Updated: September 10, 2026, 10:00 PM IST
| Meerut
میرٹھ کی شاہی جامع مسجد کے احاطے کے نیچے قدیم بدھ مٹھ یا تاریخی ساخت کی موجودگی کے دعوے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مقامی وکیل رام کمار شرما نے ڈویژنل کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو درخواست دے کر آثارِ قدیمہ کے ان دعوؤں کی سائنسی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا، ماہرینِ آثارِ قدیمہ، مورخین اور دیگر ماہرین پر مشتمل مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے اور ضرورت پڑنے پر قانونی کھدائی کرانے کی بھی اپیل کی ہے۔
میرٹھ کی شاہی جامع مسجد۔ تصویر: آئی این این
میرٹھ کی شاہی جامع مسجد کے احاطے کے نیچے ایک قدیم بدھ مٹھ کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ خبر سامنے آئی ہے کہ مقامی وکیل رام کمار شرما نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ڈویژنل کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ایک درخواست دی ہے، جبکہ اس کی ایک کاپی میرٹھ ضلع کے انچارج وزیر اسیم ارون کو بھی بھیجی گئی ہے۔ درخواست میں یہ کہا گیا ہے کہ میرٹھ ایک انتہائی قدیم اور تاریخی شہر ہے، جہاں مہابھارت کے دور سے لے کر موریہ، بدھ اور عہدِ وسطیٰ کی تاریخ سے جڑے شواہد اور روایات ملتی ہیں۔ اس لئے شاہی جامع مسجد کے احاطے سے متعلق آثارِ قدیمہ کے دعوؤں کی سائنسی بنیادوں پر تحقیقات ہونا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حقیقت دکھانے والے صحافی پر مقدمہ’’ قاصد کے قتل ‘‘ کے مترادف: الہ آباد ہائی کورٹ
وکیل نے اپنے خط میں مشہور چینی بدھ سیاح ہیون سانگ (Hiuen Tsang) کے سفرِ ہند اور میرٹھ سے متعلق متعدد تاریخی ذرائع کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اس میں معروف مؤرخ اور محقق پروفیسر کے ڈی شرما کے دعوے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن کے مطابق شاہی جامع مسجد کی ساخت میں موریہ یا بدھ دور کے طرزِ تعمیر جیسے پتھر کے ستون دکھائی دیتے ہیں۔ وکیل نے مطالبہ کیا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ، ریاستی محکمہ آثارِ قدیمہ، مؤرخین، بدھ مت کے ماہرین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ، جیالوجسٹس اور ضلع انتظامیہ پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے۔ یہ کمیٹی شاہی جامع مسجد کے نیچے کسی قدیم بدھ مٹھ یا دیگر تاریخی ساخت کی سائنسی تحقیقات کرے اور اس کیلئے اے ایس آئی سروے اور قانونی کھدائی بھی کرائی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ابو سالم کی ۲۵؍ سالہ قید مکمل ہونے کا دعویٰ، سپریم کورٹ نے رہائی کی اپیل رد کردی
واضح رہے کہ میرٹھ ہندوستان کے قدیم ترین تاریخی شہروں میں سے ایک ہے اور یہ علاقہ مختلف تاریخی ادوار کی اہم میراث کا مرکز رہا ہے۔ ساتویں صدی میں چینی سیاح ہیون سانگ نے اپنے دورۂ ہند کے دوران شمالی ہند کی متعدد بدھ خانقاہوں اور تعلیمی مراکز کا ذکر کیا تھا اور میرٹھ و اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی قدیم بدھ سرگرمیوں اور موریہ دور کے اثرات کے تاریخی اشارے ملتے ہیں۔