مختلف سو سائٹیوں میں بی ایم سی نے بکروں کو ضبط کیاجس سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی، مسلمانوں میں بے چینی ۔
گھاٹکوپر کی ساگر پارک سوسائٹی۔ تصویر:آئی این این
میرا روڈ میں شرپسندوں کی اشتعال انگیزی کے اگلے ہی دن بدھ کو ممبئی کے ۳؍ علاقوں گھاٹکوپر ، وڈالا اور گوریگاؤں میں اسی معاملہ پر تنازع ہوا جس کے بعد وڈالا کے قدوائی نگر سے متعدد بکروں کو بی ایم سی نے ضبط کر لیا۔ گھاٹکوپر میں بی ایم سی کی جانب سے سوسائٹی کے کمپاؤنڈ میں ذبح کرنے کی جو اجازت دی گئی تھی اسے واپس لے لیا گیا۔ اس سلسلے میں معتبر ذرائع موصولہ معلومات کے مطابق وڈالاکے قدوائی نگر کے نیپرول ٹاور کےمکین قربانی کے لئے بکرے خرید کر لائے تھے اور ان کے لئے ایک عارضی شیڈ بنایا تھا لیکن بدھ کو بی ایم سی کے افسران یہ کہتے ہوئے سوسائٹی میں پہنچے کہ انہیں سوسائٹی میں بنائے گئے عارضی شیڈ اور یہاں بکروں کی قربانی پر اعتراض ہے اور انہوںنے شکایت کی ہے۔ اسی شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے بی ایم سی نے اپنی وین میں بکروں کو ضبط کر لیا تھا۔اسی کے ساتھ بکروں کو رکھنے کیلئے بنائے گئے شیڈ کو بھی پوکلین کی مدد سے توڑ دیا گیا ۔
اسی دوران گھاٹکوپر کی ساگر پارک ہاؤسنگ سوسائٹی کے احاطے سے بکروں کے خلاف چند مکینوں نے شکایت کی تھی جس کے بعد بی ایم سی کے افسران اور پولیس انہیں ہٹانے پہنچے۔شکایت کنندگان نے الزام لگایا کہ تقریباً۲۵؍ بکرے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سے اجازت کے بغیر قربانی کیلئے سوسائٹی میں لائے گئے تھے۔
گوریگاؤں میں بھی اعتراض
کالونی احاطے میں بکروں کی قربانی سے متعلق سیٹلائٹ گارڈن فیز۲؍، گوکلدھام علاقے، گوریگاؤں میں کشیدگی کے بعد، ڈندوشی پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر مہیندر شندے کا کہنا ہےکہ ’’بکروں کو ذبح کرنے کی اجازت کو بی ایم سی نے منسوخ کر دیا ہے۔ اب بی ایم سی کی ہدایت کے مطابق بکروںکی قربانی کی جائے گی۔‘‘اس طرح کی کارروائیوں سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔