سرکاری ایجنسیوں ، تاجروں اور تقسیم کاروں پر شکرکی وصولی کی تاریخ سے ۳۰؍ دن سے زیادہ کیلئے ذخیرہ اندوزی اور ایک وقت میں شکرکا ۴؍ہزارکوئنٹل سے زیادہ ذخیرہ رکھنے پرسختی سے پابندی۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 2:47 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
سرکاری ایجنسیوں ، تاجروں اور تقسیم کاروں پر شکرکی وصولی کی تاریخ سے ۳۰؍ دن سے زیادہ کیلئے ذخیرہ اندوزی اور ایک وقت میں شکرکا ۴؍ہزارکوئنٹل سے زیادہ ذخیرہ رکھنے پرسختی سے پابندی۔
ریاست میں شکر کی قلت اور قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کیلئے حکومت نے سرکاری ایجنسیوں کے علاوہ شکر کے تاجروں یا تقسیم کاروں پر اسٹاک کی وصولی کی تاریخ سے ۳۰؍ دن سے زیادہ کیلئے ذخیرہ اندوزی پر پابندی عائد کر دی ہےساتھ ہی ایک وقت میں شکر کا ۴؍ہزارکوئنٹل (۴۰۰؍میٹرک ٹن) سے زیادہ ذخیرہ رکھنے پر بھی سختی سے پابندی لگا دی ہے ۔ فوڈ،سول سپلائز اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے ریاست میں شکر فیکٹریوں، تاجروں، تقسیم کاروں کے شکر کے اسٹاک کی ذاتی طور پر تصدیق کرنے کیلئے خصوصی جامع معائنہ مہم بھی شروع کیا ہے۔ مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق عائدکی گئی یہ سخت پابندیاں ۳۰؍ نومبر ۲۰۲۶ء تک نافذ رہیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایم پی ایس سی امتحان میں عمدہ کارکردگی والے طلبہ سے پوچھ تاچھ
تقسیم کاروں کیلئے نئی پابندیاں اور حدود
بڑے صنعتکار جو ماہانہ ۱۰؍ میٹرک ٹن سے زیادہ شکر پیداوار کیلئے یا خام مال کے طور پر استعمال کرتے ہیں ، انہیں ۱۵؍ دن سے زیادہ شکر ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ پورٹل پر رجسٹریشن اور ہفتہ وار اپ ڈیٹ لازمی ہیں۔تمام شکر فروخت کنندگان، تقسیم کاروں اور بڑے تاجروں کیلئے لازمی ہے کہ وہ فوری طور پر فوڈ اسٹاک مانیٹرنگ پورٹل پر خود کو رجسٹر کرائیں اور اپنے موجودہ اسٹاک کی تفصیلات فراہم کریں ۔ہر جمعہ کو پورٹل پر اسٹاک کی تازہ ترین معلومات کو لازمی طور پر اپ لوڈ کرنا ہوگا۔ پورٹل پر اندراج نہ کرنے یا غلط معلومات فراہم کرنا ایک سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔ ان قواعد اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ضروری اشیاء ایکٹ ۱۹۵۵ء کے تحت فوجداری کارروائی کی جائے گی ۔
واضح رہے کہ شکر کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔اس کے سبب ان میں شدید ناراضگی بھی پائی جارہی ہے ۔ شکر کے دام بڑھنے سے چائے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایم پی ایس سی پیپر لیک معاملہ ایک ناکام عاشق کی شکایت پر روشنی میں آیا
ضلعی سطح کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل
اس تعلق سے ضلعی سطح پر مضبوط اور فعال ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گوداموں کا خود دورہ اور اسٹاک کا معائنہ کریں گی۔ خصوصی ٹیمیں ممبئی اور تھانے حلقے کیلئے راشن ڈسٹری بیوشن کنٹرولرس کی قیادت میں کام کرتی رہیں گی۔
گوداموں پر چھاپے مارے جائیں گے
معائنہ کرنے والی ٹیمیں ذاتی طور پر گوداموں کا دورہ کرکے شکر کے تھیلوں کی گنتی کریں گی۔ تاجروں کے خرید و فروخت کے ریکارڈ، جی ایس ٹی ریٹرن، ٹرانسپورٹ انوائسز اور پورٹل پر اعلان کردہ اسٹاک کی اچھی طرح سے تصدیق کی جائے گی۔اگر اسٹاک میں تضاد یا ہدایت کی خلاف ورزی پائی گئی تو جائے وقوع کی تصویر لے کر شواہد اکٹھے کئے جائیں گے اور خاطیوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔