Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۲؍ سال بعد UAPA کے دو ملزمین کو سپریم کورٹ سے ضمانت

Updated: July 29, 2026, 8:04 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار دو ملزمان کو تقریباً ۱۲؍ سال جیل میں رہنے کے بعد ضمانت دے دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کی غیر معمولی تاخیر نے آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت حاصل حقِ زندگی اور شخصی آزادی ، خصوصاً فوری اور منصفانہ ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی کی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں UAPA کے تحت گرفتار دو ملزمان کو باقاعدہ ضمانت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً ۱۲؍ برس تک مقدمہ زیرِ سماعت رہنا اور ٹرائل میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونا آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ میں دیے گئے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی ملزم کو محض مقدمہ زیرِ التوا ہونے کی بنیاد پر غیر معینہ مدت تک قید میں نہیں رکھا جا سکتا، خواہ اس پر الزامات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں۔ یہ مقدمہ مبینہ طور پر انڈین مجاہدین سے منسلک ایک کیس سے متعلق ہے، جس میں دونوں ملزمان کو ۲۰۱۴ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ استغاثہ کا الزام تھا کہ ان کے قبضے سے دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا اور ان پر UAPA سمیت دیگر فوجداری دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ تاہم، گرفتاری کے بعد ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مقدمے کی سماعت مکمل نہ ہو سکی اور ٹرائل انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھا۔

یہ بھی پڑھئے: کانوڑ یاترا: ۴؍ تا ۱۲؍ اگست تک دہلی ہری دوار قومی شاہراہ پرگاڑیوں کی آمد بند

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ اتنے طویل عرصے تک زیرِ سماعت رہنے والے مقدمے میں ابھی بھی فیصلہ آنے کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آتا۔ بنچ نے کہا کہ حقِ آزادی اور فوری ٹرائل صرف نظریاتی حقوق نہیں بلکہ آئین کے تحت قابلِ نفاذ بنیادی حقوق ہیں، جنہیں غیر ضروری تاخیر کے ذریعے بے معنی نہیں بنایا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ UAPA میں ضمانت کے لیے سخت شرائط مقرر ہیں، لیکن آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت حاصل بنیادی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ ایسے غیر معمولی حالات، جہاں ملزمان برسوں سے جیل میں ہوں اور ٹرائل مکمل ہونے کے آثار نہ ہوں، وہاں آئینی عدالتیں شخصی آزادی کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فوڈ کارپوریشن نے ایتھنال پلانٹس کو خریداری لاگت سے کم قیمت پر چاول بیچا : مرکز

عدالت نے ماضی کے اپنے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس اصول کو بھی دہرایا کہ ’’تاخیر سے ملنے والا انصاف، انصاف سے محرومی کے مترادف ہو سکتا ہے‘‘ اور کسی شخص کو صرف الزامات کی بنیاد پر برسوں تک قید میں رکھنا آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ عدالت کے مطابق ایسے معاملات میں ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمات کی بروقت سماعت یقینی بنائے۔ سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کو مناسب شرائط کے ساتھ ضمانت دینے کا حکم دیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ ضمانت دینے کا مطلب ان کے خلاف الزامات سے بریت نہیں ہے۔ مقدمے کی سماعت قانون کے مطابق جاری رہے گی اور ٹرائل کورٹ شواہد کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی مسافر اب یو پی آئی کے ذریعے برج خلیفہ کے ٹکٹ آن لائن خرید سکیں گے

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس اصول کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ اگرچہ دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں سخت قوانین کا نفاذ ضروری ہے، لیکن ان قوانین کا اطلاق آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق، خصوصاً شخصی آزادی اور فوری ٹرائل کے حق، کو مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ ایسے مقدمات میں عدالتیں ہر کیس کے حقائق، حراست کی مدت اور ٹرائل کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت کے سوال کا جائزہ لے سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK