ممبئی میں ’یوتھنیشیا(مرضی کی موت)‘ کا معاملہ ایک بار پھر موضوع بحث بنا بن گیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 10:08 AM IST | Mumbai
ممبئی میں ’یوتھنیشیا(مرضی کی موت)‘ کا معاملہ ایک بار پھر موضوع بحث بنا بن گیا ہے۔
ممبئی میں ’یوتھنیشیا(مرضی کی موت)‘ کا معاملہ ایک بار پھر موضوع بحث بنا بن گیا ہے۔ حال ہی میں ہریش رانا کو سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کے تحت مرضی کی موت کی اجازت ملی تھی جن کی بدھ کو آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اس واقعہ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ گزشتہ۲؍برس میں۴۰؍ افراد نے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کو ’یوتھنیشیا‘ کیلئے درخواست دی ہے۔
۲۰۲۳ء میں سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ دیا تھا جس میں بعض شرائط کے ساتھ نازک اور شدید بیمار مریضوں کیلئے یوتھنیشیا کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے بی ایم سی کو ایسی درخواستوں پر کارروائی کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ اسی کے تحت اب تک شہر کے مختلف علاقوں کے چیف میڈیکل آفیسرس کے پاس ۴۰؍ درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔ یہ تعداد بتاتی ہے کہ کئی لوگ اس متبادل پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گیس سلنڈر کی شدید قلت سے مدارس کے ذمہ دارانفکرمند
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان درخواستوں پر کیاطرزعمل اختیار کیا جائے؟ اس کیلئے کوئی واضح اصول نہیں ہیں۔ تقریباً ۲؍ سال گزر جانے کے باوجود افسران یہ فیصلہ نہیں کر سکے ہیں کہ کس معاملے میں کیا اقدامات کئے جائیں۔ اس طرح قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کے حوالے سے کئی طرح کی کشمکش برقرار ہے۔ اسی وجہ سے ابھی تک ایک بھی درخواست کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی ہے۔
سینئر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یوتھنیشیا کے معاملات میں کئی پیچیدہ سوالات سامنے آتے ہیں جیسے اگر کسی شخص نے ممبئی میں درخواست دی لیکن کسی دوسرے شہر یا ریاست میں موت ہوتی ہے تو فیصلہ کون کرے گا؟ اسی طرح مریض کی حالت، خاندان کی رضامندی، میڈیکل بورڈ کا کرداراور قانونی جانچ جیسے کئی پہلوؤں پر ابھی بھی رہنما خطوط واضح نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان: بیمارخاتون اندرموجود ہونے کے باوجودمکان کو سیٖل کردیا گیا!
حکومت کے محکمہ شہری ترقیات نے ان معاملات کو ریکارڈ کرنے کیلئے ایک ڈیجیٹل پورٹل بنایا ہے۔ تاہم بی ایم سی کی سطح پر اس کا استعمال ابھی شروع نہیں ہوپایا ہے۔ کچھ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ بی ایم سی کو اپنا نظام خود بنانا چاہئے جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چونکہ سرکاری پورٹل موجود ہے اس لئے نیا نظام بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
سماجی کارکن اور ڈاکٹر نکھل داتار نے اس معاملے میں حکومت سے واضح طریقہ کار طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں قانونی لڑائی بھی لڑی ہے۔