Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ملک کے موجودہ حالات نامساعد ہیں مگر مسلمان حوصلہ نہ ہاریں‘‘

Updated: August 10, 2026, 12:23 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Maloni

آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری نے خصوصی نشست میں کہا کہ وندے ماترم اور یوسی سی سے متعلق کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، بورڈ جلد ہی اسے چیلنج کرے گا۔

Maulana Muhammad Fazal-ur-Rahim Mujaddidi (right) addressing the scholars. (Photo: Inquilab)
مولانا محمد فضل الرحیم مجددی (دائیں) علماء سے خطاب کرتے ہوئے۔ (تصویر: انقلاب)

’’ملک کے موجودہ حالات نامساعد ہیں مگر مسلمان حوصلہ نہ ہاریں، ہمت سے کام لیں اور دانشمندی کا ثبوت دیں۔‘‘ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے مالونی میں دوران گفتگو علماء کی خصوصی نشست میں سنیچر کی شب میں یہ پیغام دیا۔ واضح ہوکہ ممبئی سے وقف املاک کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے والے سماجی خدمت گار محمد جمیل مرچنٹ کی دعوت پر مولانا مجددی تشریف لائے تھے۔

اس موقع پر نمائندۂ انقلاب ، جماعت اسلامی کے مقامی ذمہ دار انور شیخ اور مفتی محمد انصار قاسمی وغیرہ نے مولانا سے سوال وجواب کئے۔ مولانا نے ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں کہا کہ اجتماعیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کام کرنا اور مسلکی اختلافات کو دور رکھنا وقت کا تقاضا ہے۔ اس تعلق سے انہوں نے بورڈ کے نائب صدر  مولانا عبید اللہ خان اعظمی کی بطور خاص ستائش کی کہ وہ علالت کے باوجود اپنی خدمات پیش کررہے  ہیں۔ مولانا نے یہ بھی بتایا کہ وندے ماترم اور یو سی سی کے تعلق سے کمیٹی تشکیل دی  جارہی ہے اور بورڈ جلد ہی اس کو چیلنج کرے گا۔ اسی طرح  مدارس ، مساجد اور خانقاہوں کے انہدام کے خلاف بھی بورڈ متحرک ہے اور بورڈ کے ممبر اور لیگل ٹیم کے  رکن طاہر حکیم (احمد آباد)خاص طور پر اس تعلق سے کام کررہے ہیں اور انہیں کامیابی بھی مل رہی ہے، اس دائرے کو بھی توسیع کیا جائے گا۔ مولانا مجددی نے یہ بھی کہا کہ ’’دیکھئے ، موجودہ حکومت روبہ زوال ہے اور وہ ہر روز زوال کی ایک سیڑھی نیچے اتررہی ہے۔ بلاشبہ میں اس میں مسلمانوں کی آہ وزاری کا بڑا دخل سمجھتا ہوں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’انگریزو بھارت چھوڑو تحریک‘ کے موقع پر امن مارچ

مولانا نے مالونی کے تعلق سے مسلمانوں کے احوال دریافت کئے تو انہیں بتایا گیا کہ یہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے مگر یہاں مثالی بھائی چارہ ہے اور تمام طبقے کے لوگ شیر و شکر ہوکر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سے زائد مرتبہ فرقہ پرستوں نے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی ، مسلمانوں کو نشانہ بنایا اور بدنام کرنے کی کوشش کی، رام نومی کے موقع پر زہر گھولنے کی منصوبہ بند کوشش کی مگر انہیں ذلت اٹھانی پڑی۔ یہ الگ بات ہےکہ یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ۲۲؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا اور اس میں محمد جمیل مرچنٹ کو کلیدی ملزم بنایا گیا  پھر بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔

مولانا محمد فضل الرحیم مجددی کا کہنا ہے کہ بورڈ پوری قوت کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کررہا ہے اور جو لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے ، اس کے مطابق آگے بڑھا جارہا ہے۔ ہمیں اجتماعیت اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے دانشمندی اور سوجھ بوجھ سے حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ مولانا نے اخیر میں علماء کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی اور اخلاص و استقامت کی خاص طور پر تلقین کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK