مراٹھا لیڈر کے احتجاج میں شدت۔۱۲؍ستمبرکو ممبئی جانےکے اعلان کے بارے میں کہا : اگر ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا گیا تو وہ ممبئی مارچ کے اپنے فیصلے پر قائم رہیں گے۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 12:05 PM IST | Agency | Jalna
مراٹھا لیڈر کے احتجاج میں شدت۔۱۲؍ستمبرکو ممبئی جانےکے اعلان کے بارے میں کہا : اگر ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا گیا تو وہ ممبئی مارچ کے اپنے فیصلے پر قائم رہیں گے۔
مراٹھا ریزرویشن تحریک ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ اپنی غیر معینہ مدت بھوک ہڑتال کے ۸؍ویں دن مراٹھا کارکن منوج جرنگے نے پانی اور سلائن لینا بند کر دیا اور علاج کرانے سےبھی انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے تمام مطالبات لاگو کرنے کے علاوہ کچھ نہیں مانیں گے۔ اس پیش رفت سے حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کا عملاً دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی وزراء کے وفد کی جانب سے چند اہم مطالبات پر دو دن کے اندر کارروائی کرنے کی یقین دہانی پر جرنگے نے پانی اور سلائن لینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس ڈیڈ لائن کے بغیر کسی ٹھوس فیصلے کے گزر جانے کے بعدمنوج جرنگے نے اپنا موقف سخت کیا اور ان کا معائنہ کرنے کیلئے آنے والی میڈیکل ٹیم کو واپس بھیج دیا۔ منوج جرنگے نے کہاکہ ’’میں اس وقت تک کچھ نہیں لوں گا اور نہ ہی علاج کرواؤں گا جب تک کہ حکومت ہمارے تمام مطالبات نہیں مان لیتی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ووٹرز کے نام حذف کرنے کا معاملہ: ملزم چند گھنٹے بعد ضمانت پر رہا
منوج جرنگے نے پانی، سلائن یا علاج قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ان کے ممبئی مارچ کی آخری تاریخ قریب آنے کے بعد آندولن وہیں پر واپس آ گیا جہاں سے یہ شروع ہوا تھا۔ اس ہفتے کے شروع میں جرنگے نے ریاستی حکومت کے ایک وفد کی اپیل کے بعد پانی پینے اور سلائن لینے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اب انہوں نے اس پر اپنی رضامندی واپس لے لی ہے۔ انہوں نے یہاں انتروالی سراٹی میں احتجاجی مقام پر ڈاکٹروں کے ذریعہ طبی معائنہ کرانے سے انکار کردیا اور کہا کہ جب تک ان کے مطالبات کو حقیقت میں پورا نہیں کیا جاتا ،وہ کوئی علاج نہیں کروائیں گے۔
حکومت کے وفد نے عندیہ دیا ہے کہ مطالبات پر حتمی فیصلے کا اعلان اگلے ایک دو روز میں کیا جا سکتا ہے۔ تاہم منوج جرنگے نے واضح کیا ہے کہ اگر مطالبات پورے نہیں ہوئے تو وہ۱۲؍ ستمبر کو ممبئی تک مارچ کرنے کے اپنے فیصلے پر قائم رہیں گے۔ اس تحریک کے اہم مطالبات یہ ہیں کہ جسٹس شندے کمیٹی کے ذریعہ شناخت کردہ ۵۸؍ کنبی ریکارڈوں کی بنیاد پر فوری طور پر کنبی سرٹیفکیٹ جاری کئے جائیں اور مراٹھواڑہ میں اہل مراٹھوں کو کنبی کا درجہ دینے کیلئے حیدرآباد گزیٹیئر کی دفعات کو نافذ کیا جائے۔منوج جرنگے پاٹل نے ستارا اور کولہاپور ریاستوں اور اوندھ-پونے-بامبے گورنمنٹ گزیٹیئرز میں موجود دفعات کو نافذ کرنے کیلئے ایک جی آر جاری کرنے اور ذات کے جواز کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے طریقہ کار پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ دیگر اہم مطالبات میں سگے -سوئرے (خون کے رشتہ داروں) کے نوٹیفکیشن کا فوری نفاذ، مہاراشٹر بھر میں مراٹھا مظاہرین کے خلاف درج تمام مقدمات کو واپس لینا (بشمول انتروالی سراٹی تحریک سے متعلق) اور ایک علاحدہ مراٹھا اور کنبی وزارت کا قیام شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مساوی رقبے والا عالمی نقشہ قبول لیکن جموں کشمیر اور لداخ پر کوئی سمجھوتہ نہیں
’’حکومت۱۲؍ستمبر کو جی آر جاری کرے‘‘
منوج جرنگے نے کہا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، وہ اپنا احتجاج واپس نہیں لیں گے۔ انہوں نے یہ بھی اعادہ کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر غور نہیں کیا گیا تو وہ ۱۲؍ستمبر کو ممبئی تک مارچ کرنے کے اپنے فیصلے پر قائم رہیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ۱۲؍ ستمبر تک ایک جی آر جاری کرے، اہل مراٹھوں کو کنبی سرٹیفکیٹ جاری کرے۔ اس سے کمیونٹی کے ممبران دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے تحت ریزرویشن کے فوائد حاصل کر سکیں گے۔
جرنگے کے مختلف مطالبات
انہوں نے اہل درخواست دہندگان کیلئے فوری طور پر کنبی سرٹیفکیٹ اور ان لوگوں کیلئے ذات کی تصدیق کے سرٹیفکیٹ کا مطالبہ کیا ہے جو پہلے ہی کنبی کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے مراٹھا برادری کو او بی سی سہولیات اور مراعات دینے کے حکومت کے حکم نامے پر موثر عمل آوری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ منوج جرنگے یہ بھی چاہتے ہیں کہ ’سارتھی‘ تمام زیر التواء اسکیموں کو نافذ کیا جائے، ڈاکٹر پنجاب راؤ دیشمکھ اسکالرشپ کیلئے فنڈز جاری کئے جائیں اور ہاسٹل کی سہولیات میں توسیع کی جائے۔ انہوں نے ریزرویشن تحریک کے دوران مارے گئے مظاہرین کے اہل خانہ کیلئے نوکریوں اور مالی امداد کا بھی مطالبہ کیاہے۔