Updated: October 01, 2026, 10:30 AM IST
| Ludhiana
باگیشور دھام کے سربراہ دھیریندر شاستری نے لدھیانہ میں جاری ایک ہندو مذہبی اجتماع میں تبدیلئی مذہب اور سلام کے مخالف متنازع بیان دیئے ۔ جس پر شاہی امام مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی ثانی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے بصورت دیگر قانونی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
متنازع ہندو مذہبی لیڈر دھیرندر شاستری۔ ۔تصویر: آئی این این
لدھیانہ میں جاری شری ہنومنت کتھاکے دوران باگیشور دھام کے سربراہ دھیریندر کرشنا شاستری کے بیانات پر ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ شاستری نے پنجاب میں منشیات کے استعمال اور مذہب کی تبدیلی کے موضوع پر بات کی، جس پر لدھیانہ کے شاہی امام مولانا عثمان رحمانی لدھیانوی ثانی نے شدید اعتراض جتایا ہے ۔ شاہی امام نے اس سلسلے میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شاستری اپنے الفاظ واپس لیں اورا علانیہ معافی مانگیں۔ انہوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ اگر معافی نہ مانگی گئی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شاستری نے کہا تھا کہ پنجاب میں دو بڑے مسائل پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ایک منشیات کا استعمال اور دوسرا تبدیلیِ مذہب۔ مذہب کی تبدیلی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے سکھ برادری سے مخاطب ہو کر کہا کہ گرو گرنتھ صاحب کو ماننے والے لوگوں کو کسی دوسرے مذہب میں منتقل ہونے سے بچانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مذہب کی تبدیلی کے خلاف سکھ برادری کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور پنجاب میں کسی کا مذہب تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔اپنے خطاب کے دوران شاستری نے ’’بھیا‘‘ کو ’’سائیاں‘‘ بنانے سے متعلق ایک تبصرہ کیا، جس کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔تقریب کی اطلاعات کے مطابق شاستری نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے پر زیادہ کھل کر بات نہیں کریں گے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج ہو۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی فسادات: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں پھر مسترد
بعدازاں جب ان پر یہ الزام لگا کہ ان کے بیانات اسلام کے خلاف ہیں، تو شاستری نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی مذہب، عقیدے یا روایت کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ ان کے تبصرے ان ’’سخت گیر‘‘ طریقوں کے خلاف تھے جو مذہب کی تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں یا معاشرتی ماحول کو خراب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف ’’جاگو اور جگاؤ‘‘(خود بھی بیدار ہو اور دوسروں کو بھی بیدار کرو) ہے۔ تاہم شاہی امام نے شاستری کے ان بیانات پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن مذہبی تبلیغ کے نام پر کسی دوسرے مذہب کے خلاف قابلِ اعتراض باتیں کرنا بالکل نا قابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پنجاب گرو نانک دیو اور بابا فرید کی دھرتی ہے، جس نے ہمیشہ محبت، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کا پیغام دیا ہے۔ ایسی جگہ پر آ کر کسی بھی مذہب کے خلاف بات کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔‘‘شاہی امام نے کہا کہ لودھیانہ کے لوگ تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور ۱۹۴۷ء کی تقسیم کے بعد سے یہاں کے لوگوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے شاستری کی طرف سے لدھیانہ کے لوگوں کو مبینہ طور پر’’پاگل‘‘ کہنے پر بھی شدید ناخوشی کا اظہار کیا۔ شاہی امام نے دبئی اور پنجاب میں ’’عبداللہ‘‘ کا حوالہ دینے پر بھی شاستری پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ دبئی میں رہنے والے مسلمان اور پنجاب میں رہنے والے مسلمان کو الگ نظر سے کیوں دیکھا جائےاور یہ کہ کسی بھی شخص کے ساتھ اس کے مذہب کی بنیاد پر مختلف سلوک نہیں ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیںانہوں نے چین کے حوالے سے شاستری سے منسوب بیانات پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ لدھیانہ اور ہندوستان کے چین کے ساتھ اہم تجارتی تعلقات ہیں، اس لئےاس طرح کے بیانات ذمہ داری کے ساتھ دئیے جانے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: مساجد پر حملے، ایس آئی آر کے خلاف احتجاج، مسلم رکن پارلیمان حراست، رہائی
شاہی امام نے مطالبہ کیا کہ شاستری اپنے الفاظ واپس لیں اور علانیہ معافی مانگیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر شاستری معافی نہیں مانگتے تو وہ ان کے اور شری ہنومنت کتھاکے منتظمین کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی جائے گی۔انہوں نے لدھیانہ میں مذہبی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیلئے مختلف مذہبی برادریوں کے نمائندوں کا ایک اجلاس بلانے کی بھی تجویز دی ہے۔ دوسری جانب عیسائی برادری کے نمائندوں نے بھی ان بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اپنی برادری کے افراد سے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔