شہر کے ڈی او ر ای وارڈ میں مچھروں کی سب سے زیادہ افزائش اور تعداد والے مقامات ہونے سے شہری انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات بڑھائے۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 10:58 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
شہر کے ڈی او ر ای وارڈ میں مچھروں کی سب سے زیادہ افزائش اور تعداد والے مقامات ہونے سے شہری انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات بڑھائے۔
شہر ومضافات میں ہونے والی متواتر بارش کی وجہ سے مچھروں سے پھیلنے والی بیماریاں دوبارہ سر اُٹھانے لگی ہیں۔ جنوبی ممبئی کے ڈی اور ای وارڈ، ان دنوں ڈینگواور ملیریا کے ہاٹ اسپاٹ بنے ہوئے ہیں۔ان دونوں وارڈوں میں مچھروں کی سب سے زیادہ افزائش اور تعداد والے مقامات ہونے سے شہری انتظامیہ نے یہاں پر احتیاطی اقدامات بڑھا دیئے ہیں۔ان دونوں وارڈ میں ڈینگو کے علاوہ ملیریا اور ٹائیفائڈ وغیرہ سے بھی کافی لوگ پریشان ہیں۔نجی دواخانوں پر مریضوں کی بھیڑ نظر آ رہی ہے ۔ بیشتر مریضوں کو انہی امراض کی شکایت ہے۔
یکم جنوری سے ۲۷؍جولائی ۲۰۲۶ء کی مدت میں، قومی کیڑوں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے کنٹرول پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق، ریاست میں ڈینگو کے ایک ہزار ۲۱؍ کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ۳۱۹؍ ممبئی میں پائے گئے ہیں۔ رائے گڑھ میں۲۲۶؍ پونے میں ۱۷۳؍، ناگپور میں ۵۰؍ ،ناسک میں ۵۸؍ اور تھانے میں ۵۸؍ رپورٹ ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس سال ممبئی میں ڈینگو سے کوئی موت نہیں ہوئی ہے لیکن شہر میں کیس کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویشناک ہے۔ شہر میں چکن گنیا کے۳۳؍ کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور زیکا وائرس کا کوئی کیس نہیں ہے ۔ البتہ انتظامیہ اس معاملے میں بھی چوکنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر ریلوے سے غریب نگر باشندوں کی باز آبادکاری کیلئے مداخلت کی اپیل
میونسپل کارپوریشن کے محکمہ اعدادوشمار کے مطابق ڈی وارڈ میں ڈینگو کے سب سے زیادہ ۱۵؍کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کے بعد سی وارڈ میں ۲؍ ای وارڈ میں ۸؍اور بی وارڈ میں ۳؍کیس سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ اے وارڈ میں ڈینگو کا کوئی تصدیق شدہ کیس نہیں ہے تاہم ۳؍ مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ حتمی رپورٹ آ نے کے بعد معلوم ہوگا کہان مریضوں کو واقعی ڈینگو ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ ملیریا کے سب سے زیادہ معاملات ای وارڈمیں ہیں جہاں ۶۴؍ کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔ڈی وارڈ میں ۲۲؍ سی وارڈ میں ۱۹؍، اے وارڈ میں ۱۷؍ اور بی وارڈ میں ۹؍مریض پائے گئے ہیں۔ پیسٹ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے معائنہ میں اینوفیلس مچھروں کی ۷۲۲؍ افزائش کی جگہیں اور ای وارڈ میں ایڈیس مچھروں کی ایک ہزار ۲۳۷؍افزائش کی جگہیں ملی ہیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اے وارڈ میں ایڈیس مچھروں کی ایک ہزار ۳افزائش کے مقامات کے باوجود ڈینگو کا ایک بھی تصدیق شدہ کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
دریں اثنا، ای وارڈ میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں بھی سرفہرست ہے، شدید گیسٹرو کے ۳۴؍کیس اور ٹائیفائیڈ کے۳۴؍ کیس پائے گئےہیں۔اس دوران جن وارڈوںمیں موسمی بیماریو ںکے زیادہ معاملات درج کئے گئےہیں ان علاقوں کے نجی دواخانوں میں مریضوں کی بھیڑ ہے ۔ ملیریا، ڈینگو، ٹائیفائڈ اور گیسٹرو وغیرہ کے مرض میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد بڑھی ہے۔ جس سے لوگ پریشان ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی سانحہ: مقامی افراد کے بروقت اقدام نے کئی جانیں بچائیں
یاد رہے کہ شہر میں بارش کا سلسلہ جولائی کے وسط میں تھم گیا تھا لیکن جولائی کے آخری عشرے میں دوبارہ بارش شروع ہو گئی اور کئی مقامات پر کیچڑ اور گندگی نظر آنے لگی جو کہ مچھروں کی افزائش کا سبب ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے بیماریاں بھی پھیلتی ہیں۔