Updated: July 26, 2026, 7:04 PM IST
| Mumbai
ممبئی انڈینس کے آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا کے چنئی سپر کنگز میں ممکنہ تبادلے کی خبروں نے آئی پی ایل کی سب سے بڑی ٹریڈز میں سے ایک کی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں دو ممکنہ فارمولے سامنے آئے ہیں، تاہم دونوں فرنچائزز نے اب تک کسی بھی معاہدے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ہاردک پانڈیا۔ تصویر:آئی این این
ممبئی انڈینس کے آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا کے چنئی سپر کنگز میں ممکنہ تبادلے کی خبروں نے آئی پی ایل کی سب سے بڑی ٹریڈز میں سے ایک کی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں دو ممکنہ فارمولے سامنے آئے ہیں، تاہم دونوں فرنچائزز نے اب تک کسی بھی معاہدے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دی اوڈیسی ‘‘ نے ویک اینڈ پر پھر رفتار پکڑ لی، ۹؍دن میں ہالی ووڈ فلم کی شاندار کمائی
رپورٹس کے مطابق ممبئی انڈینس ہاردک پانڈیا کے بدلے شیوم دوبے اور آیوش مہاترے کو اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب ایک اور تجویز کے مطابق چنئی سپر کنگز آیوش مہاترے کو چھوڑنے کے حق میں نہیں ہے اور اس کے بجائے شیوم دوبے، ڈیوالڈ بریوس اور اضافی ۱۰؍ کروڑ روپے کی پیشکش پر غور کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہاردک پانڈیا اب بھی ہندوستانی کرکٹ کے ان چند نایاب کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں جو مڈل آرڈر میں بیٹنگ کے ساتھ تیز رفتار گیندبازی بھی کر سکتے ہیں، قیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں اور غیر ملکی کھلاڑی کی جگہ لیے بغیر ٹیم کو توازن فراہم کرتے ہیں۔ یہی خصوصیات انہیں غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ تاہم آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں ان کی کارکردگی اس معیار کی نہیں رہی جس کی بنیاد پر اتنی بڑی ٹریڈ کی توقع کی جا رہی ہے۔ ہاردک نے سیزن میں ۲۰۶؍ رنز بنائے، ان کی اوسط ۸۹ء۲۲؍ اور اسٹرائیک ریٹ۲۶ء۱۳۸؍ رہا۔ وہ ایک بھی نصف سنچری بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے، جبکہ اننگز کے آخری اوورز میں انہوں نے ۳۷؍ گیندوں پر ۴۹؍ رنز بنائے اور اس دوران ان کا اسٹرائیک ریٹ۴ء۱۳۲؍ رہا۔
یہ بھی پڑھئے:اناہت سنگھ نے ورلڈ جونیئر اسکواش چیمپئن شپ جیت کر تاریخ رقم کر دی
گیندبازی میں بھی ان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ انہوں نے ۴ء۲۲؍ اوورز میں صرف ۴؍ وکٹ حاصل کئے جبکہ فی اوور۴۳ء۱۱؍رنز دیے۔ آخری اوورز میں ان کی اکانومی ۷۵ء۱۵؍ اور پاور پلے میں ۷۵ء۱۳؍ رہی۔ البتہ ۱۲؍ویں سے ۱۶؍ویں اوور کے درمیان ان کی گیندبازی نسبتاً مؤثر رہی، جہاں ان کی اکانومی ۸۰ء۷؍ رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر آئی پی ایل ۲۰۲۶ءکی کارکردگی، کھلاڑیوں کی عمر، خریداری کی قیمت اور ٹیم میں ان کی اہمیت کو مدنظر رکھا جائے تو زیرِ غور دونوں ممکنہ ٹریڈ پیکج ممبئی انڈینس کے حق میں زیادہ فائدہ مند دکھائی دیتے ہیں۔