Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپ جنتر منتر کو احتجاج کیلئے بند کیوں نہیں کردیتے: دہلی ہائی کورٹ

Updated: August 08, 2026, 5:02 PM IST | New Delhi

دہلی ہائی کورٹ نے ایک بیان میں کہا کہ کیوں نہ جنتر منتر کو احتجاجی مظاہروں کیلئے بندکردیاجائے، جبکہ ۳؍ اگست کو سپریم کورٹ نے اس مفاد عامہ کی عرضی کو سماعت کیلئے منظور کرلیا، جس میں جنتر منتر کو عوام کو ہونے والی دشواری کے پیش نظر احتجاج کیلئے بند کرنے کی اپیل کی گئی تھی، سی جے پی نے اس کا دفاع کیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

جمعہ کو سی جے پی  کے ترجمان سورو داس نے جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر برقرار رکھنے کا دفاع کیا، جبکہ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے سوال اٹھایا کہ اس جگہ کو مظاہروں کے لیے مخصوص کیوں رکھا جائے، اور پوچھا کہ ان احتجاجات کی وجہ سے پورے شہر کو ’یرغمال‘ کیوں بنایا جائے۔سورو داس نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’ ہمارا احتجاجی مقام چھیننے سے پہلے، ہمیں بتاؤ کہ کیا تم انڈیا گیٹ کو متعین کرو گے جہاں ہم پرامن احتجاج کے اپنے بنیادی حق کو استعمال کر سکیں؟ تم نے انڈیا گیٹ چھین لیا۔ ہم اپنے جنتر منتر کو بھی چھینے جانے کو برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’آپ انڈوں سے ڈرتی ہیں!‘: سپریم کورٹ نے مہوا موئترا کی ورچوئل پیشی کی درخواست مسترد کردی

واضح رہے کہ یہ ردِ عمل دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس امیت مہاجن کے زبانی مشاہدات پر تھا، جب وہ آل انڈیا دلت کرسچن رائٹس پروٹیکشن کمیٹی کی درخواست پر سماعت کر رہے تھے، جس میں۱۰؍ اگست کو صبح ۱۰؍بجے سے دوپہرایک بجے کے درمیان جنتر منتر پر پرامن مظاہرے کی اجازت مانگی گئی تھی۔  بار اینڈ بینچ کی خبر کے مطابق،درخواست گزار کی طرف سے سینئر وکیل سنجوئے گھوش نے کہا  کہ دہلی پولیس نے ۹؍ جولائی سے درخواست گزار کی جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کی درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔گھوش نے کہا: ’’ہم کہہ رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ۷۵؍ افراد آئیں گے۔ دہلی پولیس جولائی سے ہماری درخواست پر خاموش ہے۔ انہوں نے اسے مسترد نہیں کیا۔
بعد ازاں عدالت نے پھر ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل (اے ایس جی) چیتن شرما سے پوچھا، ’’آپ اسے بند کیوں نہیں کرتے؟ یہ دہلی کے اندر نہیں ہونا چاہیے۔‘‘جج نے ذاتی طور پر  تبصرہ کیاکہ،’’ احتجاج شہر کے اندر کیوں ہونے چاہئیں؟‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’شہر کو بلاوجہ یرغمال کیوں بنایا جائے؟‘‘ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ قانون و نظم کا معاملہ پولیس کے دائرہ اختیار میں ہے اور  بغیر اس بارے میں کوئی رائے ظاہر کیے کہ اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں، دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزار کی اجازت کی درخواست پر سنیچر تک فیصلہ کرے۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹ احتجاج: مسلم طالبہ نے دہلی پولیس پر مذہبی امتیاز اور تشدد کا الزام عائد کیا

سماعت کے دوران، اے ایس جی شرما نے عدالت کو بتایا کہ یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل اس علاقے میں ممنوعہ احکامات نافذ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ پہلے سے ہی متبادل احتجاجی مقام کی نشاندہی کے وسیع تر معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔یاد رہے کہ ۳؍اگست کو سپریم کورٹ نے ایک عوامی مفاد کی درخواست پر سماعت کرنے پر اتفاق کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جنترمنتر مظاہروں کے لیے اب مناسب جگہ نہیں رہا، کیونکہ وہاں مقیم شہریوں کو تکلیف اور ضروری خدمات میں خلل پڑتا ہے۔عدالت عظمیٰ نے اس وقت سولیسیٹر جنرل تشار مہتا کو ہدایت کی کہ وہ  اس درخواست کے جواب میں مرکزی حکومت کا موقف حاصل کریں۔

یہ بھی پڑھئے: جھارکھنڈ: ہم روشنائی سے تاریخ لکھیں گے: اے آئی ایس اے کی صدر نیہابورا

علاوہ ازیں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) نے قانونی افسر سے کہا، ’’درخواست میں کہا گیا ہے کہ جنترمنتر اب ان احتجاجات کے لیے مناسبجگہ نہیں ہے، کیونکہ داخلی و خارجی راستوں، طبی ضروریات کی فراہمی، سیوریج وغیرہ کے مسائل ہیں، میرے خیال میں یہ اہم معاملہ ہے۔سی جے پی  کی۳۶؍ روزہ احتجاجی مہم کے دوران، جس میں انہوں نے وزیرِ تعلیم دھیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا، جنتر منتر اس احتجاج کا مرکز بنا رہا۔جبکہ دہلی پولیس نے مرکزی دہلی کے ارد گرد بھاری رکاوٹیں کھڑی کر دیں، جس سے اہم سڑکوں پر ٹریفک جام ہو گیا۔ حکام نے بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے احتجاجی مقام اور سرکاری عمارتوں کے قریب تقریباً۱۷؍ دہلی میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستوں کو عارضی طور پر محدود کر دیا، جبکہ مسافروں اور دفتری ملازمین کو اس علاقے میں آمد و رفت میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ٹیکسیوں کے کرایوں میں اضافہ اور نقل و حمل کے نظام میں بھیڑ بڑھ گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK