ہندو رکشادل نے مطالبہ کیا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کیمپس میں ’’دفن شیو مندرکے دعوے‘‘ کی تحقیق کروائی جائے، للت شرما کی قیادت میں ہونے والے اس دھرنے میں مظاہرین نے سہارنپور میں پولیس کے ساتھ حالیہ جھڑپ پراقراءحسن کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 10:01 PM IST | Deoband
ہندو رکشادل نے مطالبہ کیا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کیمپس میں ’’دفن شیو مندرکے دعوے‘‘ کی تحقیق کروائی جائے، للت شرما کی قیادت میں ہونے والے اس دھرنے میں مظاہرین نے سہارنپور میں پولیس کے ساتھ حالیہ جھڑپ پراقراءحسن کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔
ہندو رکشا دل کے ارکان نے ضلع ہیڈکوارٹر میں دھرنا دے کر مطالبہ کیا ہے کہ اتر پردیش کے شہر دیوبند میں واقع دارالعلوم دیوبند کے کیمپس کے اندر ایک قدیم دفن شدہ شیو مندر کے دعوے کی تحقیقات کی جائے۔للت شرما کی قیادت میں ہونے والے اس دھرنے میں مظاہرین نے سہارنپور میں پولیس کے ساتھ حالیہ جھڑپ پر اقراءحسن کے خلاف بھی نعرے بازی کی ۔مظاہرے کے دوران، للت شرما نے دعویٰ کیا کہ دارالعلوم کے احاطے سے تقریباً۱۴؍ فٹ نیچے ایک ’’قدیم دفن شدہ شیو مندر‘‘ موجود ہے اور اس نے اس معاملے میں ’’منصفانہ اور شفاف تحقیقات‘‘ کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: کمال مولا مسجد: عدالتی فیصلے کے بعد پہلا جمعہ، مہاآرتی کا انعقاد، گھر میں نماز
للت نے کہا کہ تنظیم انتظامی تحقیقات کے لیے عدالتوں کے ذریعے قانونی مداخلت بھی حاصل کرے گی۔ شرما نے ضلع انتظامیہ کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے کہا،’’ہم آثار قدیمہ کے محکمے اور متعلقہ حکام سے سائنسی سروے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘بعد ازاں ہندو رکشا دل نے الزام لگایا کہ یہ معاملہ سنگین ہے اور اسے تکنیکی اور آثار قدیمہ کے طریقوں سے جانچا جانا چاہیے۔تاہم، اب تک اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی سرکاری ثبوت عوامی طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے، اور حکام نے اس معاملے میں کسی تحقیقات کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ،مزید برآں دھرنے میں اقراءحسن پر تنقید کی گئی، جو مونو کشیپ قتل کیس کے سلسلے میں ڈی آئی جی آفس کے دورے سے منسلک ایک حالیہ تنازع سے وابستہ ہے۔مظاہرین نے ممبر پارلیمنٹ پر پولیس افسران کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔جبکہ شدت پسند تنظیم کے بعض اراکین نے مبینہ طور پر احتجاج کے دوران خاتون رکن پارلیمان کے خلاف متنازع تبصرے بھی کیے، جس پر تنقید بھی کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اجمیرکی ۸۰۰؍ سال قدیم مسجد میں پوجا پاٹھ کی اجازت طلب
کشیپ برادری کے ارکان کی طرف سے حسن کو ملنے والی حمایت کے بارے میں پوچھے جانے پر شرما نے دعویٰ کیا کہ ان کی حمایت کرنے والے برادری کے حقیقی افراد نہیں ہیں،تاہم اس بیان نے مزید سیاسی کشیدگی کو ہوا دی۔ جبکہ مظاہرین تقریباً ایک گھنٹے تک ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر موجود رہے، نعرے بازی کی اور اپنے مطالبات انتظامیہ کے حوالے کیے۔علاوہ ازیں ایک اشتعال انگیز دعوے میں شرما نے کہا،۱۴؍ فٹ نیچے شولنگ ملے گا، اور اگر نہ ملا تو میں پھانسی کے لیے تیار ہوں۔‘‘دریں اثناءاس معاملے نے، خاص طور پر حالیہ تنازعات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف احتجاج کے درمیان مغربی اتر پردیش میں جاری سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔