Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگو: ایبولا وبا بے قابو، ایک دن میں ۷۲؍ نئے کیسز، اموات ۱۸۱؍ تک پہنچ گئیں

Updated: June 15, 2026, 9:57 PM IST | Brazzaville

ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، جہاں گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران ۷۲؍ نئے تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو ایک دن میں سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق مجموعی کیسز کی تعداد ۷۸۲؍ تک پہنچ گئی ہے جبکہ اموات بڑھ کر ۱۸۱؍ ہو گئی ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی تازہ وبا تشویشناک رفتار سے پھیل رہی ہے۔ وزارت صحت نے اتوار کی شب جاری کردہ تازہ صورتحال رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران ۷۲؍ نئے تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں، جو وبا کے آغاز کے بعد ایک ہی دن میں رپورٹ ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ وزارت کے مطابق ۱۵؍ مئی کو بنڈی بوگیو ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کا اعلان کیے جانے کے بعد سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر ۷۸۲؍ ہو گئی ہے۔ تازہ ترین اضافے کے بعد اموات کی تعداد بھی ۱۸۱؍ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ شرح اموات ۲۱؍ فیصد سے بڑھ کر ۱ء۲۳؍ فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غلافِ کعبہ: ۱۱؍ ماہ میں تیار ہوا نیا کسوہ، عبدالرحیم امین بخاری کلیدی ڈیزائنر

صحت حکام کے مطابق نئے کیسز میں سب سے زیادہ اضافہ صوبہ اٹوری میں دیکھا گیا، جہاں ایک ہی دن میں ۵۶؍ نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ اٹوری ہی اس وبا کا بنیادی مرکز سمجھا جا رہا ہے۔ وزارت صحت نے وضاحت کی کہ کیسز میں حالیہ اضافہ بڑی حد تک کمیونٹی کی سطح پر نگرانی کے نظام کو فعال بنانے کا نتیجہ ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’کیسز کی زیادہ تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقامی آبادی مشتبہ مریضوں کی اطلاع دے رہی ہے اور ہماری ٹیمیں فوری تحقیقات کر رہی ہیں۔‘‘ حکام کے مطابق وبا اب مزید دو نئے ہیلتھ زونز تک پھیل گئی ہے۔ ان میں صوبہ اٹوری کا نیا-نیا (Nia-Nia) اور شمالی کیوو کا مابالاکو (Mabalako) شامل ہیں۔ ان نئے متاثرہ علاقوں کے بعد تین صوبوں میں متاثرہ ہیلتھ زونز کی مجموعی تعداد ۳۱؍ تک پہنچ گئی ہے، جس سے وبا کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ وبا کے آغاز سے اب تک تقریباً ۴۰؍  افراد مکمل صحت یاب بھی ہو چکے ہیں، تاہم نئے علاقوں میں وائرس کی منتقلی نے صحت حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ نئے متاثرہ علاقوں میں فوری ردعمل کے تحت طبی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں اور نگرانی، تشخیص، علاج اور رابطہ ٹریسنگ کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔ تاہم وبا سے نمٹنے کی کوششوں کو کئی سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق ایبولا ردعمل کے لیے درکار وسائل میں تقریباً ۵ء۲۱؍ ملین ڈالر کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ ایبولا علاجی مراکز میں گنجائش محدود ہے، رابطہ ٹریسنگ کا نظام کمزور ہے اور انفیکشن کی روک تھام کے لیے ضروری حفاظتی سامان کی بھی کمی پائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا اعلان

افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (افریقہ سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر جنرل جین کاسیا نے کہا ہے کہ ادارہ وبا پر قابو پانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں تکنیکی ماہرین تعینات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق لیبارٹری نظام کو مضبوط بنانے، فعال کیس تلاش کرنے اور مقامی آبادی کی شمولیت بڑھانے کے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں۔ جین کاسیا نے کہا کہ ’’ہم متاثرہ ممالک کی اس وقت تک مدد کرنے کے لیے پرعزم ہیں جب تک وائرس کی منتقلی مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتی۔‘‘ انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں اور عطیہ دہندگان سے فوری مالی اور تکنیکی امداد فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جانیں بچانے اور وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے وسائل کی فوری فراہمی ناگزیر ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو وائرس مزید علاقوں میں پھیل سکتا ہے، جس سے وسطی افریقہ میں ایک بڑے صحت عامہ کے بحران کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK