Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی: ”کیری مین“ نامی نیا اسٹارٹ اَپ، اپنے شاپنگ بیگز اٹھانے کیلئے آپ اس کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں

Updated: June 04, 2026, 10:00 PM IST | New Delhi

کیری مین کے اسسٹنٹس صرف شاپنگ بیگز نہیں اٹھاتے بلکہ اس سے کہیں زیادہ کام کرتے ہیں۔ وہ گاہکوں کو دکانیں تلاش کرنے، پرام دھکیلنے، چھتریاں اور پانی کی بوتلیں اٹھانے، پورٹیبل چارجرز فراہم کرنے اور یہاں تک کہ فوڈ اسٹالز پر لائنوں میں کھڑے ہونے میں بھی مدد کرتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

دہلی میں ایک نیا اسٹارٹ اپ خریداروں کو ایسے اسسٹنٹس (مددگار) فراہم کرنے کی پیشکش کر رہا ہے جو ان کے بیگز اٹھائیں گے، بچوں کی پرام (پیدل گاڑی) دھکیلیں گے اور پرہجوم بازاروں میں نقل و حرکت میں ان کی مدد کریں گے۔ ’کیری مین‘ (CarryMen) نامی یہ سروس اپریل میں لاجپت نگر مارکیٹ سے شروع کی گئی تھی۔ یہ سروس اب گاہکوں کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئی ہے۔

کیری مین کی بنیاد دو سہیلیوں ریتو کنڈاری شریواستو اور کنشکا ملہوترا نے رکھی۔ ایک بار انہیں دہلی کے مصروف کھلے بازاروں میں اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ شاپنگ کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد انہیں اس اسٹارٹ اپ کا خیال آیا۔ بانیوں نے بتایا کہ وہ ایک ایسی سروس چاہتے تھے جو ان لوگوں کی مدد کرسکے جن کیلئے بیگز اٹھانا یا پرہجوم سڑکوں پر چلنا مشکل ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’سائیکل چلائو صحت مند رہو‘‘ عالمی یوم ماحولیات کی مناسبت سے ’سائیکل ریلی‘

کیری مین کے ذریعے گاہک زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے کیلئے ایک اسسٹنٹ کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ سروس ۳۰ منٹ کیلئے ۷۹ روپے سے شروع ہوتی ہے، جبکہ ایک گھنٹے کی لاگت ۱۴۹ روپے ہے۔ کمپنی کے پاس اس وقت ۷ کل وقتی (فل ٹائم) ملازمین ہیں، جن میں ۵ مرد اور ۲ خواتین شامل ہیں۔ اسٹارٹ اپ کے بانیوں کے مطابق، اب تک زیادہ تر گاہک حاملہ خواتین، چھوٹے بچوں کے والدین، بزرگ افراد اور معذور افراد رہے ہیں۔ کمپنی کی پہلی گاہک ایک حاملہ خاتون تھیں جنہیں خریداری کے دوران مدد کی ضرورت تھی۔

یہ اسسٹنٹس صرف شاپنگ بیگز نہیں اٹھاتے بلکہ اس سے کہیں زیادہ کام کرتے ہیں۔ وہ گاہکوں کو دکانیں تلاش کرنے، پرام دھکیلنے، چھتریاں اور پانی کی بوتلیں اٹھانے، پورٹیبل چارجرز فراہم کرنے اور یہاں تک کہ فوڈ اسٹالز پر لائنوں میں کھڑے ہونے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ ملازمین کو کسٹمر سروس اور مارکیٹ نیویگیشن (بازار کے راستوں کی پہچان) کی تربیت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ متوقع، کنزیومر پرائس انڈیکس ۶؍ فیصد تک جاسکتا ہے: کریسل رپورٹ

اس سروس کے متعلق سوشل میڈیا پر ملے جلے ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ صارفین نے اس کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عملی خیال ہے جو ہندوستان جیسے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرسکتا ہے جہاں بے روزگاری کی شرح اب بھی ۵ فیصد سے اوپر ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سروس کم اجرت والے سروس ورکرز پر بڑھتے انحصار کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اس کردار کا موازنہ روایتی قلیوں (پورٹرز) سے کیا ہے۔

بانیوں نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام ملازمین کو ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے، ان کی حیثیت عارضی ملازمین کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سروس مدد فراہم کرنے کیلئے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اٹھارہ سالہ ملازم آنند کمار نے بتایا کہ وہ اس سے قبل ساڑھی کی دکان پر اور ڈیلیوری بوائے کے طور پر کام کرتے تھے۔ لیکن کیری مین میں تنخواہ بہتر ہے اور وہ اپنے اس کردار میں عزت محسوس کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارمزمیں الیکٹرک گاڑیوں کے استعما ل میں سست روی

کمپنی کو اپنے پہلے ہفتے کے دوران کوئی بکنگ موصول نہیں ہوئی تھی لیکن اب روزانہ تقریباً ۵ سے ۶ بکنگز ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ یہ تعداد سنیچر اور اتوار کے دن بڑھ کر ۸ یا ۹ تک پہنچ جاتی ہیں۔ کیری مین کا منصوبہ جولائی میں چاندنی چوک اور بعد میں دہلی اور ملک کے دیگر بازاروں تک اپنے کام کو پھیلانے کا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK