Inquilab Logo Happiest Places to Work

کمرشیل سلنڈر کا مسئلہ، ہوٹلوں میں پریشانی برقرار

Updated: April 05, 2026, 12:50 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

سپلائی بہتر ہونے کے باوجود ہوٹل والے پی این جی کیلئے درخواست دے رہے ہیں، گزشتہ ۳؍ دنوں میں۴۰۰؍ ہوٹل مالکان نے فارم بھرا ہے، گیس کی کمی سے ممبئی و ریاست کے ۵؍ لاکھ ہوٹلوں کے مالکان کو ۲؍ کروڑ عملے کی کھانے پینے کی ضرورت پوری کرنےمیں شدید دقت۔

Hotel owners filling out an application form for PNG. (Photo: Inquilab)
ہوٹل مالکان پی این جی کیلئے درخواست فارم پُر کرتے ہوئے۔ (تصویر: انقلاب)

مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے شہر ومضافات کی ہوٹل انڈسٹری بحران سے گز ر رہی ہے ۔مطلوبہ کمرشیل سلنڈر کی فراہمی نہ ہونے سے جہاں سیکڑوں ہوٹل بند ہیں وہیں بیشتر ہوٹلوں نے اپنا مینو کم کر دیا ہے ۔ اس دوران گزشتہ ایک ہفتہ میں کمرشیل گیس کی فراہمی میں معمولی بہتری آنے سے ہوٹل والوں کچھ راحت ملی ہے۔ اس کے باوجود ہوٹل ایسوسی ایشن نے ممبئی کے تقریباً ۹؍ہزار ہوٹلوں میں پی این جی لگانے کی کارروائی شروع کر دی ہے ۔ گزشتہ ۳؍ دنوں میں ۴۰۰؍ہوٹل مالکان نے پی این جی کیلئے فارم پُر کئے ہیں ۔ گیس کی قلت سے ابھی بھی ممبئی سمیت مہاراشٹر کے ۵؍لاکھ ہوٹل مالکان کو اپنے تقریباً ۲؍کروڑ عملے کی کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبرا: غیر حاضر بی ایل اوز کی افسر سے شکایت

انڈین ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے صدر وجے شیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ’’ ایران ، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ۲۸؍فروری سے جنگ شروع ہوئی تھی، اس وقت سے ہوٹل والے کمرشیل سلنڈر کی پریشانی سے نبردآزما ہیں ۔جن ہوٹل والوںکو جنگ سے پہلے ہفتہ میں ۱۰؍سلنڈر مل رہاتھا ، انہیں اب صرف ایک سلنڈر مل رہا ہے ۔ جو ہماری مطلوبہ ضرورت سے بہت کم ہے ۔ ایسے میں ہم اپنا کاروبار کیسے چلائیں گے اور اپنے عملےکے کھانے پینے کا انتظام کیسے کریں گے ۔ پورے مہاراشٹر میں ۵؍لاکھ ہوٹل ہیں جن سے براہ راست ۲؍کروڑ عملے کی روزی روٹی جڑی ہے۔ ہوٹل واحد انڈسٹری ہے جہاں عملے کے قیام ، طعام اور کپڑوں کی سہولیات دستیاب ہیں ۔ ‘‘

انہوں نےیہ بھی بتایا کہ ’’ ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کمرشیل سلنڈر کیلئے جس طرح کی افراتفری پھیلی ہے، یہ حقیقی مسئلہ ہے یاپھر کالا بازاری ہے۔۱۹؍کلو کا ایک کمرشیل سلنڈر بلیک میں ۶؍ہزار روپے تک فروخت ہو رہاہے۔ اتنا مہنگا سلنڈر خرید کر کاروبار کیسے کیا جاسکتاہے؟ اس تعلق سے ہم نے حکومت سے بات چیت کی ۔ حکومت نے پی این جی کنکشن فراہم کرنے کاوعدہ کیا ہے لیکن اس میں بھی تکنیکی دشواریاں درپیش ہیں۔ اس کے باوجود ہم نے وڈالا کے اپنے دفتر میںپی این جی کیلئے درخواست فارم پُر کرنے کا اسپیشل کیمپ لگایا ہے ، جہاں مہانگر گیس کے نمائندے تعینات ہیں ۔ وہ پی این جی کیلئے فارم پُر کرنے کی کارروائی مکمل کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: کوئلہ اور لکڑی مہنگی، کیروسین کی قلت سے خواتین پریشان

ایسوسی ایشن کے نائب صدر نتن شیٹی کے مطابق ’’ کمرشیل سلنڈر کی قلت سے جہاں ہمارا کاروبار متاثرہےوہیں اپنے عملے کی کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے میں بھی تکلیف کاسامنا ہے ۔ میرے ہوٹل میں ۴۰؍ افراد کا عملہ ہے ۔ سلنڈر نہ ملنے سے ان کے کھانےپینے کا انتظام کرنے میں گزشتہ ایک مہینے سے بڑی دقت ہو رہی ہے ،لیکن اب سلنڈر کی فراہمی میںبہتری آئی ہے جس کی وجہ سے کچھ راحت ملی ہے ۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’ کمرشیل سلنڈر کی دستیابی سے قطع نظر ہم نے پی این جی کی کارروائی پوری کرنے کافیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طر ح کی صورتحال میں پریشانی نہ ہو ۔ مہانگر گیس کے نمائندے ہماری ایسوسی ایشن کے دفتر میں گزشتہ تین چار دنوں سے پی این جی کیلئے فارم پُر کرنے کی کارروائی مکمل کر رہےہیں ۔ممبئی کے تقریباً ۹؍ہزار ہوٹل والوں میں سے ۴۰۰؍ہوٹل مالکان نےپی این جی کیلئے درخواست دےدی ہے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ گیس کی قلت سے ابھی بھی ممبئی کی ۲۰؍فیصد سے زیادہ ہوٹلیں بند ہیں اور بیشتر جاری ہوٹلوں میں مینو کم کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK