پارٹی کے ایک وفد نے ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں ریاست کے چیف الیکشن آفیسر سے ملاقات کی۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 1:26 PM IST | Mumbai
پارٹی کے ایک وفد نے ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں ریاست کے چیف الیکشن آفیسر سے ملاقات کی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کے حوالے سے مختلف مقامات پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اطلاع کے مطابق بعض مقامات پر مخصوص ذاتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کے نام مبینہ طور پر فہرستوں سے خارج کئے جا رہے ہیں، جبکہ کچھ ریاستوں میں انتخابات سے قبل چلائی گئی اس مہم میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر کانگریس پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مہاراشٹر میں اس عمل کو مکمل غیرجانبداری اور شفافیت کیساتھ نافذ کیا جائے۔
مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال کی قیادت میںایک وفد نے ریاست کے چیف الیکشن افسر ایس چوکالنگم سے ملاقات کی اور انہیں ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اس موقع پر وجے ویڈیٹیوار، عارف نسیم خان، سچن ساونت، سندیش کونڈویلکر اور ابھیجیت سپکال سمیت کئی لیڈران بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کی ہدایت سے سی ٹی ای ٹی پاس کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مہاراشٹر میں ۲۰۰۲ء سے ۲۰۰۴ءکے دوران ایس آئی آر کا عمل بغیر کسی جلدبازی کے تقریباً ۱۳؍ ماہ میں مکمل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ۲۵؍ برس بعد جب یہ عمل دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے تو ووٹروں کی تعداد میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ کا اضافہ ہو چکا ہے، جسے مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جانی چاہئے۔سپکال نے واضح کیا کہ ریاست میں آئندہ دو تین برس تک کوئی بڑا انتخاب متوقع نہیں ہے، اسلئے اگر یہ عمل ڈیڑھ سے دو سال میں مکمل کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے مطابق مناسب وقت دینے سے عوام کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا نہیں ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری اور ایس آئی آر کا عمل ایک ہی افسر یا ملازم کے ذریعے نہیں کروایا جانا چاہئے۔ نیز سیاسی پارٹیوں کو کو ایس آئی آر کی سافٹ کاپی، او سی آر یا مشین ریڈیبل فارمیٹ کے ساتھ ساتھ ہارڈ کاپی بھی فراہم کی جائے۔ اسی طرح اعتراض درج کروانے اور نوٹس کا جواب دینے کیلئے کم از کم ایک ماہ کا وقت دینا چاہئے۔