Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلاک کیمروں پر سان ڈیاگو اجلاس میں ڈارتھ وِیڈر کی انوکھی تقریر، نگرانی پر طنز

Updated: August 22, 2026, 7:09 PM IST | San Diego

امریکی شہر سان ڈیاگو میں پولیس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے متنازع Flock Safety کیمروں پر ہونے والے ایک عوامی اجلاس میں ایک شخص نے ڈارتھ وِیڈر کا لباس پہن کر ایسی طنزیہ تقریر کی جس نے نگرانی کی ٹیکنالوجی پر جاری بحث کو مزید نمایاں کردیا۔ ۱۹؍ اگست کو ہونے والے پبلک سیفٹی اینڈ لائیولی نیبرہوڈز کمیٹی کے اجلاس میں اس شخص نے بظاہر کیمروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایمپائر کو فلاک پسند ہے‘‘ اور ان کی مدد سے ’’ریبل اسکَم‘‘ کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں پولیس کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے Flock Safety کیمروں پر ہونے والے ایک عوامی اجلاس میں ایک شخص نے مشہور فلمی کردار ڈارتھ وِیڈر کا لباس پہن کر مائیک سنبھالا اور اپنی طنزیہ تقریر سے پورے معاملے کے ایک حساس پہلو کو نمایاں کردیا۔ ۱۹؍ اگست ۲۰۲۶ء کو پبلک سیفٹی اینڈ لائیولی نیبرہوڈز کمیٹی کے اجلاس میں مکمل لباس اور ہیلمٹ پہنے اس شخص نے ڈارتھ وِیڈر کی مخصوص بھاری آواز میں فلاک کیمروں کی بظاہر حمایت کی۔ اس نے کہا کہ ’’ایمپائر کو فلاک پسند ہے‘‘ اور یہ ٹیکنالوجی ’’ریبل اسکَم‘‘ کو تلاش کرنے اور اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ اجلاس کی ویڈیو کے مطابق اس نے یہاں تک طنز کیا کہ وہ ان کیمروں کو اپنی سابق گرل فرینڈ کی نگرانی کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔ 
یہ تقریر دراصل کیمروں کی حمایت نہیں بلکہ ان کے ممکنہ غلط استعمال پر طنزیہ تنقید تھی۔ مقرر نے اس تصور کو مضحکہ خیز بنا کر پیش کیا کہ کسی شہر میں وسیع نگرانی کا نظام اس حد تک پھیل جائے کہ لوگوں کی روزمرہ نقل و حرکت، کھیل کے میدانوں اور عوامی مقامات تک پر نظر رکھی جاسکے۔ اس نے پولیس کے لیے زیادہ فنڈنگ کی حمایت کے نام پر پارکس، لائبریریوں، ڈے کیئر مراکز اور بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں جیسے عوامی اخراجات کو کم کرنے کا بھی طنزیہ مشورہ دیا۔ 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by The State of America (@therealstateofamerica)

فلاک کیمرے کام کیسے کرتے ہیں؟
Flock Safety کے Automatic License Plate Readers (ALPRs) سڑکوں سے گزرنے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کے ساتھ گاڑی کی ساخت اور ظاہری خصوصیات سے متعلق معلومات بھی ریکارڈ کرسکتے ہیں۔ کمپنی ان معلومات کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے جرائم کی تفتیش اور مطلوبہ گاڑیوں کی شناخت میں استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا نظام ۶؍ ہزار سے زائد کمیونٹیز میں استعمال ہورہا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق Flock اپنے نیٹ ورک میں ۲ء۱؍ لاکھ سے زیادہ ALPR کیمروں کا دعویٰ کرتی ہے۔ ACLU نے بھی اگست ۲۰۲۶ء میں اپنی تازہ رپورٹ میں یہی تعداد استعمال کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام بڑے پیمانے پر گاڑیوں کے محلِ وقوع سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے اور شیئر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سان ڈیاگو میں بھی یہ نظام خاصا وسیع ہوچکا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: میرے والد صرف ایک نمبر نہیں: لبنانی صحافی کا اسرائیل سے جواب دہی کا مطالبہ

پولیس کے لیے جرائم کی تفتیش، مخالفین کے لیے پرائیویسی کا سوال
Flock Safety کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی پولیس کو جرائم کے بعد گاڑیوں کی نقل و حرکت سے متعلق شواہد تلاش کرنے اور مطلوبہ گاڑیوں کی نشاندہی میں مدد دیتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کے پلیٹ ریڈر سسٹم میں ریئل ٹائم الرٹس، ہاٹ لسٹس، سرچ اور آڈٹ ٹریل جیسی سہولیات موجود ہیں۔ مگر سول لبرٹیز کے کارکنوں کا اعتراض اس بات پر ہے کہ ایک ایسی ٹیکنالوجی جو لاکھوں گاڑیوں کی نقل و حرکت کے ریکارڈ جمع کرے، صرف مشتبہ افراد تک محدود نہیں رہتی بلکہ عام شہری بھی اس ڈیٹا بیس کا حصہ بن جاتے ہیں۔
امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) نے اپنی تازہ مہم میں کہا ہے کہ Flock جیسے ALPR نظام امریکہ میں ’’قومی سطح کا بڑے پیمانے پر نگرانی کا نظام‘‘ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق مسئلہ صرف کیمروں کی تعداد نہیں بلکہ ڈیٹا جمع کرنے، محفوظ رکھنے، شیئر کرنے اور اس کے غلط استعمال کی نگرانی سے متعلق شفافیت اور ضابطوں کی کمی بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یمنیٰ حسن نے آکسفورڈ کےبہترین اسپیکر کا ایوارڈ حاصل کیا، اے آئی کےمقابلے انسانی صلاحیتوں کی وکالت کی

ICE تک ڈیٹا پہنچنے پر بھی تنازع
فلاک کیمروں پر بحث میں ایک اہم مسئلہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ساتھ ڈیٹا کے ممکنہ استعمال کا بھی ہے۔ ACLU کا کہنا ہے کہ پولیس کے بعض مقامی اور ریاستی اداروں نے Flock کے ALPR ڈیٹا یا اس سے حاصل شدہ سرچ نتائج امیگریشن حکام کے ساتھ شیئر کیے، جس سے تارکینِ وطن کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے خدشات پیدا ہوئے۔  Flock نے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ICE کو اس کے کیمروں، سسٹم یا ڈیٹا تک براہ راست رسائی حاصل نہیں۔ تاہم ACLU کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ براہ راست رسائی سے زیادہ یہ ہے کہ مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے کس طرح اس ڈیٹا کو تلاش کرکے یا شیئر کرکے وفاقی اداروں کو فراہم کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارے کے الحاق کے اسرائیلی عزائم کے درمیان فلسطینیوں کو `نئی نَکبہ` کا سامنا: مصطفیٰ برغوثی

غلط شناخت اور ڈیٹا کے استعمال پر بڑھتی تشویش
سان ڈیاگو میں Flock کے استعمال سے متعلق بحث صرف نظریاتی خدشات تک محدود نہیں رہی۔ شہر کی پولیس کی اپنی سالانہ نگرانی رپورٹ کے مطابق نظام کے آغاز کے دوران ایک کنفیگریشن کی غلطی کے باعث ۲۹؍ دسمبر ۲۰۲۳ء سے ۱۷؍ جنوری ۲۰۲۴ء تک دیگر کیلیفورنیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ۱۲۹۱۴؍  سرچز میں سان ڈیاگو کا ALPR ڈیٹا غیر ارادی طور پر شامل ہوگیا تھا۔ پولیس نے اسے ڈیٹا کی خلاف ورزی کے بجائے غیر مجاز رسائی کا مختصر واقعہ قرار دیا۔ یہ واقعہ اس بحث کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ اتنے بڑے ڈیٹا بیس تک رسائی کے اصول کتنے واضح اور مؤثر ہیں، خصوصاً اس وقت جب ایک غلط شناخت یا غلط سرچ کسی بے گناہ شخص کو تفتیش کا ہدف بنا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ:ایل بٹ ہتھیاروں کی فیکٹری پر چھاپہ:عدالت کا فلسطین حامیوں کوسزا سے انکار

فلاک نے پالیسیوں میں تبدیلی کا اعلان بھی کیا
بڑھتے عوامی دباؤ کے درمیان Flock Safety نے اگست میں اپنے آپریشنز اور ڈیٹا پالیسیوں میں متعدد تبدیلیوں کا اعلان کیا۔ کمپنی نے معیاری ڈیٹا برقرار رکھنے کی مدت کم کرنے اور مقامی اداروں کو سرچز پر مزید کنٹرول دینے جیسے اقدامات پیش کیے۔ تاہم ACLU نے ۱۳؍ اگست کی اپنی تجزیاتی رپورٹ میں ان تبدیلیوں کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ ان میں سے بیشتر شہری آزادیوں کے خدشات کو بنیادی طور پر حل نہیں کرتیں۔ اسی تنازع کے بیچ سان ڈیاگو کے اجلاس میں ڈارتھ وِیڈر کی طنزیہ تقریر محض ایک مزاحیہ واقعہ نہیں رہی۔ اس نے ایک بنیادی سوال عوام کے سامنے رکھ دیا ہے: جرائم کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کہاں تک استعمال کی جاسکتی ہے، اور عام شہری کی نجی زندگی کی حفاظت کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK