Updated: June 30, 2026, 10:08 PM IST
| Stockholm
جسٹس کانت نے نوٹ کیا کہ ہندوستانی آئین، عدلیہ کو عدالتی نظرثانی (جوڈیشل ریویو) کے ذریعے حتمی اختیار دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی دیگر اداروں کو وفاقیت، جمہوریت اور اختیارات کی علیحدگی کے تحفظ کی ذمہ داری بھی سونپتا ہے۔ انہوں نے عدالتی نظرثانی کو ایک طاقت کے طور پر نہیں بلکہ ”آئین کی طرف سے سونپا گیا ایک فرض اور ذمہ داری“ قرار دیا۔
سی جے آئی سوریہ کانت۔ تصویر: ایکس
ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے پیر کے دن سویڈن میں اپنے ایک لیکچر کے دوران کہا کہ ”عدالتیں آئینی نظام میں محض تماشائی نہیں بن سکتیں، انہیں ’آئینی بالادستی کا بیدار محافظ‘ رہنا چاہئے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عوامی طاقت کا کوئی بھی استعمال قانون کے مستقل نظم و ضبط سے بچ نہ پائے۔“ وہ سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں ’انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس‘ کے زیرِ اہتمام ”قانون کی حکمرانی کا تحفظ — ہندوستان اور سویڈن کے تجربات“ کے عنوان پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
چیف جسٹس نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ قانون کی حکمرانی ”طاقت کے استعمال کو نظم و ضبط کا پابند“ بناتی ہے۔ وہ اس بات کو بھی یقینی بناتی ہے کہ عوامی مقتدرہ (پبلک اتھارٹی) ”معلوم، مستحکم اور عمومی قوانین“ کے تحت کام کرے، تاکہ شہریوں کے ساتھ قانون کے سامنے برابری کا سلوک ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینی جمہوریت کی بقا ”انتظامیہ اور مقننہ کی آئینی اصولوں سے وفاداری پر منحصر ہے“ جس میں ایک آزاد عدلیہ سب سے بڑے محافظ کے طور پر کام کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ای ٹی پیپرلیک کے خلاف احتجاج، کانگریس نے وزیر تعلیم کا پتلا جلایا
جسٹس کانت نے نوٹ کیا کہ ہندوستانی آئین، عدلیہ کو عدالتی نظرثانی (جوڈیشل ریویو) کے ذریعے حتمی اختیار دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی دیگر اداروں کو وفاقیت، جمہوریت اور اختیارات کی علیحدگی کے تحفظ کی ذمہ داری بھی سونپتا ہے۔ انہوں نے عدالتی نظرثانی کو ایک طاقت کے طور پر نہیں بلکہ ”آئین کی طرف سے سونپا گیا ایک فرض اور ذمہ داری“ قرار دیا۔
مہابھارت کی ایک کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں راجہ پرہلاد ایک تنازع کا فیصلہ کر رہے تھے، چیف جسٹس نے کہا: ”انصاف صرف تبھی قائم رہ سکتا ہے جب فیصلہ کرنے والا ہر قسم کے دباؤ اور اثر و رسوخ سے بالاتر ہو، اور صرف قانون اور ضمیر کا وفادار رہے۔“ انہوں نے وضاحت کی کہ آئین کے معماروں نے انتظامیہ کے کنٹرول سے پاک ایک آزاد عدلیہ قائم کی، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے ججوں کے تقرر کیلئے کولیجیم سسٹم (Collegium system) کو اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آزادی عدالتوں کو معاشرے کے ”جمہوری تصور کو فعال طور پر تشکیل دینے“ کی اجازت دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوآبادیاتی دور کے جیل نظام کا خاتمہ، ریاستی حکومت نے تمام ۱۱۶؍ ذیلی جیلوں کو بند کیا
تاہم، اس موقع پر جسٹس کانت نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ ریاست کے دیگر اداروں کی جانب سے لئے گئے تکنیکی اور سماجی و اقتصادی فیصلوں پر ”دوسری اپیلٹ اتھارٹی یا سُپر ایگزیکٹیو“ کے طور پر کام نہیں کرتی۔ انہوں نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی اصل طاقت نہ صرف آئین کو خطرہ لاحق ہونے پر ہمت دکھانے میں ہے، بلکہ اس ”ادارتی حکمت میں بھی ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ کب احترام اور تحمل کا مظاہرہ کرنا خود آئینی وفاداری کا سب سے بڑا اظہار ہے۔“