Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی کانگریس میں متنازع’’ممدانی ایکٹ‘‘ پیش، امیگریشن پالیسی پر نئی بحث

Updated: April 22, 2026, 10:17 PM IST | New York

انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکنِ کانگریس چِپ رائے نے ایک نیا متنازع بل پیش کیا ہے جسے ’’ممدانی ایکٹ‘‘ کہا جا رہا ہے۔ اس بل کے تحت امریکی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ مخصوص نظریات سے وابستہ افراد کو ملک میں داخلے سے روک سکے، ان کی شہریت منسوخ (ڈی نیچرلائزیشن) کر سکے یا انہیں ملک بدر کر سکے۔

Chip Roy is known for spewing venom against Muslims. Photo: INN
چِپ رائے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے کیلئے مشہور ہیں۔ تصویر: آئی این این

انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکنِ کانگریس چِپ رائے نے ایک نیا متنازع بل پیش کیا ہے جسے ’’ممدانی ایکٹ‘‘ کہا جا رہا ہے۔ اس بل کے تحت امریکی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ مخصوص نظریات سے وابستہ افراد کو ملک میں داخلے سے روک سکے، ان کی شہریت منسوخ (ڈی نیچرلائزیشن) کر سکے یا انہیں ملک بدر کر سکے۔ ان نظریات میں ’’مارکسزم، سوشلزم، کمیونزم یا اسلامی بنیاد پرستی‘‘ شامل ہیں۔ رائے کے دفتر کے مطابق، اس قانون سازی کا باضابطہ نام ’’میژرز اگینسٹ مارکسزمز ڈینجرس اڈہیرنٹس اینڈ نوکسس اسلامِسٹس (MAMDANI) ایکٹ‘‘ ہے۔ اس کا مقصد امیگریشن قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانا ہے، جن کے تحت کسی بھی ایسے غیر ملکی کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے، اس کی شہریت منسوخ کی جا سکتی ہے یا اسے امریکہ میں داخلے یا شہریت سے محروم کیا جا سکتا ہے، جو کسی سوشلسٹ پارٹی، کمیونسٹ پارٹی، چینی کمیونسٹ پارٹی یا کسی اسلامی بنیاد پرست جماعت کا رکن ہو یا ان نظریات کی حمایت کرتا ہو۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں مجسمۂ مسیح کی بے حرمتی، دو اسرائیلی فوجیوں کو جیل

رائے نے اس قانون کو قومی سلامتی کا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایسے افراد کو نشانہ بنانا ہے جو امریکی اقدار کو شریک نہیں کرتے اور نظریاتی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس بل کا نام نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کے حوالے سے رکھا گیا ہے، جو ایک ترقی پسند مسلم سیاستداں اور جمہوری سوشلسٹ ہیں۔ وہ یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور ۲۰۱۸ء میں امریکی شہریت حاصل کی۔ رائے اس سے قبل ممدانی کے سیاسی عروج کو اس قانون سازی کے جواز کے طور پر پیش کر چکے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں رائے نے کہا:’’ہم ایسے لوگوں کو کیوں لا رہے ہیں جو ہم سے نفرت کرتے ہیں ؟ صرف پچھلے چھ سال نہیں بلکہ پچھلے ساٹھ سالوں سے ہمارا امیگریشن نظام بدنیتی سے استعمال ہو رہا ہے تاکہ امریکی کارکنوں کو نقصان پہنچایا جائے اور تیسری دنیا سے لوگوں کی بڑے پیمانے پر آمد کو ترجیح دی جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز امریکہ کےکنٹرول میں، کسی جہاز کو ایرانی بندرگاہ جانے کی اجازت نہیں

رائے کو مسلمانوں کے خلاف سخت بیانات اور مؤقف کے باعث بارہا تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ ماہ انہوں نے ایکس پر’’اب مزید مسلمان نہیں ‘‘لکھاجس پر ریاست بھر میں مسلم کمیونٹیز کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ وہ ڈیلاس-فورٹ ورتھ کے علاقے میں ایسٹ پلانو اسلامک سینٹر سے منسلک ایک مجوزہ ہاؤسنگ منصوبے کے بھی مخالف رہے ہیں اور دیگر ٹیکساس ریپبلکنز کے ساتھ مل کر’’شریعت قانون‘‘سے متعلق خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ اس مجوزہ قانون کے تحت، تارکینِ وطن کو استثنا دیا جا سکتا ہے اگر وہ یہ ثابت کر دیں کہ مذکورہ نظریات کی حمایت انہوں نے۱۴؍ سال کی عمر کے بعد ترک کر دی تھی۔ بل میں ’’اسلامی بنیاد پرست جماعتوں ‘‘کے زمرے میں خاص طور پر مسلم برادرہڈ، داعش، النور پارٹی، حماس، حزب اللہ، بوکو حرام اور الشباب جیسے گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز بند ہونے سے ایران کو روزانہ ۵۰؍ کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان: ٹرمپ

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، ۲۰۱۷ء تک امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً۳۴؍ لاکھ۵۰؍ ہزار تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کے تجزیے کے مطابق، ۲۰۲۵ء کے آغاز سے اب تک تقریباً۱۰۰؍ ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے سوشل میڈیا پر اسلام یا مسلمانوں کے بارے میں پوسٹس کی ہیں، جن میں تقریباً تمام منفی نوعیت کی تھیں۔ ان میں سے دو تہائی پوسٹس میں ’’انتہاپسند اسلام‘‘، ’’شریعت قانون‘‘، دہشت گردی یا شدت پسندی جیسے موضوعات کا ذکر کیا گیا۔ اسی تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ قانون سازوں نے مسلمانوں کو ملک بدر کرنے یا اسلامی ممالک سے امیگریشن پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ٹیکساس کے قانون ساز اس حوالے سے سب سے زیادہ سرگرم رہے، جہاں چِپ رائے نے اس سال اسلام سے متعلق۱۰۰؍سے زائد پوسٹس کیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK