Updated: July 30, 2026, 8:02 PM IST
| Washington
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر ایران کو امریکی فوجی اڈوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اردن سمیت بعض مقامات پر تعینات فوجیوں سے جلد موبائل فون واپس لیے جا سکتے ہیں، تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ فی الحال کوئی حتمی حکم جاری نہیں ہوا اور یہ معاملہ آپریشنل سیکوریٹی کے تناظر میں زیر غور ہے۔
ایڈمرل بریڈ کوپر۔ تصویر: ایکس
امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں تعینات اپنے اہلکاروں کے موبائل فون کے استعمال پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ فوجیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز ایران کو امریکی فوجی تنصیبات اور حملوں کے نتائج کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کر سکتی ہیں، جنہیں بعد میں مزید حملوں کی منصوبہ بندی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ۲۸؍ جولائی کو فوجیوں کے نام ایک خط میں لکھا کہ ایران خبروں، صحافیوں کی رپورٹس اور خاص طور پر امریکی فوجیوں کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اپنے حملوں کے نتائج کا تقریباً فوری اندازہ لگا لیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کسی مضبوط سیاسی عمل کے بغیر غزہ کی تعمیرنو کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا
ایڈمرل کوپر نے اپنے خط میں کہا کہ ’’اوپن سورس انٹیلی جنس کی یہ معلومات براہِ راست امریکی فوجیوں اور خلیجی ممالک میں رہنے والے شہریوں کی جانوں کی قیمت پر حاصل ہو رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے فوجیوں پر زور دیا کہ وہ ’’آپریشنل سیکوریٹی پر پہلے سے بھی زیادہ توجہ دیں‘‘ تاکہ حساس معلومات غیر ارادی طور پر دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ رپورٹ کے مطابق اردن میں تعینات بعض امریکی فوجیوں کو زبانی طور پر بتایا گیا ہے کہ آئندہ چند روز میں ان سے موبائل فون واپس لیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ایک اور ذریعے نے کہا کہ اس بارے میں غور کیا جا رہا ہے اور ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز نے اس حوالے سے کہا کہ ’’یہ پیغام ہمارے فوجیوں کو آپریشنل سیکوریٹی کی اہمیت یاد دلانے کے لیے ایک عمومی ہدایت ہے۔ یہ ایڈمرل کوپر کی جانب سے آپریشنل ترجیحات واضح کرنے کے کئی اقدامات میں سے ایک ہے۔‘‘
رپورٹ میں ایک حالیہ واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں ایک امریکی فوجی نے میٹا اسمارٹ گلاسیز کے ذریعے ایران کے میزائل اور ڈرون حملے کے دوران اردن کے مووفق السلطی ایئر بیس پر بنکر کی طرف بھاگتے ہوئے اپنی ویڈیو ریکارڈ کی اور بعد میں اسے انسٹاگرام پر شیئر کر دیا۔ ایڈمرل کوپر کے مطابق ایسی ویڈیوز دشمن کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ حملہ کہاں اور کس حد تک کامیاب رہا۔ خط میں مزید کہا گیا کہ ’’ایران جانتا ہے کہ اس نے ہتھیار داغے ہیں، لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ۵۰؍ میٹر دور گرے، خالی رن وے پر لگے یا کسی مصروف مقام کو نشانہ بنایا۔ عوامی طور پر شائع ہونے والی تفصیلی معلومات دراصل ایران کو مفت میں Battle Damage Assessment فراہم کرتی ہیں۔امریکی فوج کئی برسوں سے اپنے اہلکاروں کو موبائل فون اور دیگر ڈجیٹل آلات سے حاصل ہونے والے لوکیشن ڈیٹا کے خطرات سے آگاہ کرتی رہی ہے۔ ماضی میں بھی فٹنس ایپس اور دیگر موبائل اپلی کیشنز کے ذریعے فوجی تنصیبات کی حساس معلومات افشا ہونے کے خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان: زلزلے کے بعد شاپنگ مال میں خوفناک دھماکہ، سیکڑوں افراد دب گئے
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ۲۸؍ فروری سے اب تک ۱۸؍ امریکی فوجی ہلاک اور ۶۰۰؍ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کے بعد امریکی فوج میں آپریشنل سیکوریٹی کے اقدامات مزید سخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ موبائل فون پر ممکنہ پابندی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے۔