انتظامیہ کمیٹی کےتنازع سے عمارت کی مرمت کا کام تعطل کاشکار ہے، والدین میں ناراضگی، دیگر اسکول کے خالی کمروں میں بچوں کو پڑھانے کا انتظام کرنے کا مطالبہ، ایجوکیشن انسپکٹر نے سہولیات فراہم کرنے کا یقین دلایا۔
EPAPER
Updated: July 14, 2026, 11:47 AM IST | Saadat Khan | Chembur
انتظامیہ کمیٹی کےتنازع سے عمارت کی مرمت کا کام تعطل کاشکار ہے، والدین میں ناراضگی، دیگر اسکول کے خالی کمروں میں بچوں کو پڑھانے کا انتظام کرنے کا مطالبہ، ایجوکیشن انسپکٹر نے سہولیات فراہم کرنے کا یقین دلایا۔
یہاں کی ایک نجی اسکول کی عمارت خستہ حال ہے جس کی وجہ سے تقریباً ۷۰۰؍ طلبہ آن لائن پڑھائی کرنے پر مجبور ہیں ۔اس سے والدین میںسخت ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔انہوں نے اپنے بچوں کو قریب کے میونسپل اسکول کے خالی کمروں میں پڑھانے کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا ہے اوریہ مطالبہ پورا کرنے پر احتجاج کا انتباہ دیا ہے ۔
چمبور کے مارولی چرچ علاقے میں واقع ایک پرائیویٹ اسکول کی عمارت اس وقت خطرناک حالت میں ہے۔ کسی بھی ممکنہ حادثے کو روکنے کیلئے اسکول نے اپنے طلبہ کو آن لائن تعلیم دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن والدین اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ بچو ں کو آف لائن پڑھانے کی حمایت کررہے ہیں ۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے بچوں کیلئے اسی علاقے کے دیگر اسکولوں میں پڑھانے کا انتظام کیا جائے ۔ مارولی چرچ میں واقع سندھ کاسموپولیٹن انگلش اسکول کی عمارت گزشتہ کئی برس سے خستہ حال ہے۔ یہاں کی کمیٹی کے تنازع کی وجہ سے اسکول کی مرمت نہیں ہو سکی ہے ۔نتیجتاً گزشتہ چند مہینوں میں اس اسکول میں سلیب گرنے کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ چند روز قبل جب کچھ والدین کو اسکول کی عمارت کی خستہ حالی کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بچوں کو ا سکول بھیجنا بند کر دیا۔ ایسے میں اسکول انتظامیہ نے یہاں زیر تعلیم ۷۰۰؍ طلبہ کو آن لائن تعلیم دینے کا فیصلہ کیا لیکن بیشتر والدین آن لائن پڑھائی کی مخالفت کر ر ہے ہیں ۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے بچوں کو مقامی میونسپل اسکول کے خالی کلاس روم میں پڑھایا جائے ۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان:کریٹ سومیا کامسجدوں میں ایس آئی آر فارم بھرنے کا بے بنیاد الزام
اس ضمن میں گزشتہ دنوں والدین نے نارتھ ڈویژن کے ایجوکیشن انسپکٹر کے دفتر میں احتجاج بھی کیا تھا۔ ایجوکیشن انسپکٹر مشتاق شیخ سے ملاقات کر کے اس پورے معاملہ پر گفتگو بھی کی تھی۔ والدین کی بات سننے کے بعد مشتاق شیخ نے میونسپل حکام کو خط لکھ کر علاقے کے ایک اسکول میں بچوں کو پڑھائی کی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ گھر پر بچوں کو آن لائن تعلیم فراہم کرنا ممکن نہیںہے کیونکہ متعدد والدین کام پر جاتے ہیں جبکہ کچھ خاندانوں میں ۲؍ سے ۳؍ بچے ہوتے ہیں۔ ان سب کیلئے موبائل فون کاانتظام کرنا بھی ایک مسئلہ ہے۔ اسکول انتظامیہ کو چاہئے کہ جب تک عمارت کی مرمت کا کام نہیں ہوتا، بچوںکیلئے دیگر اسکول میں پڑھانے کا انتظام کرے۔ بصورت دیگر اگلے ۸؍ دن میں ہم دوبارہ ایجوکیشن انسپکٹر آفس کے سامنے بڑا احتجاج کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان:۳۲؍بی ایل اوز نے ۶؍ہزار فارم تقسیم کئے
ایجوکیشن انسپکٹر مشتاق شیخ نے اس بارے میں انقلاب کو بتایا کہ ’’ مذکورہ اسکول کے ٹرسٹیوں میں تنازع جاری ہے۔ ہم نے فریقین سے درخواست کی ہے کہ وہ اسکول کی خستہ حال عمارت کی مرمت کروائیں لیکن اب تک مرمت کا کام نہیں کیا گیاہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ دنوں ہونے والی موسلادھار بارش کی وجہ سے عمارت کو مزید خطرہ لاحق ہے، ایسے میں اسکول انتظامیہ نے ہم سے بچوں کی حفاظت کیلئے انہیں آن لائن پڑھانے کی اجازت طلب کی تھی جو دے دی گئی ہے۔ حالانکہ آن لائن پڑھائی سے بچوں کی تعلیم کا نقصان ہو رہا ہے لیکن فی الحال متبادل نہ ہونے سے ہم نے آن لائن پڑھائی کی اجازت دی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اسکول انتظامیہ کی جانب سے دیگر اسکول میں پڑھائی کا انتظام کرنے سے متعلق درخواست ملنےپربی ایم سی محکمہ تعلیم سے بات چیت کی جائے گی ۔بعدازیں بی ایم سی اسکولوں میں ان بچوںکی پڑھائی کا انتظام کرنے پر غور کیاجائے گا۔ ‘‘