• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’رونے والا‘‘ ایموجی دنیا میں سب سے مقبول:گوگل رپورٹ

Updated: September 01, 2026, 10:23 AM IST | London

گوگل کے اعداد و شمار کے مطابق ’’روتے ہوئے چہرے‘‘ والا ایموجی گزشتہ سال دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایموجی بن گیا۔ تاہم، ۲۰۲۶ء میں اس کا استعمال صرف غم کے اظہار تک محدود نہیں رہا؛ نوجوان اسے ہنسی، حیرت، شرمندگی، بے بسی اور حتیٰ کہ انتہائی مضحکہ خیز صورتِ حال کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب مختلف عمروں کے افراد کے درمیان ایموجی کے استعمال میں واضح فرق پایا گیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

’’روتے ہوئے چہرہ والا‘‘ ایموجی اب دنیا کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایموجی بن گیا ہے۔ گوگل کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار، جنہیں دی نیویارک ٹائمز Times کے ساتھ شیئر کیا گیا، میں روتے ہوئے چہرے والے ایموجی کو گزشتہ سال کا سب سے مقبول ایموجی قرار دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ایموجی کا مطلب ہر بار رونا نہیں ہوتا۔ ڈجیٹل گفتگو میں اسے خوشی، زبردست ہنسی، حیرت، شرمندگی، مایوسی یا کسی انتہائی مضحکہ خیز صورتِ حال کے اظہار کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں اس ایموجی کا استعمال اتنا عام ہوگیا ہے کہ بعض اوقات حقیقی آنسوؤں کے بجائے مزاحیہ ردعمل ظاہر کرنے کے لیے بھی یہی نشان استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۰۷ء۲؍ کروڑ ووٹر مستقل طور پر خارج نہیں ہوئے: چیف الیکٹورل افسر

ایموجیز کے استعمال میں نسلوں کے درمیان فرق بھی نمایاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۳۰؍ سال سے کم عمر افراد بعض پرانے ایموجیز، خصوصاً ’’ہنستے ہوئے چہرے والے‘‘ ایموجی، کو ضرورت سے زیادہ استعمال کی وجہ سے عمر رسیدہ اندازِ گفتگو سے جوڑتے ہیں، جبکہ ہنسی یا مزاح کے اظہار کے لیے بعض نوجوان کھوپڑی والے ایموجی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ۲۰۲۶ء میں ایموجیز کے رجحانات بھی تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں۔مرجھائے ہوئے گلاب کا ایموجی اب ٹوٹے ہوئے دل کے متبادل کے طور پر استعمال ہورہا ہے، جبکہ ’’ہائی فائی‘‘ کو بعض نوجوان ’’تھمس اَپ‘‘ کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ موائی مجسمے والا ایموجی بھی خاصا مقبول ہوا اور ۲۰۲۱ء میں ۴۸۲؍ ویں نمبر سے اوپر آکر ۲۰۲۶ء میں ۳۳؍ واں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ایموجی بن گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اسلام کے دشمنوں کے خلاف مسلم اتحاد کی اپیل

ایپل کے نئے ایموجیز میں آنکھوں کے نیچے تھکن کے آثار والا چہرہ بھی نوجوانوں میں توجہ حاصل کررہا ہے۔ اسے تھکن، ذہنی دباؤ یا مزاحیہ پریشانی کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں متعارف کرایا گیا بگڑے ہوئے چہرے والا ایموجی بھی پریشانی، خوف، شرمندگی یا حیرت کے اظہار کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ایموجیز اب محض سجاوٹی علامتیں نہیں رہے بلکہ آن لائن گفتگو کی ایک الگ زبان بن چکے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عمر رسیدہ افراد میں ایموجیز کے استعمال کی شرح کم ہوتی ہے اور نئی غیر لفظی علامتوں کو اپنانے میں انہیں نسبتاً زیادہ دشواری ہوسکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:آبنائے ہرمز ہنوز بند، ایران نے کہا اجازت کے بغیر آمدورفت ناممکن

۲۰۱۵ء میں آکسفورڈ انگلش ڈکشنری نے ’’ہنستے ہوئے چہرے والے ایموجی‘‘ کو سال کا لفظ قرار دیا تھا، جو اس بات کی مثال تھی کہ ایموجیز کس حد تک روزمرہ زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب ایک دہائی بعدد ’’روتے ہوئے چہرے والا‘‘ کا سب سے مقبول ایموجی بننا اس تبدیلی کے اگلے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایموجیز کے دماغ پر اثرات بھی تحقیق کا موضوع بن چکے ہیں۔ بورن ماؤتھ یونیورسٹی کے محققین کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ایموجیز انسانی چہرے کے تاثرات کو سمجھنے کے دوران پیدا ہونے والے اعصابی ردعمل سے ملتے جلتے ردعمل پیدا کرسکتے ہیں۔ تحقیق کی سربراہ میڈلین مولی ایلی کے مطابق اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ایموجیز محض تفریحی علامتیں نہیں بلکہ آن لائن گفتگو میں معنی خیز جذباتی اشاروں کے طور پر دماغ میں سمجھے جاسکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK