۵؍ مقامات پر احتجاج۔ پولیس کی پکڑدھکڑ۔تشار گاندھی اور متعدد سیاسی لیڈران کو گھنٹوں پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ۔ پولیس کے رویے پر کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا :پوری ممبئی پولیس اسٹیٹ بن گئی ہے
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 3:44 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
۵؍ مقامات پر احتجاج۔ پولیس کی پکڑدھکڑ۔تشار گاندھی اور متعدد سیاسی لیڈران کو گھنٹوں پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ۔ پولیس کے رویے پر کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا :پوری ممبئی پولیس اسٹیٹ بن گئی ہے
پیپرلیک، جنترمنتر پر پولیس کے بے رحمانہ لاٹھی چارج کے خلاف اور کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت میں تیسرے دن بھی ممبئی میںمظاہرےکئے گئے اورپولیس نےپکڑ دھکڑ شروع کی ۔ بدھ کو شہر ومضافات کے ۵؍مقامات پراحتجاج کا اعلان کیا گیا تھا ۔ پولیس کی جانب سے کارروائی کی گئی ۔ تشار گاندھی اور متعدد سیاسی لیڈران کو گھنٹوں پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا، اس کے باوجود طلبہ کی حمایت اور احتجاج کو درست قرار دیتے ہوئے دوٹوک انداز میں واضح کیا گیا کہ اب خاموش رہنے کاوقت نہیں۔
کن ۵؍مقامات پراحتجاج کا اعلان کیاگیاتھا
جن ۵؍مقامات پر احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا، ان میںمیٹھی بائی کالج سے کیفی اعظمی پارک ، امبیڈکر گارڈن چمبور، شیواجی پارک دادر، واشی میں کینڈل مارچ اورپوائی چیتنیہ نگر بھاجی مارکیٹ ، آئی آئی ٹی مارکیٹ شامل ہیں۔ اس احتجاج میں یہ پیغام دیا گیا کہ ہم اپنے مستقبل کیلئے متحد ہوںاور آواز بلند کریں۔ آزادیٔ اظہار رائے ہمارا آئینی حق ہے، ہم سب سونم وانگ چک اور ابھیجیت دپکےکے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس اعلان کے پیش نظر پولیس پہلے سے ہی حرکت میںآئی اوران تمام مقامات پرنگرانی کرنے کےساتھ مظاہرین کوتحویل میں لیا گیا۔ پولیس کی سختی کے باوجود شیواجی پارک اور دیگر جگہوں پر مظاہرین جمع ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی: طلبہ کے ساتھ جو ہوا وہ غلط تھا: پولیس وین کے سامنے ڈٹ جانے والی خاتون
اس کےعلاوہ این سی پی (شردپوار) کی جانب سے ڈونگری میں بھی زبردست احتجاج کیا گیا جبکہ شیواجی پارک پر احتجاج میں مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے بھی پہنچے اور انہوں نے مظاہرین سے خطاب کیا۔
کن سیاسی لیڈران اور سماجی شخصیات کو پولیس نے تحویل میںلیا
بدھ کی صبح سے ہی پولیس حرکت میں آئی ۔ احتجاج میں شامل ہونے کیلئے گاندھی بھون پہنچنے والے تشارگاندھی اور کانگریس کے لیڈران کو قلابہ پولیس اسٹیشن لایا گیا ۔ہم بھارت کے لوگ کے رکن فیروز میٹھی بور والا اورسلیم صابو والا کوصبح ۱۱؍بجے ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ شیتکری کامگار پکش کے لیڈر ایڈوکیٹ راجو کورڈے کو وڈالاپولیس اسٹیشن میں صبح ۹؍ بجے لایا گیاجبکہ سی پی آئی ایم لیڈر ڈاکٹر رویندر مدنے کواندھیری دفتر سے ڈی این نگر پولیس اسٹیشن لایا گیا ۔ سی پی آئی ایم ممبئی کے سیکریٹری کامریڈ شیلندر کامبلے کےگھر بھی پولیس پہنچی مگر وہ کسی طرح نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ عامر قاضی کے گھر اور دفتر بھی پولیس اہلکار پہنچے مگر وہ نہیں ملے۔ان لیڈران کوکئی گھنٹے تک پولیس اسٹیشن میں بٹھایا گیا پھرا چھوڑدیا گیا ۔
تشار گاندھی نےنمائندۂ انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ’’ گاندھی بھون کے باہرکانگریس کی جانب سے احتجاج میں شرکت کیلئے جانے پر مجھےقلابہ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور ڈیڑھ گھنٹے بعد چھوڑا گیا۔ان کاکہناہےکہ ’’اب مزید خاموش نہیں رہا جاسکتا۔ وقت آگیا ہے کہ سڑکوں پر اتریں اورکھل کو حکومت کے خلاف اورطلبہ و نوجوانوں کی حمایت میں آواز بلند کریں۔ دہلی میںجو کچھ ہوا اور جس طرح طلبہ اور نوجوانوں کونشانہ بنایا گیا، وہ انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آئن لائن طریقے سے معلوم کریں، بی ایل او نے آپ کا فارم جمع کروایا کہ نہیں
’’پوری ممبئی پولیس اسٹیٹ بن گئی ہے‘‘
پولیس کے طریقۂ کار پر سخت تنقید کرتے ہوئے ممبئی کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ پوری ممبئی پولیس اسٹیٹ بن گئی ہے۔ پرامن طلبہ بنیادی احتساب کا مطالبہ کرنے کیلئے چمبور، جوہو اور شیواجی پارک وغیرہ میں سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور ممبئی پولیس ان کے ساتھ غنڈوں کے پرائیویٹ اسکواڈ کی طرح برتاؤ کر رہی ہے۔ خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے۔ افسران طلبہ کو ان کے گھروں میں گھیر رہے ہیں اور بغیر کسی وارنٹ کے لائیو لوکیشنز کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ چمبور کے آر سی ایف پولیس اسٹیشن میں زیر حراست طلبہ کو ان کے وکلاء سے ملاقات کیلئے غیر قانونی طور پر روکا جا رہا ہے۔ اس نے طلبہ کو فوراً رہا کرنے اور انہیں اپنے وکلاء تک رسائی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے اخیر میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’آپ کے اوچھے ہتھکنڈے اس تحریک کو کچل نہیں سکتے!‘‘