• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پنک کو یونیسیف سفیر کے عہدے سے ہٹانے کی پٹیشن پر ۶۰؍ ہزار دستخط

Updated: September 18, 2026, 10:22 AM IST | Washington

امریکی گلوکارہ پنک کو یونیسیف کی سفیر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی آن لائن پٹیشن پر ۶۰؍ ہزار سے زیادہ تصدیق شدہ دستخط ہو گئے ہیں۔ پٹیشن کے منتظمین نے فلسطینی حقوق کے حامیوں کے بارے میں پنک کے بیانات کو یونیسیف کے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کے سفیر کے کردار کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Pink. Photo: INN.
پنک۔ تصویر: آئی این این

امریکی گلوکارہ پنک کو یونیسیف کی سفیر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی ایک آن لائن پٹیشن پر ۶۰؍ ہزار سے زیادہ تصدیق شدہ دستخط ہو چکے ہیں۔ یہ پٹیشن پنک کی جانب سے ایڈ شیران کے ٹور میں بطور افتتاحی فنکار پرفارم کرتے ہوئے میکلمور کے فلسطین حامی بیانات پر تنقید کے بعد شروع کی گئی ہے۔ یہ پٹیشن ۱۱؍ ستمبر کو Change.org پر شروع کی گئی تھی، جس میں یونیسیف سے پنک کے سفیر کے کردار کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی حقوق کے حامیوں کے بارے میں پنک کے حالیہ بیانات اس تنظیم کے انسانی ہمدردی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں تعلیمی آزادی شدید طور پرمحدود، حکومت کے اثر ورسوخ میں اضافہ: رپورٹ

پٹیشن کے منتظمین نے کہا کہ یونیسیف کے سفیروں کو قومیت یا سیاسی وابستگی سے قطع نظر بچوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کو فروغ دینا چاہیے۔ ان کا الزام ہے کہ ۴۷؍ سالہ پنک نے اپنے عوامی بیانات کے ذریعے ان اصولوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ منتظمین نے یونیسیف سے اس بات کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا کہ تنظیم سخت انسانی ہمدردی کی غیر جانبداری برقرار رکھے اور اس کے سفیر تنازعات سے متاثر ہونے والے تمام بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔ ۴۳؍ سالہ میکلمور کو فلسطینیوں کی حمایت میں بیانات دینے کے بعد شیران کے ٹور کی باقی ماندہ امریکی تاریخوں سے الگ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں پرفارمنس کے دوران فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: شہزادی ڈائنا کے بھائی کی کتاب میں سنسنی خیز دعوؤں پر تنازع، شاہی خاندان کے ساتھ لفظی جھڑپیں

گریمی ایوارڈ یافتہ ریپر نے کفّیہ پہنا، اپنا فلسطین حامی گانا ’’ہندز ہال‘‘ پیش کیا، جبکہ اس دوران اسکرینوں پر غزہ کی تصاویر دکھائی گئیں۔ انہوں نے حاضرین سے کہا کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے عوام کو فراموش نہیں کیا گیا ہے۔ بعد ازاں ۳۵؍ سالہ ایڈ شیران نے کہا کہ میکلمور کو ٹور سے ہٹانے کا فیصلہ منتظمین نے کیا تھا، کیونکہ مقامات کے مالکان نے کنسرٹس منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ شیران کے مطابق انہوں نے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں اپنے خیالات کو عوامی سطح پر بیان نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ میکلمور کو ٹور سے الگ کیے جانے کی اجازت دینے پر ایڈ شیران کو شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK