دہلی میں وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ریس کورس مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کیے جانے کے معاملے میں ہائی کورٹ نے مداخلت سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مسجد کے احاطے پر درخواست گزار کے قانونی حق سمیت کئی اہم امور متنازع ہیں۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 11:32 AM IST | New Delhi
دہلی میں وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ریس کورس مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کیے جانے کے معاملے میں ہائی کورٹ نے مداخلت سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مسجد کے احاطے پر درخواست گزار کے قانونی حق سمیت کئی اہم امور متنازع ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے ۱۵؍ اکتوبر کو ریس کورس مسجدجو کہ وقف نوٹیفائیڈ جائیداد اور ۲۰۰۹ء میں نوٹیفائی کی گئی گریڈ ۲؍ کی تاریخی عمارت ہے،کی بجلی اور پانی کی فراہمی بحال کرنے سے انکار کر دیا جو ۷؍ اکتوبر کو منقطع کر دی گئی تھی۔ یہ مسجد ریس کورس کلب کے اندر واقع ہے جو ۷؍ لوک کلیان مارگ پر واقع وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب تقریباً ۵۳؍ ایکڑ پر محیط ہے۔ کلب کا احاطہ اور اس کے آس پاس کی جھگی بستی انخلاء کے سلسلے میں متعدد قانونی تنازعات کا مرکز رہی ہیں جہاں مرکزی حکومت نے اس علاقے کا قبضہ حاصل کرنے کیلئے ’’قومی سلامتی‘‘ کا حوالہ دیا ہے۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ نئی دہلی میں صفدر جنگ کے مقبرے کے پیچھے واقع یہ مسجد اور اس سے متصل قبرستان ۸؍ ستمبر ۱۹۷۷ء کے دہلی ایڈمنسٹریشن کے گزٹ نوٹیفکیشن میں درج ہیں۔اندراج نمبر ۱۸؍ کے تحت درج یہ جائیداد دو بیگھہ پر مشتمل ہے اور اس میں مسجد اور قبرستان دونوں شامل ہیں۔ تاہم سرکاری ذرائع نے جمعرات کوکہا کہ مسجد کو خالی کرنے کا کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کرناٹک ہائی کورٹ نے بابری مسجد فیصلے کے خلاف پوسٹرز پر درج مقدمہ خارج کر دیا
مسجد کے امام محمد ہارون، جو احاطے میں واقع ایک حجرے میں رہتے ہیں، نے ۱۲؍ اکتوبر کو ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے بجلی اور پانی کے کنکشن بحال کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس سے قبل ۸؍ اکتوبر کو دہلی وقف بورڈ نے نیو دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کے ایگزیکٹو انجینئر کو خط لکھ کر خدمات کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ بورڈ نے کہا تھا کہ تمام بقایا جات ادا کرنے اور ۱۹۷۶ء سے قانونی بجلی کا کنکشن ہونے کے باوجود ’’بغیر کسی پیشگی نوٹس یا بظاہر کسی معقول وجہ‘‘ کے کنکشن کاٹ دئیے گئے۔ تاہم این ڈی ایم سی نے ۱۵؍ اکتوبر کو خدمات بحال کرنے سے انکار کر دیااور عدالت کو بتایا کہ علاقے میں جھگیوں کو ہٹانے سمیت مسماری کا کام اب بھی جاری ہے اور بجلی کی بحالی سے عوامی تحفظ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ بلدیاتی ادارے نے یہ دلیل بھی دی کہ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس(ایل انڈ ڈی او)، جو اس مسماری کی نگرانی کر رہا ہے اور زمین کا قبضہ لینے والا ہے، کو ہارون کی درخواست میں فریق نہیں بنایا گیا تھا۔
اگرچہ یہ مسجد تقریباً ۷۰۰؍ جھگی نشینوں اور ریس کورس کلب کی بے دخلی سے متعلق مقدمے میں براہِ راست فریق نہیں تھی، لیکن این ڈی ایم سی کے وکیل نے عدالت کو زبانی طور پر بتایا کہ مسجد کا احاطہ ہائی کورٹ کے ۲۵؍ اگست کے فیصلے کے تحت ’’احاطہ شدہ‘‘ ہے۔ اس فیصلے نے وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے قریب رہنے والے جھگی نشینوں کی بے دخلی کا راستہ ہموار کیا تھا۔ ان رہائشیوں کو بعد میں تقریباً ۵۰؍ کلومیٹر دور ساؤدا گھیوڑا میں آباد کیا گیا ہے۔ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس سوربھ بنرجی نے ہارون کی درخواست یہ کہتے ہوئے خارج کر دی کہ وقف بورڈ، جسے عدالت نے احاطے کا ’’اصل قابض‘‘ قرار دیا، نے بجلی کی منقطع کاری کو چیلنج نہیں کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمشنرز کی شکایت پر کارروائی مداخلت کے مترادف، آر ٹی آئی میں انکشاف
عدالت نے یہ بھی ملاحظہ کیا کہ ہارون، بورڈ کی طرف سے مقرر کردہ امام ہونے کے ناطے، احاطے پر کوئی قانونی حق نہیں رکھتے اور اسلئے کنکشن کاٹے جانے کی وجہ سے اپنے بنیادی حقوق کے خلاف ورزی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ اپنے حکم میں، عدالت نے کہا کہ اس درخواست میں ’’حقائق کے سنگین متنازع سوالات‘‘ اٹھے ہیں، خاص طور پر احاطے میں ہارون کے حق، ملکیت یا مفاد کے حوالے سے اور آیا یہ جائیداد ۲۵؍ اگست کے فیصلے کے دائرہ کار سے باہر ہے یا نہیں۔ درخواست کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا، ’’یہ تمام باتیں اس آئینی درخواست میں اس عدالت کیلئے فیصلہ کرنے کے دائرہ کار سے بالکل باہر ہیں۔‘‘ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دہلی وقف بورڈ کی منتخب باڈی کی مدت اگست ۲۰۲۳ء میں ختم ہونے کے بعد سے اس کی دوبارہ تشکیل نہیں کی گئی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے مقرر کردہ حکام نے جنوری ۲۰۲۴ء میں چارج سنبھالا تھا اور وہ کسی منتخب باڈی کی غیر موجودگی میں بورڈ کا نظام چلا رہے ہیں۔