جن ووٹر کا نام ۲۰۰۲ء میں اور موجودہ ووٹر لسٹ میں الگ الگ ہے تو ایسے ووٹروں کو ’انوملی ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: July 20, 2026, 12:29 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
جن ووٹر کا نام ۲۰۰۲ء میں اور موجودہ ووٹر لسٹ میں الگ الگ ہے تو ایسے ووٹروں کو ’انوملی ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
ان دنوں ووٹرلسٹ کی باریکی سے نظر ثانی کا سروے یعنی’ ایس آئی آر ‘ جاری ہے۔ اس ایس آئی آر کے انومریشن فارم پُر کرنے میں ووٹروں کو مختلف دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان ہی میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ کسی ووٹر کا ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں نام تو موجود ہے لیکن اس وقت الیکشن کمیشن کی جانب سے نام لکھنے میں غلطی کر دی گئی تھی، یا موجودہ ووٹر لسٹ میں ووٹر کا نام درج ہے اور وہ ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ سے الگ ہے تو ایسے کئی ووٹر خود سے اپنا ایس آئی آر کروانے جارہے ہیں یا انومریشن بھر کر بی ایل او کے پاس جاتے ہیں اور جب بی ایل او الیکشن کمیشن کے ایپ پر ان کی تفصیل چیک کرنا ہے تو نام میں فرق کے سبب انہیں ’ انوملی‘(Anomaly) ( لفظی معنی ’بے ضابطگی‘) دکھائی دیتا ہے۔
واضح رہے کہ انومریشن فارم میں اگر سیلف میپنگ کروانا ہے تو اوپربائیں جانب کا کالم پُر کرنا ہوتا ہے اور والدہ، والد، گرینڈ پرینٹس :دادا ، دادی ، نانا ، نانی میں سے کسی ایک سے میپنگ کروانا ہوتو ان کی تفصیل اوپر دائیں کالم میں پُر کرنی ہوتی ہے۔ نیچے ووٹرکی موجودہ تفصیل درج کرنی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ہندوتوا کوئی ٹی شرٹ نہیں ہے... جب بھگوا گھٹا تو رام نام رٹنے لگے‘‘
انوملی سے بچنے کاطریقہ
اس مسئلے کے تعلق سے جب انومریشن کا فارم پُر کرنے والے کےماہرین سے بات چیت کی گئی تو انہوںنے بتایاکہ اگر کسی ووٹر کا نام ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میںموجود ہے لیکن اب اس کے نام میں فرق آرہا ہے، مثلاً کسی ووٹر کا پورا نام وسیم ریحان انصاری ہے لیکن ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں اس کا نام وسیم انصاری تھااور جب یہ ووٹر اپنے ہی نام سے میپنگ کرواتا ہے تو الیکشن کمیشن کے ایپ میں اس کا ’انوملی‘ بتاتا تو ایسے ووٹروں کو چاہئے کہ اپنی مپنگ اپنے آپ سے نہ کرتے ہوئے اپنی والدہ یا والد، یا دادا یا دادی یا نانا یا نانی سے کروالیں۔ اسی سے اس کا انوملی ہٹ سکتا ہے۔
ایک مثال
ممبرا میں ایس آئی آر کی رہنمائی کا کیمپ منعقد کرنے والے شاداب خان نے بتایا کہ ’’ممبرا کے ایک ووٹر شاداب عثمانی کا بھی انوملی والا معاملہ تھا۔ چونکہ ان کا نام ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں بھی ہے اور موجودہ ووٹر لسٹ میں بھی ہے، اس لئے انہوںنے ایس آئی آر کیلئے ’سیلف‘ میپنگ کروائی تھی لیکن انومریشن فارم میں ان کی انوملی آئی۔ہم نے ان کے بی ایل او کی مدد سے ان کی میپنگ ان کے والد سے کروائی، اس سے بھی ان کا انوملی ہی آرہا تھا جس کےبعد ہم نے ان کی میپنگ ان کی والدہ سے کروائی جس کے بعد انوملی نکل گئی۔ ‘‘
ایک ویڈیو پیغام میں شاداب عثمانی نے بھی اس کی تصدیق کی اور بتایاکہ’’ میرے گھر کےتمام افراد کو بغیر انوملی کے فارم قبول ہو گیا تھا لیکن میرے فارم میں یہ مسئلہ ہو گیا لیکن اس رہنمائی کےبعد یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پیداوار میں کمی آنے سےشہرو مضافات میں انڈے کی قیمت میں اضافہ، عام صارف متاثر
شاداب خان نے مشورہ دیا کہ’’ اگر کسی ووٹر کا انوملی آرہا ہے تو وہ اپنی والدہ یا والد یا دادا یا دادی یا نانا یا نانی سے میپنگ کرواکر دیکھیں۔ امکان ہے کہ انوملی نکل جائے اور کوئی دستاویز نہ دینا پڑے۔‘‘
کیا ہوگا اگر انوملی ہی فارم پُر کیا جائے؟
ماہرین کے مطابق اگر کوئی ووٹر ایس آئی آر کے انومریشن فارم میں ’انوملی‘ ریمارک کے باوجود وہی فارم جمع کرے گا تو انومریشن فارم پر کرنے کی مدت ختم ہوجانے کے بعد ووٹر کومتعلقہ الیکشن آفیسر کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا جائے گااور ضروری دستاویز منگوائے جائیں گے۔