• Sun, 13 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی فورسیزکا فلسطینی صحافی کے گھر پر چھاپہ

Updated: September 13, 2026, 7:04 PM IST | Jerusalem

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسیز نے فلسطینی صحافی کے گھر پر چھاپہ مارا، ان کے بیٹے کو مارا پیٹا، اور صحافی کو خود کو پیش کرنے کیلئے ایک گھنٹے کا الٹی میٹم دیا۔

Palestinian journalist Ali al-Samoudi. Photo: X
فلسطینی صحافی علی السامودی۔ تصویر: ایکس

مقامی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی صحافی علی السامودی کے گھر پر چھاپہ مارا، ان کے بیٹے کو مارا پیٹا اور رپورٹر کو خود کو پیش کرنے کے لیے ایک گھنٹے کا الٹی میٹم دیا۔واضح رہے کہ فلسطینی صحافیوں کو گرفتاریوں، حملوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے، اسی دوران یہ چھاپہ مارا گیا ہے۔۵۹؍ سالہ السامودی فوجی کارروائی کے دوران جنین میں اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے، اور یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں گے یا نہیں۔جبکہ تجربہ کار صحافی کو اس سے قبل۳۰؍ اپریل کو اسرائیلی انتظامی حراست میں بغیر کسی الزام کے ایک سال قید میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔تاہم رہائی پر، السامودی نےاس وقت اسرائیلی حکام پر خوراک سے محرومی کا الزام عائد کیا تھا، جس نتیجے میں ان کےوزن میں کمی واقع ہوئی تھی،ساتھ ہی اسرائیلی جیل حکام پر تشدد، جسمانی بدسلوکی اور بنیادی حقوق سے انکار کا الزام لگایا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فورسیزنے جمعرات کو جنوبی مقبوضہ مغربی کنارے میں بیت لحم میں ان کی رہائش گاہوں پر چھاپوں کے بعد فلسطینی صحافیوں صبری موسیٰ جبریل اور معاذ عمارنہ کو اغوا کر لیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: حوثیوں کا بحیرۂ احمر کے ساحل پر مکمل کنٹرول، سعودی تیل پائپ لائن بند

میڈیا پر کریک ڈاؤن
فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ نے صرف اگست کے دوران اسرائیلی فورسیزاور غیر قانونی آباد کاروں کی جانب سے میڈیا ورکرز کے خلاف۸۴؍ الگ الگ خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی، جس میں حراست میں ایک صحافی کی موت اور دوسرے کا براہ راست فائرنگ سے زخمی ہونا شامل ہے۔علاوہ ازیںسنڈیکیٹ نے تصدیق کی کہ دستاویزی بدسلوکیوں میں رپورٹنگ عملے پر براہ راست حملے، فیلڈ کوریج میں شدید رکاوٹ، من مانی گرفتاریاں اور صحافتی آلات کی جان بوجھ کر تباہی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نائن الیون کو مسلمانوں کیخلاف نفرت کیلئے استعمال نہ کریں: متاثرہ کے بیٹے کی اپیل

ذہن نشین رہے کہ ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو غزہ میں اپنی نسل کشی کی جنگ شروع کرنے کے بعد سے، اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑے پیمانے پر تلاشی اور گرفتاری کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، ساتھ ہی آباد کاروں کے حملوں اور فلسطینی گھروں اور شہری انفراسٹرکچر کی بڑے پیمانے پر مسماری میں اضافہ ہوا ہے۔فلسطینی قیدی سوسائٹی کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی حراستی مراکز میں۹۴۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی قید ہیں، جن میں ۳۷۰؍ بچے اور۹۲؍ خواتین شامل ہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ قیدیوں کو منظم تشدد، جسمانی بدسلوکی اور شدید طبی غفلت کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK