Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: بیمارخاتون اندرموجود ہونے کے باوجودمکان کو سیٖل کردیا گیا!

Updated: March 26, 2026, 4:03 PM IST | Ejaz Abduilghani | Kalyan

بقایاجات کی وصولی مہم کے دوران اس انسانیت سو زواقعہ سے عوام میں میونسپل کارپوریشن کے تئیں شدید ناراضگی-

A notice of sealing is visible on the door of the house.Photo:INN
مکان کے دروازے پر سیٖل کئے جانے کا نوٹس نظر آرہا ہے۔ تصویر:آئی این این
ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) کی جانب سے بقایا جات کی وصولی کیلئے چلائی جانے والی مہم اس وقت ایک سنگین تنازع کا شکار ہوگئی جب میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں نے ایک گھر کو باہر سے اس وقت سیٖل کر دیا جب ایک بیمار خاتون اندر سو رہی تھی۔ اس انسانیت سوز واقعہ کے خلاف عوامی حلقوں میں شدید برہمی پائی جا رہی ہے۔ آج بجٹ پر بحث کیلئے منعقدہ جنرل باڈی میٹنگ میں کانگریس کی گروپ لیڈر کانچن کلکرنی نے اس معاملے پر شہری انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
 
 
اطلاعات کے مطابق سفینہ پٹیل نامی خاتون جو امبیڈکر روڈ پر واقع دت پرساد  اپارٹمنٹ میں کرایے کے مکان میں رہتی ہیں۔ شدید علالت کے باعث دوا کھا کر گھر میں آرام کر رہی تھیں۔ ان کا بیٹا ملازمت کے انٹرویو کیلئے باہر جاتے وقت گھر کے جالی والے دروازے کو قفل لگا گیا تھا جبکہ لکڑی کا اصلی دروازہ اندر سے کھلا تھا۔ٹیکس وصولی کیلئے پہنچے عملے نے بغیر کسی تصدیق کے مکان کو سیٖل کرنا شروع کر دیا۔ اس موقع پر آس پاس کے مکینوں نے اہلکاروں کو بارہا ٹوکا اور خبردار کیا کہ گھر کے اندر ایک خاتون موجود ہیں جو بیمار ہیں۔ تاہم افسران نے پڑوسیوں کی ایک نہ سنی اورگھر کو باہر سے سیٖل کر کےچلے گئے۔متاثرہ خاتون سفینہ پٹیل نے بتایا کہ وہ گہری نیند میں تھیں اور جب کئی گھنٹوں بعد بیدار ہوئیں تو خود کو گھر میں قید پایا۔ اس صورتحال نے انہیں شدید ذہنی صدمے میں مبتلا کر دیا۔ تقریباً ۵ ؍گھنٹے تک قید رہنے کے بعدجب مکان مالک نے کارپوریشن حکام سے رابطہ کیا تب کہیں جا کر عملہ دوبارہ پہنچا اور سیٖل کھولی گئی۔
 
 
اس واقعہ کی گونج میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں بھی سنائی دی۔ کانگریس کی کارپوریٹر کانچن کلکرنی نے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے قانونی اور اخلاقی جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف این آر سی جیسی بڑی کمپنیوں پر ۳۵۰ ؍کروڑ روپے سے زائد کا ٹیکس واجب الادا ہے جنہیں ہاتھ تک نہیں لگایا جاتا اور دوسری طرف عام شہریوں اور کرایہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ایک علیل خاتون کو گھر میں بند کرنا ظلم کی انتہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK