شہزادی ڈائنا کے بھائی ارل اسپینسر نے دعویٰ کیا کہ مرحوم ملکہ نے شہزادی ڈائنا کے کار حادثے کی خبر پر چڑچڑے پن سے ردعمل ظاہر کیا تھا جبکہ انہیں پوری خبر کی شدت کا علم بھی نہیں تھا۔
EPAPER
Updated: September 19, 2026, 10:08 PM IST | London
شہزادی ڈائنا کے بھائی ارل اسپینسر نے دعویٰ کیا کہ مرحوم ملکہ نے شہزادی ڈائنا کے کار حادثے کی خبر پر چڑچڑے پن سے ردعمل ظاہر کیا تھا جبکہ انہیں پوری خبر کی شدت کا علم بھی نہیں تھا۔
جمعہ کو اپنی یادداشت کے حالیہ اقتباس میں، شہزای ڈائنا کے بھائی نے کہا، ’’جب ملکہ نے ڈائنا کےکارحادثے کی ادھوری خبر سنی تھی، اس سے پہلے کہ اس سب کی سنگینی واضح ہو، انہوں نے چڑچڑے پن سے پوچھا تھا، وہ اب کیا کر رہی ہے؟ بعد ازاں ارل نے، بکنگھم پیلس کی جانب سے ردعمل کے بعد، جس میں کہا گیاتھا کہ بادشاہ اس بات سے واقف ہیں کہ ’’غم عقل کو دھندلا سکتا ہے‘‘ اصرار کیا ہے کہ وہ اپنے دعووں کے بارے میں سچ بول رہا ہے۔جبکہ ایک اقتباس میں، پرل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملکہ نے ان کی بہن کے شاہی لقب کو بحال کرنے پر غور کیا تھا، جو اس نے چارلس سے طلاق کے وقت کھو دیا تھا۔واضح رہے کہ یہ الزامات شاہی خاندان اور کنگ چارلس کے خلاف کیے گئے الزامات کے سلسلے میں تازہ ترین ہیں۔ یہ دعویٰ کرنے کے بعد کہ چارلس نے ڈائنا کی موت کے بعد کے دنوں میں فون پر ان سے کہا تھا کہ ان کی بہن کو ’’جلد ہی بھلا دیا جائے گا‘‘ ارل نے جمعہ کو بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’’سچ بول رہا ہے ۔ارل نے کہا،’’میں آپ کو یہاں اور ابھی بتا سکتا ہوں، یہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو اس نے کہے تھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: شہزادی ڈیانا کی موت پر کنگ چارلس خوش تھے، ارل اسپینسر کا دعویٰ
جمعہ کو ارل اسپینسر کی کتاب کے تازہ ترین اقتباس میں کنگ چارلس کے بارے میں مزید حیرت انگیز دعوے کیے گئے ہیں۔چونکہ شاہی محل نے اس کے دعوے کو جھٹلایا ہے، اسلئے پرل کا اصرار ہے کہ سچ بول رہا ہے۔اپنے تازہ ترین حصے میں، ارل نے کہا ہے کہ ڈائنا کی موت کے بعد ،’’ہیری کے لیے واضح دیکھ بھال کی کمی‘‘ نے اسےاس اقدام پر مجبور کردیا۔انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ طلاق کے بعد چارلس شہزادی ڈائنا کے جنازے میں کیوں تھے، جبکہ انہوں نے علاحدگی اختیار کرلی تھی، یقینی طور پر ان کی سابقہ بیوی کے جنازے میں ان کی کوئی جگہ نہیں تھی۔علاوہ ازیں ارل اسپینسر نے یہ بھی لکھا کہ کس طرح مرحوم ملکہ نے، اس سے پہلے کہ انہیں صورتحال کی سنگینی کا علم ہو شہزادی ڈائنا کی کار حادثے کا شکار ہونے کی خبر پر ’’چڑچڑے پن‘‘ سے ردعمل ظاہر کیا تھا ۔مزید برآںارل نے دعویٰ کیا کہ شاہی خاندان کے کچھ افراد نے ڈائنا کے شاہی لقب کو ہٹانے پر ’’خوشی‘‘ محسوس کی تھی۔
جمعہ کو نشر ہونے والے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، انہوں نے تجویز کیا کہ چارلس ڈائنا کی موت کے بعد کے دنوں میں ارل سے کیے گئے تبصروں پر شرمندہ تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’میری زندگی کے کسی بھی مرحلے پر پرنس چارلس کے ساتھ لائن پر صرف دو کالز ہوئی ہیں۔‘‘ ارل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چارلس نے ڈائنا کے جنازہ کے جلوس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔اور کہا تھا کہ لوگ اسے جلد ہی بھول جائیں گے۔ساتھ ہی ولیم اور ہیری کے اپنی ماں کے جنازے کے پیچھے چلنے پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ارل نے مزید کہا،ڈائنا کی موت کے بعد ملکہ نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ڈائنا کا تابوت ونڈسر کیسل کے قریب فروگمور میں شاہی قبرستان میں رکھا جائے۔لیکن میرا خاندان اس بات پر بضد تھا کہ ڈائنا کو التھورپ گھر آنا چاہیے۔
بعد ازاں ایک شاہی مبصر نے کہاارل اسپینسر کا ملکہ کے بارے میں تازہ ترین تبصرہ ’’ناقابل یقین حد تک ناخوشگوار‘‘ ہے۔مبصر نے مزید کہا کے،’’مجھے ارل اسپینسر کا ایسا کرنا ناقابل یقین حد تک دشمنی لگتا ہے۔ یہ واقعی سفاکانہ ہے، اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کا مقصد کیا ہے اور میں یہ نہیں سوچ سکتی کہ اس سے کس کو فائدہ ہوگا، ظاہر ہے اس کے بٹوے کو۔تقریباً۳۰؍ سال بعد اس سانحے کو دوبارہ پیش کرنے کا کیا فائدہ ہے۔ ایسا ولیم اور ہیری یقینی طور پر نہیں چاہیں گے۔‘‘جبکہ ارل نے دعویٰ کیا کہ شاہی محل نے ان کے دعووں کی تردید نہیں کی ہے۔