• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ کے سبب اسکولی اشیاء کے حصول میں پریشانی کی عجیب منطق!

Updated: September 01, 2026, 12:04 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

موسم باراں کے ۳؍ ماہ اور تعلیمی سال کے ۴؍ مہینے گزرنے کے بعد بھی بی ایم سی اسکولوں کے ہزاروں طلبہ چھتری، یونیفارم جیسی اہم اشیاء سے محروم۔

The items to be provided to municipal students have not yet been supplied. Picture: INN
میونسپل طلبہ کو دی جانے والی اشیاء اب تک سپلائی نہیں ہوئی ہیں۔ تصویر: آئی این این

نیا تعلیمی سال شروع ہوکر ۴؍مہینے اور موسم باراں کے ۳؍مہینے گزر جانے کے بعد بھی بی ایم سی اسکولوں کے ہزاروں طلبہ کو چھتریاں، یونیفارم، جوتے جیسی اہم اشیاء فراہم نہ کرنے کی ٹھیکیدار نے عجیب منطق پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ کے سبب اشیاء حاصل کرنے میں تاخیر ہورہی ہے۔  میونسپل ایجوکیشن کمیٹی  کی میٹنگ میں اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹھیکیدار پر جرمانہ عائد کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اسلام کے دشمنوں کے خلاف مسلم اتحاد کی اپیل

یہ موضوع بی ایم سی کی ایجوکیشن کمیٹی کی میٹنگ میں زیر بحث آیا اور جب طلبہ کو حسب وعدہ ۲۷؍ اشیاء فراہم نہ کرپانے کی وجہ امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ بتائی گئی تو میونسپل کارپوریٹروں نے سوال کیا کہ ہزاروں میل  کے فاصلے پر جاری جنگ کا اثر اسکول کی اشیاء کے حصول پر کیسے پڑ رہا ہے۔

کانگریس اور شیوسینا (ادھو)کے نمائندوں نے لگاتار دوسری مرتبہ اس موضوع کو میٹنگ اٹھایا تھا۔ اپوزیشن لیڈروں نے کہا کہ ۲۷؍ اشیاء ۳۱؍جولائی تک سپلائی ہوجانی چاہئے تھی لیکن کئی چیزیں اب تک سپلائی نہیں ہوئی  ہیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی طلبہ کو یونیفارم، کاپی کتابیں، چھتریاں، رین کوٹ، پیں، پینسل، جوتے اور موزے جیسی ۲۷؍ اشیاء فراہم کرتی  ہے۔ ۲۷-۲۰۲۶ءاور ۲۸-۲۰۲۷ءتعلیمی سال کیلئے ان چیزوں کی فراہمی کیلئے مارچ میں ٹینڈر نکالا گیا تھا لیکن بعد میں شہری انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ یہ چیزیں مرکزی حکومت کے گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) سے خریدی جائیں گی اس لئے متذکرہ ٹینڈر منسوخ کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: گھاٹکوپر: راجا واڑی اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی سے دشواریاں

بی ایم سی کے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے یونیفارم اور نوٹ بک وغیرہ کی فراہمی کیلئے جون مہینے میں ۱۵۱ء۳۳؍کروڑ روپے منظور کئے تھے۔ اس رقم میں سے ۱۲۱ء۷۴؍کروڑ روپے یونیفارم وغیرہ کیلئے اور ۲۹ء۵۹؍ کروڑ روپے کاپی اور کتابوں کیلئے مختص کئے گئے تھے۔ تاہم اب تک طلبہ ان اشیاء سے محروم ہیں اور ان کے غریب والدین یہ چیزیں اپنی جیب سے بازار سے خریدنے پر مجبور ہیں۔ 

بحث کے دوران ایجوکیشن کمیٹی کی چیئر پرسن راجے شری شروڈکر نے کہا کہ ٹھیکیدار کے خلاف شرائط و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی چاہے تاخیر کی وجہ کچھ بھی ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK