• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ڈی جے فری‘ گنپتی کی تجویز پیش کرنے والے سماجی کارکن کو میٹنگ سے نکالا گیا

Updated: September 01, 2026, 4:22 PM IST | Agency | Pune

پونے میونسپل کارپوریشن میں گنپتی کی تیاریوں کے تعلق سے منعقدہ میٹنگ میں ودیانند باپٹ نے صوتی آلودگی پر قدغن لگانے پر زور دیا تھا۔

Vidyananda Bapat. Picture: INN
ودیانند باپٹ۔ تصویر: آئی این این

گنیش اتسو کے دوران ڈی جے کا استعمال عام بات ہے۔ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے شور شرابے کے خلاف کئی سماجی کارکن آواز بھی اٹھاتے ہیں۔ پونے کے ودیانند باپٹ بھی انہی میں سے ایک ہیں جو صوتی آلودگی پر قدغن لگانے کیلئے تہواروں میں ڈی جےکے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی وکالت کرتے ہیں لیکن پیرکے روز انہیں پونے میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں ہوئی میٹنگ کے دوران گنپتی منڈلوں کی میٹنگ سے نکال باہر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کیخلاف ایف آئی آر پر کانگریس سخت برہم، ملک گیر مظاہرہ

 اطلاع کے مطابق پیر کو پونے میونسپل کمشنر کے دفتر میں گنیش اتسو کی تیاریوں کے تعلق سے ایک میٹنگ بلائی گئی تھی جس میں میونسپل اور پولیس افسران کے علاوہ شہر کے گنپتی منڈلوں کے عہدیدار نیز سماجی کارکنان شریک تھے۔ اس میٹنگ میں سماجی کارکن ودیانند باپٹ بھی موجود تھے جو سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم سے صوتی آلودگی کم کرنے کی خاطر تہواروں میں ڈی جے بجانے پر پابندی کی سفارش کرتے ہیں۔ میٹنگ کے دوران جب انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اس بار گنپتی کو ’ ڈی جے فری ‘ ہونا چاہئے تو وہاں موجود گنپتی منڈلوں کے عہدیدار ناراض ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہوار منانا ہمارا بنیادی حق ہے۔ اس پر ودیانند نے انہیں سمجھا یا کہ ’تہوار منانا آپ کا بنیادی حق نہیں بلکہ خصوصی حق ہے۔ بنیادی حق وہ ہوتا ہے جس کے بغیر آپ جی نہ سکیں۔ تہوار منانا کوئی ایسا امر نہیں ہے کہ جس کے بغیر آپ زندہ نہ رہ سکیں۔ ‘‘ ان کی اس دلیل پر وہاں موجود دیگر لوگ ناراض ہو گئے اور ودیانند کو وہاں سے چلے جانے کیلئے کہا۔ مجبوراً ودیانند کو میٹنگ چھوڑ کر جانا پڑا۔ 

یہ بھی پڑھئے: تیز طرار آئی اے ایس افسر دیویا متل نے محض ۱۳؍ سال میں استعفیٰ کیوں دیا؟

یاد رہے کہ ۳۷؍ سالہ ودیانند بی پی او میں کام کرتے ہیں اور پونے کے نارائن پیٹھ میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نارائن پیٹھ ایک قدیم علاقہ ہے جہاں گنجان آبادی ہے۔ گنپتی کے ۱۰؍ دنوں میں یہاں معمولات زندگی ٹھپ رہتی ہے اور ڈی جے کی وجہ سے شور شرابہ رہتا ہے۔ گنپتی منڈپوں کے سبب راستے بند ہوتے ہیں۔ آخری دو دنوں میں تو نجی گاڑیاں چلانے پر پابندی ہوتی ہے۔ لوگ صرف پیدل چل سکتے ہیں۔ اس پرگنپتی منڈلوں کے عہدیداروں سے ان کی بحث ہو گئی اور انہیں میٹنگ سے باہر جانے کیلئے کہا گیا۔ حالانکہ پونے کے سماجی حلقوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ودیانند کو کافی حمایت مل رہی ہے اور ان کے انٹرویو بھی لئے جا رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK