Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی ای ٹی کے مشکل ہونے کےباوجود ان اساتذہ نے کئی مرتبہ یہ امتحان پاس کیا

Updated: April 02, 2026, 7:11 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

بھیونڈی کے معلم شیخ زبیر عبدالعلیم اور ابرار احمد نے امسال بھی ٹی ای ٹی امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور پہلےبھی پاس کرچکے ہیں۔

Sheikh Zubair Abdul Aleem And Abrar Mahmud Khan Pathan.Photo;INN
شیخ زبیر عبدالعلیم اورابرارمحمودخان پٹھان- تصویر:آئی این این
   بیشتر اساتذہ کی نظر وں میں سی ٹی ای ٹی ( سینٹرل ٹیچر ایلی جبلٹی ٹیسٹ) امتحان کا پاس کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ سی ٹی ای ٹی کے مشکل ترین امتحان میں عموماً بیشتر اُمیدوار ناکام ہوتے ہیں ایسے میں بھیونڈی کے چند اساتذہ ایسے ہیں جو گزشتہ ۶؍سال سے اس امتحان میں پاس ہو رہے ہیں ۔ پیر کو جاری ہونے والےسی ٹی ای ٹی کے نتائج میں بھیونڈی کے شانتی نگر کے خواجہ غریب نواز اُردوپرائمری اسکول کے معلم شیخ زبیر عبدالعلیم اور غوری پاڑہ کے بھیونڈی میونسپل کارپوریشن اسکول نمبر ۹۹؍کے ٹیچر ابرار محمود خان پٹھان ( ۵۲) نے ایک مرتبہ پھر اس مشکل ترین امتحان میں کامیابی درج کرائی ہے ۔ ان دونوں ٹیچروںنے ’مشکل‘ قرار دیا جانے والا امتحان ایک یا دوبار نہیں بلکہ کئی مرتبہ دیاہے اورہر بار امتیازی نمبروں سے کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔ یہ اساتذہ دوسرے میڈیم کے بھی نہیں ہیں اور نہ کسی معیاری کوچنگ کلاس سے پڑھے ہیں ۔ انہوں نے اپنی محنت اور خوداعتمادی سے اس امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ان کی کامیابی سی ٹی ای ٹی امتحان دینے والوں کیلئے مثالی ہے ۔
شیخ زبیر عبدالعلیم نے سی ٹی ای ٹی کے امتحان کے پہلے پیپر میں ۶؍ اور دوسرے پیپر میں ۳؍ بار کامیابی حاصل کی ہے حالانکہ انہیں سی ٹی ای ٹی امتحان دینے کی ضرورت نہیںہے کیونکہ ۲۰۱۰ء میں انہیں ڈی ایڈ کی بنیاد پر ملازمت مل گئی تھی۔ وہ ریگولر بھی ہوگئے ہیں۔ اس کےباوجود انہوں نے پہلی مرتبہ سی ٹی ای ٹی امتحان چیلنج سمجھ کر ،بعد ازیں ہرسال شوقیہ طورپر دیا اور ہر مرتبہ کامیاب رہے۔
واضح رہے کہ انہو ں نے ۲۰۔۲۰۱۹ء میں پہلی مرتبہ سی ٹی ای ٹی کا امتحان دیاتھا،جس میں ایک مارکس کم ملنےکی وجہ سے وہ ایک پیپر میں فیل ہوگئے تھے ۔بعدازیں دسمبر ۲۰۲۱ء میں انہوں نے سی ٹی ای ٹی کےدونوں پیپروںکے امتحان دیئے ،اس مرتبہ ایک پیپر میں پاس اور دوسرے میں فیل ہوئے تھے۔ دسمبر ۲۰۲۲ء میں پھردونوں پیپروںکا امتحان دیا، یہاں سے ان کی کامیابی کاسفر شروع ہوا، جو اب بھی جاری ہے ۔ پیر، ۳۰؍ مارچ ۲۰۲۶ء کوجاری ہونے والے سی ٹی ای ٹی امتحان کے نتائج کے مطابق پہلے پیپر میں ۱۵۰؍ میں سے ۱۰۶؍ مارکس حاصل کر کے ایک مرتبہ پھر انہوںنے پیپر فرسٹ میں پاس ہونے کی روایت کو برقرار رکھا ہے ۔ وہ پیپر فرسٹ میں ۶؍مرتبہ اور پیپر سیکنڈ میں ۳؍بار کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ 
 
 
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’ میں نے اپنے علم اور تجربہ میں اضافہ کیلئے پہلی مرتبہ سی ٹی ای ٹی امتحان دیاتھا لیکن اب یہ میرا شوق بن گیاہے ۔ ہر سال امتحان دینے سے میری صلاحیت میں بہتری آئی ہے۔ میری کوشش ہوگئی کہ ہر سال میںسی ٹی ای ٹی امتحان میں شریک رہوں ۔‘‘
 
 
ابراراحمد کےمطابق ’’ سی ٹی ای ٹی امتحان ایک کے بجائے کی مرتبہ دینے کا اولین مقصد ڈی ایڈ اور بی ایڈ پاس اُمیدواروںکے دل ودماغ سے اس امتحان کے خوف کو دورکرنا ہے، ساتھ ہی ان کی رہبری کرنابھی ہے۔ طلبہ کو کوالیٹی ایجوکیشن دینےکیلئے سی ٹی ای ٹی کے نصاب کا مطالعہ انتہائی معاون ثابت ہوتاہے۔ اس لئے میں ہرسال سی ٹی ای ٹی امتحان دینےکی کوشش کرتاہوں۔‘‘خیال رہےکہ ابرار احمد سی ٹی ای ٹی امتحان کے فرسٹ اور سیکنڈ پیپر میں ۳۔۳؍ مرتبہ پاس ہوچکےہیں ۔ پیر کو جاری ہونےوالے نتائج میں انہوںنے فرسٹ اور سیکنڈ پیپر میں بالترتیب ۱۵۰؍ مارکس میں ۱۰۶؍اور ۱۰۱؍ مارکس حاصل کئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK