Inquilab Logo Happiest Places to Work

کسی مضبوط سیاسی عمل کے بغیر غزہ کی تعمیرنو کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا

Updated: July 30, 2026, 10:49 AM IST | New York

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور امدادی رابطہ کار رامز الاکباروف کے مطابق غزہ کی صورتحال مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دیگر حصوں میں پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین کر رہی ہے۔

Israeli attacks on Gaza continue. (Photo: AP/PTI)
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔( تصویر:اےپی / پی ٹی آئی)

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ کسی مضبوط سیاسی عمل کے بغیر غزہ کی تعمیرنو کو پائیدار بنیاد پر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ جب تک غزہ تباہ حال رہے گا، مغربی کنارے میں تشدد بڑھتا رہے گا، فلسطینی ادارے منقسم رہیں گے اور سلامتی کی صورتحال بگڑتی رہے گی، اس وقت تک کوئی سیاسی عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور امدادی رابطہ کار رامز الاکباروف نے کونسل کو غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے حالات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی صورتحال مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دیگر حصوں میں پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین کر رہی ہے۔ اگر ان حالات میں فوری تبدیلی نہ لائی گئی تو وسیع تر تصادم کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: زلزلے کے بعد شاپنگ مال میں خوفناک دھماکہ، سیکڑوں افراد دب گئے

انہوں نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لئے جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳؍ (۲۰۲۵) پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔رامز الاکباروف نے غزہ کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حالات میں قدرے بہتری آئی ہے لیکن پیش رفت کی رفتار اب بھی نہایت سست ہے۔ شدید انسانی مصائب اور مشکلات کے باوجود غزہ کے فلسطینی اپنی زندگیاں دوبارہ سنوارنے کے لئے نہایت حوصلے اور عزم کے ساتھ عملی اقدامات کر رہے ہیںلیکن ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کی ثابت قدمی بڑے پیمانے پر درکار تعمیراتی اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کا متبادل نہیں بن سکتی جس پر اسرائیل نے پابندیاں عائد کی ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں اضافے اور اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں کی توسیع نے شہری آبادی پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے اور اب لوگ غزہ کے صرف ایک تہائی علاقے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ: پناہ کے متلاشیوں کو براہ راست ڈیپورٹیشن کورٹ میں بھیجا جا سکتا ہے

رامز الاکباروف نے خبردار کیا کہ اگر مغربی کنارے میں جاری خطرناک صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو غزہ میں ایک قابل عمل مستقبل کی تعمیر ممکن نہیں ہو گی۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مغربی کنارے میں بڑھتے تشدد کے باعث شہری ہلاکتیں، عوام کی بے دخلی، املاک کے نقصان اور متاثرہ علاقوں میں عدم تحفظ بڑھ گیا ہے۔فلسطینی آبادیوں، گھروں، عبادت گاہوں اور شہری تنصیبات پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے جاری ہیں جبکہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ آبادکاروں کے تشدد کی روک تھام، فلسطینیوں کے تحفظ اور تشدد کے ذمہ دار تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے فوری اور موثر اقدامات کرے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینیوں کے علاقے میں تمام اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں۔الاکباروف نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی محصولات مسلسل روکے جانے کے باعث فلسطینی اتھاریٹی کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث اتھاریٹی تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی اور اپنے ملازمین کو مکمل تنخواہیں ادا کرنے سے بھی قاصر ہے۔

انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ۲۸؍ نومبر کو ہونے والے فلسطینی قانون ساز ادارے کے مجوزہ انتخابات کے انعقاد کیلئے سازگار ماحول پیدا کریں تاکہ تمام اہل فلسطینی ووٹر اپنی رائے کا آزادانہ استعمال کر سکیں۔ مغربی کنارے میںتشدد پر قابو پانے، فلسطینی اتھاریٹی کی مدد کرنے اور اسے غزہ کا انتظام سنبھالنے کے قابل بنانے کیلئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK