں زخمی ہونے والے مسافرجو معذورہوگئے ہیں، وہ بھی معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے مایوس ہیں ۔
۹؍ جون ۲۰۲۵ء کو ممبرا ریلوے اسٹیشن کے قریب کرجت سے سی ایس ایم ٹی کی طرف جانے والی ٹرین میں سفر کرنے والے ۲؍ درجن سے زائد مسافر اس وقت اچانک گر پڑے جو دو ٹرین آس پاس سے گزررہی تھیں ۔ حادثہ اور ابتدائی جانچ کے بعد سینٹرل ریلوے کے دو انجینئروں وشال داس اور سمر یادو کے خلاف گورنمنٹ ریلوے پولیس نے کیس درج کیا تھا لیکن انہیں گرفتار نہیں کیا تھا ۔ تاہم مذکورہ دونوں انجینئروں نے بامبے ہائی کورٹ میں پیشگی ضمانت کی درخواست دی تھی جو زیر التوا ہے ۔
اس حادثہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے مسافر اب بھی انصاف کے منتظر ہیں ۔ان میں جہاں فوت ہونے والے مسافروں کے اہل خانہ کو اب تک معاوضہ نہیں ملا ہے ۔زخمی ہونے والے مسافر سمیر زویری نے کہا کہ’’ ایک سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ریلوے پولیس نے چارج شیٹ فائل نہیں کی اور نہ ہی ریلوے انتظامیہ نے زخمیوں کے ساتھ انصاف کیا ہے۔‘‘ سمیر کی طرح دیگر کئی مسافروں نے بھی حادثہ کے سبب شدید معذوری کا شکار ہونے کے باوجود مناسب معاوضہ نہ دیئے جانے اور مالی پریشانی میں مبتلا ہونے کی شکایت کی ہے۔
ممبرا ٹرین حادثہ میں بھیونڈی کے ریحان شیخ بھی زخمی ہوئے تھے ۔ ان کی دائیں ہاتھ کی تین ہڈیاں ٹوٹ گئیں ہیں اور بائیں ہاتھ کی کلائی اور انگلیوں میں بھی شدید چوٹ آئی ہے ۔ مذکورہ حادثہ میں ہاتھوں میں معذوری کے سبب انہیں ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ ریحان تقریباً ۸؍ ماہ تک بے روز گار تھے اور اب انہوں نے بحالت مجبوری جو ملازمت حاصل کی ہے، اس میں ماہانہ صرف ۷؍ ہزار روپے ملتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اس کم تنخواہ میں میں اپنا علاج کروں ، کرایہ ادا کروں یا گھر کا خرچ پورا کروں ۔‘‘
متاثرین کے اہل خانہ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ حادثہ کے فوراً بعد انہیں مناسب معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود معاوضہ نہیں دیا گیا ہے اور مطالبہ کرنے پر الگ الگ دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں ۔ سینٹرل ریلوےکے چیف پبلک ریلیشن آفیسر سوپنل نیلا نے اس ضمن میں صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ متاثرین کے اہل خانہ کو براہ راست معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے اس کیلئے انہیں ریلوے ایکسیڈنٹ ٹریبونل سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور اس بات سے متاثرین کے خاندانوں کو آگاہ کیا جاچکا ہے ۔‘‘