• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیٹرول پمپ کویوپی آئی کے نئے نظام سے مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ

Updated: September 19, 2026, 10:50 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

ممبئی کے پیٹرول ڈیلرس اسوسی ایشن نے حکومت کے ذریعے اضافی چارج کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی۔ متنبہ کیا کہ نظرثانی نہ کرنےپر ۱۵؍اکتوبر سے یوپی آئی سہولت بندکردی جائے گی۔

Petrol pump dealers have warned against accepting UPI payments. Photo: INN
پیٹرول پمپ ڈیلروں نے یوپی آئی سے ادائیگی قبول نہ کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ تصویر: آئی این این

ممبئی کے پیٹرول ڈیلرس اسوسی ایشن نے ریزرو بینک آف انڈیا اور وزارت مالیات سے پیٹرول پمپ کو یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس( یوپی آئی ) کے نئے نظام سے مکمل طور پر مستثنیٰ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسوسی ایشن نے متنبہ کیا کہ اگر اضافی چارج کے فیصلے پر نظرثانی نہیں کی گئی تو ڈیلرس یوپی آئی سہولت بند کرنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔

مرکزی حکومت نے ۲؍ہزار رو پے سے زیادہ کے لین دین پر ۰ء۴؍فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ( ایم ڈی آر) متعارف کرایا ہے جس میں بعض چھوٹے   تاجروں کیلئے رعایت دی گئی ہے۔ پیٹرول پمپ  جو اکثر وسیع پیمانےپر لین دین کرتے ہیں،  اس اضافی چارج پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں ۔

پیٹرول ڈیلرس اسوسی ایشن نے پہلے ہی حکومت سے فیول اسٹیشنوں کو نئے چارج سے مستثنیٰ کرنے کی درخواست کی  ہے۔ اگرچہ حکومت نے اس درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ اس وجہ سے ملک کے مختلف حصوں سے اطلاع مل رہی ہے کہ پیٹرول پمپ یو پی آئی کی ادائیگیوں سے انکار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ممبئی: ایف ڈی اے نے نائر اسپتال کینٹین اور اولمپیا کافی ہاؤس کا لائسنس معطل کیا

مذکورہ اسوسی ایشن کے صدر چیتن مودی کے مطابق ’’صفر ایم ڈی آر نظام کی یقین دہانی پر کی گئی سرمایہ کاری کے بعد ہمارے پیٹرول پمپ پر ایندھن کی ۶۰؍ فیصد سے زیادہ فروخت اب ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے ہوتی ہے ۔صفر ایم ڈی آر کی واضح یقین دہانی کی وجہ سے تمام ایندھن اور ڈیزل کی فروخت کے لین دین کا ۶۰؍فیصد سے زیادہ ڈیجیٹلائزیشن ہوچکا ہے لیکن اب جو نیا نظام متعارف کرانے کیلئے کہا گیاہے، اس سے ہمارے کاروبار میں بحران پیدا ہوسکتا ہے۔‘‘

’’ایسے میںانہیں ایم ڈی آر کو برداشت کرنا ہوگا‘‘

ڈیلروں کا کہنا ہےکہ تقریباً ایک دہائی سے ان کے کمیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جبکہ آپریٹنگ اور تعمیل کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔  ایندھن کی قیمتوں کے ریگولیٹ ہونے سے لین دین کی فیس  صارفین پر ڈالنا مناسب نہیں ہے۔ ایسے میں انہیںایم ڈی آر کوبرداشت کرنا ہوگا ۔

کنزیومر کمیونٹی پلیٹ فارم لوکل سرکلز کے سروے کےمطابق صرف ۱۷؍فیصد کاروباریوں نے ۲؍ ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین پر ۰ء۴؍ فیصد ایم ڈی آر برداشت کرنے کی ہامی بھری ہے جبکہ ۴۱؍ فیصد نے اس نئے نظام کی مخالفت کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مخدوم علی مہائمیؒ فلائی اوور اوروائی بریج کو جوڑنے کا کام ۲۲؍ فیصد مکمل

پیٹرول پمپ مالک نے کیا کہا؟

بائیکلہ پر واقع پیٹرول پمپ کے مالک عبدالصمد نے کہا کہ ’’پیٹرول پمپ پر  زیادہ تر لوگ عام طور پر کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں یا یوپی آئی استعمال کرتے ہیں۔ ۲؍ہزار روپے سے زیادہ کے ہر لین دین پر اضافی چارج کرنے سے پیٹرول پمپ آپریٹرس کی آمدنی براہ راست متاثر ہوگی۔ اس لئے ممبئی میں پیٹرول ڈیلرس اسوسی ایشن نے نئے نظام کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK