Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ احتجاج: مسلم طالبہ نے دہلی پولیس پر مذہبی امتیاز اور تشدد کا الزام عائد کیا

Updated: August 07, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi

نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف پارلیمنٹ مارچ میں شریک طلبہ نے دہلی پولیس پر زیادتی، تشدد اور مذہبی امتیاز برتنے کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے پولیس کارروائی اور مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

A female protester who met Rahul Gandhi recently. Photo: INN
گزشتہ دنوں راہل گاندھی سے ملاقات کرنے والی خاتون مظاہرین۔ تصویر: آئی این این

بدھ کو ایک مسلم خاتون مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ دہلی پولیس نے ان کے نام کی وجہ سے انہیں خاص طور پر نشانہ بنایا، انہیں ’’غدار‘‘ قرار دیا اور۲۰؍ جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب ہونے والے اس مارچ کے دوران ان پر تشدد کیا، جس میں نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں پر مرکزی حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ایک دوسری خاتون مظاہرین نے بھی کہا کہ انہیں اسلاموفوبیا پر مبنی گالیوں اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ لوگوں نے انہیں مسلمان سمجھ لیا تھا۔ ان نوجوان مظاہرین نے بدھ کو اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی آپ بیتی بیان کی۔

یہ بھی پڑھئے: مدرسہ کے اساتذہ کو وقت پر تنخواہ دینےسے متعلق بل یوگی حکومت نے واپس لے لیا

اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی گریجویشن کی طالبہ فرح نا ز نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان کے مسلم نام کی وجہ سے انہیں الگ سے نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا:’’ہم پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان پولیس والوں نے ہمیں بے رحمی سے مارا۔ ہمیں زخمی کرنے کے بعد صرف میرے نام کی بنیاد پر میرے بارے میں فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے ہمیں غدار کہا۔ ‘‘ فرح ناز نے کہا کہ مظاہرین ’وندے ماترم‘ اور ’بھارت ماتا کی جئے‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے، اس کے باوجود انہیں ملک دشمن قرار دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا:’’ہمیں زخمی کرنے کے بعد صرف میرے نام کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا اور ہمیں غدار کہا گیا۔ ‘‘ فرح ناز نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی مظاہرین کے خلاف یہی الزامات پھیلائے گئے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ملک کیلئے آواز اٹھانا جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا’’ہم اپنے ملک کیلئے کھڑے رہیں گے۔ جئے ہند، جئے بھارت۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ممتا بنرجی کی پارٹی کے باغیوں میں بغاوت

ایک اور مظاہرین مسکان شرما نے الزام لگایا کہ انہیں بھی اسلاموفوبیا پر مبنی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ لوگ انہیں مسلمان سمجھتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کے دوران پولیس نے حد سے زیادہ طاقت استعمال کی اور ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کے ایک مرد اہلکار نے ان کے جسم کے پچھلے حصے میں لاٹھی مارنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا: ’’میرا خاندانی نام شرما ہے۔ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، اسی لئے مجھے زیادہ گالیاں دی جا رہی ہیں۔ اس سے میرے بارے میں کچھ ثابت نہیں ہوتا، البتہ یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک میں کس قسم کا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ اگر کوئی حکومت کے خلاف آواز اٹھائے تو وہ ملک دشمن کیسے ہو جاتا ہے؟‘‘ 
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنا طلبہ کا کوئی جرم نہیں تھا۔ انہوں نے حکام پر الزام لگایا کہ انہوں نے طلبہ کے خدشات دور کرنے کے بجائے ان پر تشدد کیا۔ راہل گاندھی نے کہا: ’’وہ تشدد نہیں کر رہے تھے، نہ ہی جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے تھے، اس کے باوجود انہیں مارا گیا، ان پر حملہ کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔ ‘‘تعلیمی نظام کو’ناقص‘ اور ’تباہی کے دہانے پر‘ قرار دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اصلاحات کا مطالبہ کرنا ’کوئی جرم نہیں ‘ اور انہوں نے طلبہ کو ’آئین، تعلیمی نظام اور ہندوستان کے مستقبل کیلئے جدوجہد‘کرنے پر سراہا۔

یہ بھی پڑھئے: قرض لینے میں یو پی، بہار اور ایم پی آگے

انہوں نے مظاہرین کو ڈرانے دھمکانے کی مبینہ کوششوں کی بھی مذمت کی اور کہا:’’لوگوں کو زبردستی دبانا، غنڈوں کو گھروں میں بھیجنا، ایک ۱۵؍ سالہ لڑکی سے زبردستی معافی منگوانا اور پھر اس معافی کو قبول کرنا سراسر مضحکہ خیز ہے۔ ‘‘ ممبئی پولیس کی اس وین کو روکنے کے بعد قومی سطح پر توجہ حاصل کرنے والی ریا اہیر، جس میں حراست میں لئے گئے مظاہرین کو لے جایا جا رہا تھا، نے الزام لگایا کہ اس واقعے کے بعد سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’میں نے غیر قانونی طور پر حراست میں لئے گئے۲۰؍ بچوں کے حق میں آواز اٹھائی۔ اب میرے اسی عمل کو مجھے ہراساں کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف ٹرولنگ نہیں بلکہ ایک جرم ہے۔ ‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی کارکنوں نے بھی ان کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد پوسٹ کیا، اور شکایت درج کرانے کے باوجود اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا: ’’بیٹیوں کو نہ پڑھنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں محفوظ زندگی گزارنے دی جا رہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جنترمنتر سے مشہور ہوئے جنید ’بھائی‘ رانچی بھی پہنچ گئے

جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والی نوتن ٹوپو نے الزام لگایا کہ کارروائی کے دوران پولیس نے ان کی جانب پیلیٹ گن سے فائر کیا۔ انہوں نے کہا:’’میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بندوق ہماری طرف تان دی گئی تھی۔ جیسے ہی میں مڑی، مجھ پر فائر کر دیا گیا۔ ‘‘ناگپور سے تعلق رکھنے والے طالب علم بھارت بنائیت نے الزام لگایا کہ مارچ کے دوران پولیس نے مظاہرین کو ’بدترین تشدد‘ کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا:’’یہ ایک سیاہ دن تھا، کسی کو بھی ایسا تجربہ نہیں ہونا چاہئے۔ ‘‘راہل گاندھی نے مبینہ پولیس تشدد کا ذمہ دار مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کو ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا: ’’اس تشدد کے ذمہ دار امت شاہ ہیں۔ ان میں نہ تو پارلیمنٹ آنے کی شائستگی ہے اور نہ ہی اس واقعے پر تبصرہ کرنے کی ہمت۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امت شاہ کو اس مبینہ تشدد کی اطلاع نہیں تھی تو’وہ اپنے عہدے کیلئے نااہل ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK