Updated: August 29, 2026, 10:05 PM IST
| Tunis
’تیونسین آرگنائزیشن آف ینگ ڈاکٹرز‘ نے کہا کہ ملک بھر میں اسپتالوں کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس میں ہیٹ اسٹروک اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے اموات اور اسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں ”بے مثال اضافہ“ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مشرقی شہر صفاقس کے حبیب بورگیبہ اسپتال میں ۲۴ گھنٹوں کے اندر ۱۳ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ تیونسی حکام نے ابھی تک گرمی سے متعلق اموات کے سرکاری اعداد و شمار شائع نہیں کئے ہیں۔
تیونس میں اس موسمِ گرما میں ملک کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید ہیٹ ویو کے دوران تیونس بھر کے اسپتالوں میں متعدد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اس تناظر میں سنیچر کے روز ڈاکٹروں کے ایک آزاد گروپ نے ”ہیلتھ ایمرجنسی“ کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ ’تیونسین آرگنائزیشن آف ینگ ڈاکٹرز‘ نے کہا کہ ملک بھر میں اسپتالوں کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس میں ہیٹ اسٹروک اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے اموات اور اسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں ”بے مثال اضافہ“ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کچھ اموات خود ایمرجنسی ڈپارٹمنٹس کے اندر ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ہزاروں مریض فوری طبی منتقلی کے منتظر، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا اظہار تشویش
تیونسین آرگنائزیشن آف ینگ ڈاکٹرز نے مزید کہا کہ ڈاکٹرز اور نرسیں ”نظام صحت کی گنجائش سے زائد دباؤ کے تحت شدید تھکن“ کا سامنا کر رہے ہیں۔ تنظیم نے نشان دہی کی کہ وزارتِ صحت کے متعلقہ محکموں نے اموات، ہیٹ اسٹروک کے معاملات اور انتہائی نگہداشت کے وارڈز (ICU) کی گنجائش سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے، لیکن ابھی تک سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹرز آرگنائزیشن کے سربراہ وجیہہ ذاکر نے جمعہ کی شام فیس بک پر بتایا کہ گروپ نے مشرقی شہر صفاقس کے حبیب بورگیبہ اسپتال میں ۲۴ گھنٹوں کے اندر ۱۳ اموات ریکارڈ کی ہیں۔ تیونسی حکام نے ابھی تک گرمی سے متعلق اموات کے سرکاری اعداد و شمار شائع نہیں کئے ہیں۔
واضح رہے کہ افریقی ملک تیونس بدھ کے روز سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جس نے ملک کے بیشتر حصوں کو متاثر کیا ہے۔ تیونسین آبزرویٹری آف ویدر اینڈ کلائمیٹ کے مطابق، وسطی شہر قیروان میں درجہ حرارت ۸ء۴۹ ڈگری سینٹی گریڈ (۶ء۱۲۱ ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا، جس سے یہ ایران کے شہر مہران کے بعد دنیا کا دوسرا گرم ترین شہر بن گیا۔ ایرانی شہر میں ۵۰ ڈگری سینٹی گریڈ (۱۲۲ ڈگری فارن ہائیٹ) درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تیونس کے چھ شہر قیروان، باجہ، جندوبہ، قابس، توزر اور زغوان دنیا کے ۲۰ گرم ترین مانیٹرنگ اسٹیشنوں میں شامل رہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد ۶۰۰؍ سے تجاوز، ہزاروں افراد لاپتہ
ہیٹ ویو کے دوران `تیونسین کمپنی آف الیکٹرسٹی اینڈ گیس کی جانب سے کئی علاقوں میں بجلی کی عارضی کٹوتی بھی کی گئی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ بجلی کے نظام کے تحفظ اور پائیداری کو برقرار رکھنے کیلئے یہ اقدام ضروری تھا۔ تیونس کے صدر قیس سعید نے جمعرات کو بیان دیا کہ دارالحکومت تیونس سمیت مختلف علاقوں میں پانی اور بجلی کی طویل بندش، جو بعض اوقات ۱۰ گھنٹے سے بھی تجاوز کر جاتی ہے، کو محض عارضی واقعات یا الگ تھلگ معاملات قرار نہیں دیا جا سکتا۔