Inquilab Logo Happiest Places to Work

کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام پر۷۰؍ لاکھ سے زائد فالوورز، معروف شخصیات بھی شامل

Updated: May 20, 2026, 10:09 PM IST | Mumbai

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے مبینہ تبصروں کے بعد وجود میں آنے والی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے۔ چند ہی دنوں میں انسٹاگرام پر اس کے ۷۰؍ لاکھ سے زائد فالوورز ہو چکے ہیں، جبکہ انوراگ کشیپ، کونکونا سین شرما، ایشا گپتا، کنال کامرا اور عرفی جاوید سمیت کئی شوبز شخصیات نے بھی اس کے انسٹاگرام ہینڈل کو فالو کرنا شروع کر دیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

گزشتہ دنوں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے مبینہ ’’کاکروچ‘‘ تبصروں کے بعد سوشل میڈیا پر طنز، سیاسی بے چینی اور نوجوانوں کے غصے نے مل کر ایک نئے آن لائن رجحان کو جنم دیا ہے جسے ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (CJP) کہا جا رہا ہے۔ چند دن پہلے تک ایک میم اور طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہونے والا یہ پلیٹ فارم اب انسٹاگرام پر ۷۰؍ لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کر چکا ہے جبکہ ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی اس کے ہزاروں حامی سامنے آ رہے ہیں۔ ہر گزرتے گھنٹے اس کے فالوورز کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 
اس دوران پارٹی کے انسٹاگرام ہینڈل سے ایک پوسٹ بھی وائرل ہوا جس میں لکھا ہے کہ ’’گودی میڈیا کے ممبران ہم سے دور رہیں، ہمیں انٹرویو اور بات چیت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ایک طبقہ اسے نوجوانوں کے غصے اور مین اسٹریم میڈیا سے ناراضگی کا اظہار قرار دے رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے سیاسی پروپیگنڈا اور اپوزیشن سے جڑی مہم بتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ مہم اُس وقت شروع ہوئی جب چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک مبینہ تبصرے نے تنازع کھڑا کر دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ اور ’’سسٹم پر حملہ کرنے والے‘‘ قرار دیا گیا۔ بعد میں چیف جسٹس کی وضاحت بھی سامنے آئی لیکن تب تک ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ ایک وائرل علامت بن چکی تھی۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Abhijeet Dipke (@abhijeetdipke)

معروف شخصیات اس تحریک سے جڑ رہی ہیں
سوشل میڈیا پر اچانک ابھرنے والی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ اب محض ایک انٹرنیٹ مذاق نہیں رہی بلکہ نوجوانوں کے درمیان ایک وائرل ڈجیٹل تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ۱۶؍ مئی کو شروع کی گئی اس تحریک سے لاکھوں نوجوان جڑ چکے ہیں۔ جین زی کے درمیان یہ ٹرینڈ اس قدر مقبول ہو چکا ہے کہ کئی لوگ مذاق میں خود کو پارٹی کے ’’قابل امیدوار‘‘ قرار دے رہے ہیں اور اپنی ’’غیر ضروری مہارتوں‘‘ کی بنیاد پر فرضی وزارتوں کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آن لائن طنزیہ تحریک نے اب شوبز کی دنیا کو بھی اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ فلمساز انوراگ کشیپ، اداکارہ کونکونا سین شرما اور ایشا گپتا نے بھی سی جے پی کے انسٹاگرام پیج کو فالو کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے علاوہ کامیڈین کنال کامرا، پنجابی گلوکارہ اور اداکارہ ہمانشی کھرانہ، عرفی جاوید، عمر ریاض، شفق ناز، شیزان خان، نغمہ میراجکر، ابھیشیک نگم اور پورو جھا جیسے کئی ٹی وی اور ڈجیٹل چہرے بھی اس آن لائن بز کا حصہ بن چکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر پارٹی کا طنزیہ منشور بھی خوب وائرل ہو رہا ہے۔ پارٹی خود کو ’’سیکولر، سوشلسٹ، جمہوری، سست‘‘ قرار دیتی ہے۔ اس کے مطالبات میں چیف جسٹس کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد راجیہ سبھا نشستوں پر پابندی، خواتین کے لیے پارلیمنٹ میں ۵۰؍ فیصد ریزرویشن، اور منحرف ارکان اسمبلی اور پارلیمنٹ کے لیے ۲۰؍ سالہ انتخابی پابندی شامل ہے۔ کئی صارفین نے ان مطالبات کو ’’طنز میں چھپی سنجیدہ سیاست‘‘ قرار دیا ہے۔
انسٹاگرام ریلز اور ایکس پر نوجوان ’’کاکروچ جنتا پارٹی زندہ باد‘‘ جیسے طنزیہ نعرے لگا رہے ہیں جبکہ متعدد میم پیجز نے اسے ’’ہندوستان کی سب سے متعلقہ پارٹی‘‘ کہنا شروع کر دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’آخرکار ایک ایسی پارٹی آ گئی جو ہماری نیند، سستی اور بے روزگاری کو سمجھتی ہے۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں لکھا گیا کہ ’’سی جے پی وہ واحد پارٹی ہے جہاں اوور تھنکنگ بھی اہلیت ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کیرالا کے نئے وزیراعلیٰ وی ڈی ستیشن کی تعلیم یافتہ اور متوازن کابینہ

میم سے تحریک تک
پارٹی خود کو ’’نوجوانوں کی، نوجوانوں کیلئے، نوجوانوں کی آواز‘‘ قرار دے رہی ہے۔ اس کے منشور میں طنزیہ انداز اپنایا گیا ہے مگر اس کے پس منظر میں بے روزگاری، امتحانی گھوٹالے، میڈیا پر عدم اعتماد، عدلیہ سے متعلق سوالات اور سیاسی مایوسی جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی نوجوان اسے محض مذاق نہیں بلکہ ’’ڈجیٹل احتجاج‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ 
ریڈٹ اور دیگر فورمز پر اس کے حوالے سے زبردست بحث جاری ہے۔ کچھ صارفین نے لکھا کہ نوجوان نسل خود کو ’’نظر انداز‘‘ اور ’’غیر ضروری‘‘ محسوس کرتی ہے، اسی لئے یہ علامت تیزی سے مقبول ہوئی۔ تاہم کئی لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا یہ تحریک واقعی غیر جانبدار ہے یا پھر اپوزیشن جماعتوں سے متاثر ہے۔

اس کے بانی ابھیجیت ڈپکے کون ہیں؟
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے ہیں، جو مختلف رپورٹس کے مطابق ۳۰؍ سالہ طالب علم ہیں اور بوسٹن یونیورسٹی سے وابستہ رہے ہیں۔ کئی رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اس سے قبل عام آدمی پارٹی کی سوشل میڈیا سرگرمیوں سے بھی جڑے رہے تھے۔ ابھیجیت ڈپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ خیال انہیں اچانک آیا تھا۔ ان کے مطابق چیف جسٹس کے بیان کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر مذاقاً لکھا ’’اگر سارے کاکروچ ایک ساتھ آ جائیں تو؟‘‘ یہی جملہ بعد میں ایک وائرل تحریک میں بدل گیا۔ ڈپکے کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ان کا مقصد صرف طنز اور مزاح تھا لیکن نوجوانوں کے ردعمل نے اسے ’’موومنٹ‘‘ بنا دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف دو دن میں لاکھوں لوگ اس مہم سے جڑ گئے اور انہیں مسلسل پیغامات موصول ہونے لگے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مالیگائوں : عید قرباں کے پیش نظر انتظامیہ مستعد،اہم ہدایات جاری کی گئیں

سیاسی حمایت اور تنازع
اس مہم کو بعض اپوزیشن لیڈروں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق ترنمول کانگریس کی مہوا موئترا اور کیرتی آزاد سمیت کئی شخصیات نے اس کی حمایت یا اس پر تبصرہ کیا۔ تاہم اسی وجہ سے اس پر تنقید بھی ہورہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک جلد ہی سیاسی رنگ اختیار کر گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے الزام لگایا کہ یہ ’’اینٹی بی جے پی نیریٹو‘‘ بن چکی ہے جبکہ اس کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ پورے نظام کے خلاف نوجوانوں کی بے چینی کا اظہار ہے۔
فی الحال ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت نہیں ہے، لیکن اس کی غیرمعمولی آن لائن مقبولیت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہندوستانی نوجوانوں میں سیاسی طنز، ڈجیٹل احتجاج اور متبادل بیانیے کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سب طنز اور میمز کی شکل میں سامنے آیا ہے، لیکن اس کے پیچھے نوجوانوں کی بے روزگاری، سیاسی مایوسی اور نظام سے ناراضی جیسے سنجیدہ جذبات بھی موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک معمولی انٹرنیٹ مذاق چند دنوں میں ایک بڑے ڈجیٹل کلچر فینومینن میں تبدیل ہو گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK