میرابھائندر کانگریس کےصدر راکیش راج پروہت نے سیون الیون کنسٹرکشن کمپنی کےزمین گھوٹالہ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی نریندر مہتا پرتنقیدیں۔
EPAPER
Updated: September 18, 2026, 10:44 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mira Bhayandar
میرابھائندر کانگریس کےصدر راکیش راج پروہت نے سیون الیون کنسٹرکشن کمپنی کےزمین گھوٹالہ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی نریندر مہتا پرتنقیدیں۔
میرابھائندر کانگریس کے صدر راکیش راج پروہت نے شہر میں رکن اسمبلی نریندر مہتا کی ’سیون الیون کنسٹرکشن‘ کمپنی پر زور زبردستی زمینوں پر قبضہ کرنے کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں اور اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کمپنی کے تمام تر معاملات کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے راکیش راج پروہت نے کہا کہ سیون الیون کنسٹرکشن کمپنی کے قیام کے بعد سے شہر میں مختلف پلاٹس پر زبردستی قبضہ کرنے اور ڈرا دھمکا کر سودے بازی کرنے کی کہانیاں عام ہیں۔ انہوں نے۸۱؍ سالہ اصغر علی ووہرا کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے براہِ راست ملاقات کرکے کمپنی کے خلاف شکایت درج کرائی جس کے بعد کمپنی اب زمین واپس کرنے اور درج ایف آئی آر واپس لینے پر مجبور ہوئی۔ راج پروہت نے سوال اٹھایا کہ’’جس عام شہری کی رسائی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ تک نہیں ہے، ان کی زمینوں کا کیا ہوگا؟ ان کو انصاف کیسے ملے گا؟‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ایک قبائلی کی زمین پر غیر قانونی قبضے کا معاملہ اسمبلی میں اٹھایا گیا تھا جس کے بعد دباؤ میں آکر وہ زمین واپس کی گئی تھی۔ اس وقت شہر میں اس کمپنی کا خوف اس قدر پھیل چکا ہے کہ باہر سے کوئی نیا بلڈر یہاں آنے سے ڈرتا ہے۔
’’وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کومکتوب بھیجاجائے گا‘‘
راج پروہت نے اعلان کیا کہ کانگریس پارٹی بہت جلد وزیر اعظم نریندر مودی اور مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ کو مکتوب بھیجے گی جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ گزشتہ ۱۰؍ سے ۱۵؍برس کے دوران سیون الیون کنسٹرکشن کمپنی کے ذریعے کی گئی تمام زمینوں کی خرید و فروخت اور مالی سودوں کی سی بی آئی کے ذریعے غیر جانبدارانہ جانچ کروائی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’۱۴۰؍کروڑہندوستانیوں کا مفاد مقدم ہے ‘‘
رکن اسمبلی سے غریبوں پر مظالم بند کرنے کا مطالبہ
ونچت بہوجن اگھاڑی میرابھائندر کے صدر اقبال مہاڈک نے مقامی رکن اسمبلی نریندر مہتا کے طرزِ عمل اور زمینوں کے تنازعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ۔ ایک ویڈیو پیغام کے توسط سے اقبال مہاڈک نے سیون الیون کنسٹرکشن کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیا جہاں اصغر علی کی وزیراعظم سے اپیل کے بعد کارروائی کی گئی اور انہیں زمین واپس مل گئی۔نریندر مہتا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’ایک منتخب عوامی نمائندے کی پہلی ذمہ داری علاقے کی ترقی ہے نہ کہ غریبوں اور عام شہریوں کی زمینوں میں رکاوٹیں یا تنازعات پیدا کرنا۔ کوئی شخص چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا اور ناانصافی کا شکار عام انسان بھی اپنے حقوق کی بحالی کیلئے مضبوط جدوجہد کر سکتا ہے۔‘‘اقبال مہاڈک نے رکن اسمبلی کو خبردار کیا کہ زمینوں پر غیر ضروری مداخلت سے ان کی سیاسی و عوامی شبیہ خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن جن لوگوں کی زمینوں کے مسائل پیدا کئے گئے ہیں، انہیں فوراً ان کا حق دیا جائے۔
متنازع زمین سے متعلق سابق کارپوریٹر کا اہم سوال
زمین تنازع پر حقوقِ انسانی کے کارکن اور سابق میونسپل کارپوریٹر روہت سورنا نے بڑا سوال اٹھایا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی ڈیل سے پہلے بلڈرس اور ڈیولپرس کا اصول ہوتا ہے کہ وہ مجاز اتھاریٹی سے ٹائٹل کلیرنس سرٹیفکیٹ اور انکمبرینس سرٹیفکیٹ ( ای سی) لیتے ہیں لیکن اس معاملے میں بلڈرس اور ڈیولپرس نے رِسک کیوں لیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں ٹاؤن پلاننگ اور لینڈ ریکارڈ ڈپارٹمنٹ کی جانچ ہونی چاہئے تاکہ اصلی خریدار اصغر علی ووہرہ کے ساتھ انصاف ہوسکے۔
یہ بھی پڑھئے:اوپن، ڈسٹنس سے گریجویشن کرنے والے ایل ایل بی طلبہ کو عارضی اینرولمنٹ کی اجازت
زمین تنازع کے بعد میرابھائندر کی سیاست میں نئی صف بندی کے آثار
میرابھائندر کے بی جے پی رکن اسمبلی نریندر مہتا جو ہمیشہ مختلف تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں، اب ان کی مشکلات میں اِضافہ ہونے لگا ہے ۔حالیہ زمین تنازع میں اصغر علی ووہرا نے ان کی شکایت اپنے بچپن کے دوست وزیراعظم نریندرا مودی سے کی جس کے بعد انہیں متنازع زمین کا قبضہ چھوڑنا پڑا۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس نے ان کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ سماجی کارکنان نے بھی ان پر تنقیدیں کی ہیں۔ معاملہ یہاں تک محدود نہیں رہا، اب ان کی خود کی پارٹی بی جے پی میں ان کا سیاسی قد گھٹنے لگا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ان کی سیاسی رقیب سابق رکن اسمبلی گیتا جین کو گنیش اتسو کے موقع پر اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مدعو کیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس دعوت نامے کو میرابھائندر کی موجودہ سیاسی صورتحال اور رکن اسمبلی نریندر مہتا سے وابستہ مختلف تنازعات کے درمیان اہم مانا جا رہا ہے۔ حالانکہ گیت جین نے اس دعوت کو کسی سیاسی واقعہ سے منسلک کرنے سے انکار کیا ہے ۔
گیتا جین پہلے بی جے پی میں تھیں۔ ۲۰۱۷ ء میں میرابھائندر کی میئر بنیں مگر ۲۰۱۹ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی سے بغاوت کرکے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب میں حصہ لیا اور نریندر مہتا کو شکست دے کر رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔ اس وقت انہیں شیوسینا کی درپردہ حمایت حاصل تھی ۔ اس وقت سے نریندر مہتا اور گیتا جین کے درمیان شدید رقابت ہے۔