خام مال کی دستیابی میں اضافے کے باعث لکھائی اور پرنٹنگ کے کاغذ کی صنعت میں موجودہ مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ء کے دوران منافع میں اضافے کی توقع ہے۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 12:42 PM IST | Agency | New Delhi
خام مال کی دستیابی میں اضافے کے باعث لکھائی اور پرنٹنگ کے کاغذ کی صنعت میں موجودہ مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ء کے دوران منافع میں اضافے کی توقع ہے۔
خام مال کی دستیابی میں اضافے کے باعث لکھائی اور پرنٹنگ کے کاغذ کی صنعت میں موجودہ مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ء کے دوران منافع میں اضافے کی توقع ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ اور مارکیٹ اسٹڈی کمپنی کرِسل نے منگل کو جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ رواں مالی سال آپریٹنگ منافع میں تقریباً۱۵۰؍ بیسس پوائنٹس (۱ء۵؍ فیصد) کا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ اس کی بڑی وجہ وبا کے بعد لگائے گئے ہارڈ ووڈ (سخت لکڑی) کے باغات کا وہ چکر ہے جو اَب کٹائی کیلئے تیار ہو چکے ہیں۔ اس سے صنعت کیلئے اہم خام مال کی لاگت کم ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ال نینو کا بڑا الرٹ! ہندوستان میں خشک سالی کا خطرہ ۷۰؍ فیصد تک بڑھ گیا
اس کے علاوہ کمپنیاں کارکردگی بہتر بنانے کیلئے سرمایہ کاری کر رہی ہیں تاکہ منافع میں اضافہ ہو سکے۔ کرِسل کے مطابق بڑھتی ہوئی ڈیجٹیلائزیشن کے باعث کمپنیاں پیداواری صلاحیت بڑھانے کیلئے سرمایہ خرچ کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ یہ تجزیہ لکھائی اور پرنٹنگ کا کاغذ تیار کرنے والی۱۳؍ کمپنیوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جو اس صنعت کی تقریباً۷۰؍ فیصد آمدنی کی نمائندگی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ماروتی سوزوکی نے فرونکس کی فروخت کا ریکارڈ قائم کیا
کرِسل ریٹنگز کے ڈائریکٹر شونک چکرورتی نے کہا کہ اس سال منافع میں بہتری صرف قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ سازگار ہارڈ ووڈ سائیکل اس کی ایک بڑی وجہ ہوگا۔ چونکہ کاغذ کی لُگدی کی لاگت میں لکڑی کا اہم حصہ ہوتا ہے اور یہ آپریٹنگ لاگت کا تقریباً۵۰؍ سے۵۵؍ فیصد ہے، اس لیے کم قیمت پر لکڑی کی بڑھتی ہوئی دستیابی براہِ راست منافع کے تناسب میں اضافہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ بہتر پروسیس کنٹرول کے ساتھ آپریٹنگ منافع رواں مالی سال میں تقریباً۱۳ء۵؍ فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جو گزشتہ مالی سال میں تقریباً۱۲؍ فیصد تھا۔پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کاغذ کی فی یونٹ قیمت میں بھی تقریباً۲؍ سے۳؍ فیصد اضافے کی توقع ہے۔ درآمد شدہ کاغذ کی قیمتوں میں اضافے سے کمپنیوں کو قیمتیں بڑھانے میں مدد ملے گی۔ زیادہ مال برداری کے اخراجات اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث درآمد شدہ کاغذ مہنگا ہوا ہے۔کوچنگ اداروں سمیت تعلیمی شعبے میں کاغذ کے استعمال اور بینکاری و عدالتی شعبوں میں کاغذ کی مانگ کے باعث مجموعی طلب میں۳؍ سے۴؍ فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔