Updated: July 17, 2026, 9:03 PM IST
| New Delhi
دہلی کی ایک عدالت نے پی ایف آئی کے بانی ای ابوبکر کی ضمانت دوبارہ مسترد کردی، این آئی اے نے ان پر۲۰۴۷ء تک حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا الزام عائد کیا ہے،جبکہ جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ضمانت دینے کی کوئی نئی بنیاد نہیں ہے، کیونکہ ابوبکر کی سابقہ ضمانت کی درخواستیں بھی مسترد ہو چکی ہیں۔
دہلی کی ایک عدالت نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے بانی اور چیئرمین ای ابوبکر کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے تفتیش کیا جا رہا ہے۔ ایجنسی نے ان پر اور دیگر پی ایف آئی لیڈروں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے حکومت ہند کا تختہ الٹنے اور۲۰۴۷ء تک ایک اسلامی خلافت قائم کرنے کی سازش کی۔این آئی اے کے خصوصی جج پرارتھ شرما نے۱۵؍ جولائی کے اپنے حکم میں کہا کہ ضمانت دینے کی کوئی نئی بنیاد نہیں ہے، کیونکہ ابوبکر کی سابقہ ضمانت کی درخواستیں بھی مسترد ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تیسری زبان کا آغاز چھٹی جماعت سے ہی کریں: سپریم کورٹ
یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ان کی صحت خراب ہو گئی ہے اور ان کے خلاف کوئی ٹھوس کیس نہیں ہے ،بوبکر نے باقاعدہ ضمانت کی استدعا کی۔ ان کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ الزامات پہلے ہی طے ہو چکے ہیں اور مقدمے میں تاخیر ہوئی ہے، جس سے ان کی رہائی جائز ہے۔تاہم، عدالت نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔جج نے کہا،’’جس عدالت میں چالان پیش کیا گیا ہے، وہاں مقدمہ زیر التوا ہے، تاخیر کی وجہ اور دیگر انتظامی پہلوؤں کو ملزم کے وکیل نے اجاگر نہیں کیا۔ لہٰذا، مقدمے میں تاخیر کی دلیل بے بنیاد ہے۔‘‘
بعد ازاں این آئی اے نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے دوران جمع کیے گئے کافی شواہد کی بنیاد پر الزاماتپہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں۔ ایجنسی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ابوبکر کو جیل میں مناسب طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔عدالت نے نوٹ کیا کہ دہلی ہائی کورٹ پہلے ہی ابوبکر کی ضمانت مسترد کر چکی ہے اور کوئی نئے حالات سامنے نہیں آئے جو مختلف فیصلے کا جواز فراہم کر سکیں۔ اس نے یہ بھی اشارہ کیا کہ یہ ملزم کی تیسری ضمانت کی درخواست تھی جو مسترد ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’بلڈوزر انصاف‘ پر توہین عدالت کی اپیلوں پر سماعت سے انکار
واضح رہے کہ یہ حکم اس وقت آیا ہے جب اسی عدالت نے چند ہفتے قبل۲۵؍ پی ایف آئی ممبران اور ممنوعہ تنظیم کے خلاف تعزیراتِ ہند اور غیر قانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت الزامات طے کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے کہا تھا، ’’مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ریکارڈ پر موجود مواد شدید شبہ پیدا کرتا ہے کہ ملزمان، پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور اس کی قومی ایگزیکٹو کونسل (این ای سی) کے ذریعے اور ان کی جانب سے کام کرتے ہوئے، ایک ہی سازش کے تحت متفق اور عمل پیرا تھے تاکہ ہندوستان کی سیکولر جمہوری حکومت کا تختہ الٹا جا سکے اور۲۰۴۷ء تک یا اس سے پہلے ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کے ذریعے ہندوستان میں شرعی قانون کے تحت اسلامی خلافت قائم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ کے سابق جسٹس پر گھریلو گیس سلنڈر ایجنسی چلانے کا الزام، لائسنس معطل
ذہن نشین رہے کہ این آئی اے نے اپریل۲۰۲۲ء میں وزارت داخلہ کی ہدایت پر آئی پی سی اور یو اے پی اے کی دفعات کے تحت یہ مقدمہ درج کیا تھا۔ ابوبکر اور دیگر پی ایف آئی لیڈروں کو ستمبر ۲۰۲۲ء میں ملک بھر میں چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ مرکز نے بعد میں پی ایف آئی کو غیر قانونی تنظیم قرار دے دیا۔این آئی اے کے مطابق، ملزمان نے نوجوانوں کو دہشت گردی کے تربیتی کیمپ لگانے، دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے اور فرقہ وارانہ دشمنی کو فروغ دینے کی سازش کی۔ ایجنسی نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ آر ایس ایس کے کئی سینئر رہنماؤں کو ممکنہ اہداف کے طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔
دریں اثناءالزامات طے ہو چکے ہیں، توقع ہے کہ مقدمے کی سماعت اس ماہ کے آخر میں شروع ہو گی جب استغاثہ ملزمان کے خلاف شواہد پیش کرنا شروع کرے گا۔