اکولہ کی رہنے والی ایک خاتون نےاپنے شوہر اور ساس پر باورچی خانہ میں جانے کی اجازت نہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی اور ذہنی تشدد کرنے کے تحت عائد کردہ کیس کو برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی ۔
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر:آئی این این
اکولہ کی رہنے والی ایک خاتون نےاپنے شوہر اور ساس پر باورچی خانہ میں جانے کی اجازت نہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی اور ذہنی تشدد کرنے کے تحت عائد کردہ کیس کو برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی ۔ اس پر ہائی کورٹ نے نہ صرف شوہر اور ساس پر باورچی خانہ میں نہ جانے کی اجازت دینے کو ذہنی تشدد قرار دیاہے بلکہ ساس کو اس کیس سے علاحدہ کرتے ہوئے شوہر کے خلاف درج کردہ کیس پر مقدمہ چلائے جانے کا بھی فرمان جاری کیاہے ۔
ایک خاتون نے بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور کی سنگل بنچ کی جسٹس ارمیلا جوشی پھالکے کے روبرو عرضداشت کے ذریعہ بتایا کہ ’’ میری ساس اور شوہر مجھے باورچی خانہ میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے جسے میں اپنی توہین اور تضحیک سمجھتی ہوں۔یہی نہیں ساس اور شوہر دونوں مجھے ذہنی طورپر ہراساں بھی کرتے تھے۔ ۲۰۲۲ ءمیں شادی کے بعد ہی سے یہ سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ ‘‘
خاتون نےمائیکہ جانے سے روکے جانے اور اس کے برتنوں کو گھر کے باہر پھنکنے اور باہر سے کھانا لانے پر مجبور کرنے کا بھی الزام لگایا ۔اس کے علاوہ خاتون نے یہ اپیل بھی کی ہے کہ ۲۰۲۴ء میں شوہر اور ساس کے خلاف پولیس میں درج کردہ شکایت کو برقرار رکھا جائے اور مقدمہ چلایا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے اسے اپنے مائیکہ لوٹنا پڑا ہے ۔
کورٹ نے مذکورہ الزامات کا جائزہ لینے کے بعد خاتون کو باورچی خانہ میں داخل نہ دینے کے عمل کوذہنی تشدد قرار دیا ۔سنگل بنچ نے اس ضمن میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’ کسی بھی خاتون کا کچن میںکھانا پکانا محض ایک معمول کا گھریلو کام نہیں بلکہ ایک عورت کی عزت، شناخت اور ازدواجی زندگی کاا ہم حصہ ہے ۔کسی بھی خاتون کو باورچی خانہ میں داخل سے روکنا ذہنی تشدد ہے ۔ یہی نہیں ا س طرح کا عمل کسی بھی خاتون کے بنیادی حقوق اور عزت نفس پر براہ راست حملہ ہے۔‘‘
وہیں شوہر نے بیوی کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کو بے بنیادقرار دیا اور کہا کہ طلاق کی اپیل داخل کرنے کے سبب اس نے قصداً ان پر جھوٹے الزامات لگائے ہیں ۔بعد ازیں کورٹ نے دونوں فریق کی جرح سننے کے بعد ساس کو مذکورہ معاملہ سے علاحدہ کرتے ہوئے شوہر کے خلاف درج کردہ کیس پر مقدمہ چلائے جانے کی ہدایت دی ہے ۔