Updated: October 15, 2026, 12:06 PM IST
| London
آسکر ایوارڈ یافتہ برطانوی فلم ساز ڈینی بوائل نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حقائق کو ’’جعلی خبریں‘‘ قرار دینے کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کے دور میں سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ لندن فلم فیسٹیول میں اپنی نئی فلم ’اِنک‘ کے برطانوی پریمیر کے موقع پر انہوں نے ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا طاقتور ترین شخص کسی حقیقت کو جعلی خبر قرار دیتا ہے اور اپنے پلیٹ فارم پر جھوٹ کو سچ کے طور پر پیش کرتا ہے۔
آسکر ایوارڈ یافتہ برطانوی فلم ساز ڈینی بوائل۔ تصویر: ایکس
ڈینی بوائل نے ۱۲؍ اکتوبر کو لندن فلم فیسٹیول میں فلم ’اِنک‘ کی نمائش کے موقع پر خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں توجہ حاصل کرنے کی دوڑ نے سچائی اور صحافتی اقدار کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق اس رجحان کی ابتدائی جھلک ۱۹۶۰ء کی دہائی کے اواخر میں نظر آنے لگی تھی، جب آسٹریلیائی نژاد میڈیا کاروباری شخصیت روپرٹ مرڈوک نے برطانوی اخبار ’دی سن‘ کو ایک روایتی اخبار سے سنسنی خیز خبروں اور اسکینڈلز پر توجہ دینے والے مقبول اخبار میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ بوائل نے کہا کہ ’’اب ہم اس توجہ کی معیشت کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ اب کسی کو معلوم نہیں کہ سچ کیا ہے۔ دنیا کا سب سے طاقتور شخص کسی حقیقت کو جعلی خبر قرار دیتا ہے اور اپنے ٹروتھ سوشل پر جھوٹ کو اپنی سچائی کہتا ہے۔‘‘ ان کا اشارہ ٹرمپ کے اس طرزِ عمل کی جانب تھا جس میں وہ اپنے خلاف شائع ہونے والی خبروں کو اکثر ’’فیک نیوز‘‘ قرار دیتے ہیں۔ بوائل کے نزدیک یہ صورت حال اس وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے جس میں خبروں کی مقبولیت، قارئین کی توجہ اور تجارتی فائدے کو صحافتی معیار پر ترجیح دی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: ملک بھر میں ہزاروں طلبہ کا ازسرنو احتجاج، گریٹا تھمبرگ کی شرکت، تعلیمی خلل میں اضافہ
بوائل کی نئی فلم ’اِنک‘ اسی تبدیلی کے تاریخی پس منظر کو سامنے لاتی ہے۔ فلم میں روپرٹ مرڈوک کے برطانیہ میں داخلے اور اخبار ’دی سن‘ کی کایا پلٹ کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کہانی میں مرڈوک کو ایک ایسے کاروباری شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے جو برطانوی اخباری صنعت کے قائم شدہ طریقوں کو بدلنا چاہتا ہے۔ فلم یہ بھی دکھاتی ہے کہ کس طرح جنسی خبروں، اسکینڈلز اور سنسنی خیز مواد نے اخبار کی فروخت بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ فلم میں آسٹریلیائی اداکار گائے پیئرس نوجوان مرڈوک کا کردار ادا کررہے ہیں، جبکہ جیک او کونل اخبار کے مدیر لیری لیمب کے روپ میں نظر آئیں گے۔ لیری لیمب نے ’دی سن‘ کو زیادہ مقبول بنانے اور لندن کی روایتی اخباری صنعت میں اپنی جگہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ فلم کا ماخذ برطانوی ڈراما نگار جیمز گراہم کا اسی نام کا اسٹیج ڈراما ہے۔
بوائل نے فلم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ابتدا ناظرین کو محظوظ کرتی ہے اور انہیں اس عمل میں کسی حد تک شریک ہونے کا احساس دلاتی ہے، لیکن آگے چل کر کہانی ایک تاریک صورت اختیار کرلیتی ہے۔ ان کے مطابق فلم یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب خبروں کو زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لیے تیار کیا جائے تو اس کے سماجی اور صحافتی نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔ گائے پیئرس نے بھی مرڈوک کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک ایسے شخص کا کردار ادا کرنے میں دلچسپی تھی جو بظاہر خاموش مزاج اور قدرے قدامت پسند دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اندر بلند عزائم موجود ہیں اور وہ صحافت میں دیانت داری کو برقرار رکھنے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ مرڈوک کی میڈیا سلطنت آج برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا میں وسیع اثر و رسوخ رکھتی ہے، جبکہ ان کے زیرِ اثر اداروں کو سیاست، کاروبار اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے معاملات پر ان کی ادارتی پالیسیوں کے سبب بھی توجہ حاصل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن کی مدد کیلئے ۲۷۶؍ ملین ڈالر خرچ کئے: امریکی میڈیا
’اِنک‘ امریکہ میں ۱۱؍ دسمبر ۲۰۲۶ء اور برطانیہ اور آئرلینڈ میں ۸؍ جنوری ۲۰۲۷ء کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔ بوائل اس سے قبل ’ٹرین اسپاٹنگ‘ اور ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ جیسی فلموں کی ہدایت کاری کے باعث عالمی شہرت حاصل کرچکے ہیں۔ ان کی نئی فلم ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب سیاست، سوشل میڈیا اور خبر رساں اداروں کے درمیان حقائق کی تشریح اور معلومات کی ساکھ پر بحث جاری ہے۔