پارٹی نے پروگرام کا ترانہ جاری کیا، بی جے پی حکومت کی جانب سے رخنہ اندازی کے باوجود ۵۰؍ ہزار طلبہ کی آمد متوقع۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 10:30 AM IST | Dehradun
پارٹی نے پروگرام کا ترانہ جاری کیا، بی جے پی حکومت کی جانب سے رخنہ اندازی کے باوجود ۵۰؍ ہزار طلبہ کی آمد متوقع۔
لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی ۱۷؍ جولائی یعنی آج دہرا دون پہنچ رہے ہیں جہاں وہ ریس کورس علاقے میں واقع بنّو اسکول کے میدان میں منعقد ہونے والے ’’چھاتروں کی گونج ‘‘پروگرام میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر وہ نوجوانوں اور طلبہ سے براہِ راست گفتگو کریں گے۔ پروگرام کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔اسی سلسلے میں اتراکھنڈ کانگریس کے صدر گنیش گودیال سمیت پارٹی کے کئی سینئر لیڈروںنے پروگرام کے مقام کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ گنیش گودیال نے پنڈال، نشستوں کے انتظام اور پورے میدان کا معائنہ کرتے ہوئے پارٹی عہدیداروں کو ضروری ہدایات دیں۔ واضح رہے کہ اسی طرز کا پروگرام اس سے قبل راجستھان کے مشہور شہر کوٹا میں منعقد کیا جاچکا ہے جو انتہائی کامیاب رہا تھا ۔
اس دوران چھاتروں کی گونج پروگرام کا ترانہ بھی جاری کیا گیا۔ کانگریس کے مطابق یہ ترانہ ملک بھر کے نوجوانوں اور طلبہ میں تعلیم، مساوی مواقع اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کے جذبے کو نئی توانائی دے گا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’بہت ہوا، چلو جواں، ہاتھ سے ہاتھ جوڑ کے، ناانصافی کا گھڑا پھوڑ کے... ‘‘ جیسے الفاظ صرف گیت یا ترانہ نہیں ہیںبلکہ کروڑوں نوجوانوں کے جذبات کی ترجمانی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ کے سابق جسٹس پر گھریلو گیس سلنڈر ایجنسی چلانے کا الزام، لائسنس معطل
اس موقع پر موجود میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےگنیش گودیال نے دعویٰ کیا کہ پروگرام کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے پریڈ گراؤنڈ میں پروگرام کی اجازت مؤخر کرکے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی تاہم ایک ادارے نے اپنا میدان فراہم کرکے پروگرام کے انعقاد میں تعاون کیا۔ انہوں نے اس ادارے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس جگہ کی فراہمی میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پروگرام کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی، اس کے باوجود راہل گاندھی کا یہ پروگرام کامیاب رہے گا اور بڑی تعداد میں نوجوان اور طلبہ اس میں شریک ہوں گے۔
دریں اثناء این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ بھی بنّو اسکول کے پروگرام مقام پر پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ کوٹا میں راہل گاندھی نے ہزاروں طلبہ سے مکالمہ کیا تھا اور اسی طرز پر دہرا دون میں بھی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ میں اس پروگرام کو لے کر خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔
یہ بھی پڑھئے: پربھنی کا ایک سرکاری اسکول جہاں ایک کمرے میں ۵؍ جماعتیں چل رہی ہیں
واضح رہے کہ کانگریس ہائی کمان نے ملک بھر میں پیپر لیک کے خلاف چھاتروں کی گونج مہم شروع کی ہے۔ کوٹا میں کامیاب پروگرام کے بعد اس سلسلے کا دوسرا بڑا پروگرام اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرہ دون میں منعقد ہو رہا ہے۔ ریاستی کانگریس نے اس تقریب میں صوبے سے ۵۰؍ ہزار نوجوانوں اور طلبہ کو جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ پارٹی کے مطابق اب تک چار لاکھ سے زیادہ نوجوان اور طلبہ آن لائن رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔
اسی درمیان کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ ۱۷؍ جولائی کو دہرادون آ رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ بار بار ہونے والے پیپر لیک کے واقعات نے ہزاروں نوجوانوں اور ملازمت کے امیدواروں کی امیدوں کو توڑ دیا ہے۔ دیوبھومی کو پیپر لیک کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ یہاں ایک ایسا سسٹم قائم ہو چکا ہے، جہاں پٹواری، لیکھ پال یا کسی بھی دوسرے عہدہ پر تقرری قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ مجرموں کی طے کردہ قیمت پر ہوتی ہے۔ہم اسے ہی ختم کرنے آرہے ہیں۔