منوج جرنگے نے ۲۹؍ اگست کو آزاد میدان پر احتجاج کا اعلان کیا تو لکشمن ہاکے نے بھی یکم ستمبر کو اسی جگہ او بی سی مورچےکا اعلان کیا۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 3:57 PM IST | Agency | Mumbai
منوج جرنگے نے ۲۹؍ اگست کو آزاد میدان پر احتجاج کا اعلان کیا تو لکشمن ہاکے نے بھی یکم ستمبر کو اسی جگہ او بی سی مورچےکا اعلان کیا۔
ریاست میں ایک بار پھر مراٹھا اور او بی سی سماج کے درمیان کشیدگی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ مراٹھا کارکن منوج جرنگے نے کنبی سرٹیفکیٹ کیلئے ۲۹؍ اگست سے احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک روز قبل خبر آئی تھی کہ انہوں نے ممبئی پولیس کو خط لکھ کر آزاد میدان میں احتجاج کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ اب او بی سی کے نوجوان کارکن لکشمن ہاکے نے بھی ممبئی کے آزاد میدان پر ہی او بی سی سماج کے مورچے کی اجازت طلب کی ہے۔ دونوں سماج کی جانب سے ممبئی میں احتجاج کے اصراف پر ایک بار پھر ریاست میں مراٹھا بنام او بی سی منظر نامہ تیار ہونے کا خدشہ محسوس ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ جنگ: ٹرمپ کا دباؤ، جنوبی کوریا کو امریکی اتحاد پر تشویش
یاد رہے کہ منوج جرنگے نے منگل کے روز ممبئی پولیس کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں آزاد میدان میں احتجاج کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ احتجاج صبح ۱۰؍ بجے سے شام ۶؍ بجے تک ہوگا جس میں ۵؍ ہزار سے زائد لوگ جمع ہوں گے۔ البتہ خط میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ احتجاج پُر امن ہوگا اور کسی بھی طرح کا تشدد یا توڑ پھوڑ نہیں ہوگی۔ اس خبر کے آتے ہی او بی سی کے نوجوان کارکن لکشمن ہاکے بیڑ میں ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے یکم ستمبر کو او بی سی سماج کی جانب سے ممبئی کے آزاد میدان پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیلئے ممبئی پولیس کو خط لکھا جا چکا ہے۔ ہاکے کا کہنا ہے کہ ’’ اب او بی سی ریزرویشن پر آنچ آنے لگی ہے اس لئے ریزرویشن کی حفاظت کی خاطر ہم یکم ستمبر ۲۰۲۶ء کو ممبئی کے آزاد میدان پراحتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا ’’ ہماری کسی سےمخاصمت نہیں ہے لیکن آئین اور سپریم کورٹ نے جسے منظور نہیں کیا وہ ریزرویشن آپ کو کیوں چاہئے؟ اب ہم متحد ہو کر ممبئی کی طرف کوچ کریں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یورپ: موسمیاتی تبدیلی نے سمندروں کا درجہ حرارت ۲؍ درجہ سیلسیس بڑھا دیا
لکشمن ہاکے کا کہنا ہے کہ ’’ریاست میں۲۲؍ لاکھ ۲۰؍ ہزار ۵۷۷؍کنبی سرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے ہیں جبکہ مراٹھا سماج کو پسماندہ تسلیم نہیں کیا گیا ہے پھر یہ سرٹیفکیٹ کیوں تقسیم کئے جا رہے ہیں؟ اس کی وجہ سے بنیادی طور پر جو او بی سی ہیں ان کے ریزرویشن پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ انہیں نوکریوں میں بڑے پیمانے پر نقصان ہونے والا ہے۔‘‘ لکشمن ہاکے نے سوال کیا ’’جب الیکشن آتا ہے تو سبھی پارٹیوں کو او بی سی سماج کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب جبکہ او بی سی ریزرویشن خطرے میں ہے تو سارے او بی سی لیڈران خاموش کیوں ہیں؟ ‘‘ انہوں نے کہا کہ مغربی مہاراشٹر میں کنبی تھے ہی نہیں ، یہاں مراٹھا سماج کو کنبی تسلیم کرنا سماجی بے وقوفی ہے۔ وزیر اعلیٰ یہ وضاحت کریں کہ ( کنبی سرٹیفکیٹ کی تقسیم سے) او بی سی ریزرویشن کو نقصان کیسے نہیں پہنچے گا؟ لکشمن ہاکے نے ۲؍ ٹوک انداز میںکہا’’ اب او بی سی ریزرویشن کو بچانے کیلئے لڑنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ اسلئے میری اپیل ہے کہ یکم ستمبر کو مہامورچہ میں ریاست کے تمام او بی سی بھائی شامل ہوں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: وزیر تعلیم کی جانب سے ٹی ای ٹی امتحان کے آن لائن انعقاد کا اعلان
یاد رہے کہ اس سے قبل منوج جرنگے بھی اسی طرح کی بات کہہ چکے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر بھر میں ۵۸؍ لاکھ سے زیادہ افراد کے کنبی ریکارڈ ملے ہیں لیکن انہیں کنبی سرٹیفکیٹ نہیں دیا جا رہا ہے۔ جنہیں دیا گیا انہیں کاسٹ ویلڈیٹی کمیٹی منسوخ کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر ایکناتھ شندے پر دغا بازی کا الزام لگایا جبکہ وزیر چندر شیکھر باونکولے کو اس کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا جوکہ او بی سی سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔ منوج جرنگے کا بھی یہی کہنا ہے کہ اب مراٹھا سماج کے پاس لڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس لئے ۲۹؍ اگست کو پوری مراٹھا برادری احتجاج میں شامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ’’ یہ مراٹھوں کی آخری لڑائی ہوگی جس میں آر یا پار کا فیصلہ ہوگا۔‘‘ دونوں جانب سے احتجاج اور مزاحمت کی دھمکیوں کے بعد ایک بار پر ریاست میں ریزرویشن کے نام پر ہنگامے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔