یہاں ۲۹؍قسم کی فصلیں اگائی جاتی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہاں کےکسانوں نے اپنے گھروں کے نام پھلوں کے نام پر رکھے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 02, 2025, 1:16 PM IST | Agency | Satara
یہاں ۲۹؍قسم کی فصلیں اگائی جاتی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہاں کےکسانوں نے اپنے گھروں کے نام پھلوں کے نام پر رکھے ہیں۔
یہاں کا دھومال واڑی گاؤں تعلقہ ہیڈ کوارٹر پھلٹن سے۱۸؍ کلومیٹر دور واقع ہے۔ چونکہ دھومال واڑی گاؤں پہاڑی میں واقع ہے، اس لئے قدرتی ماحول اور جغرافیائی حالات باغات کیلئے سازگار ہیں۔ یہاں ایک مشہور قدرتی آبشار ہے جسے نو کنڈ اور پانچ کنڈ کہا جاتاہے۔ ۱۹۸۵ء سے قبل دھومال واڑی میں باجرہ، گندم اور جوار کی کاشت کی جاتی تھی۔ تاہم معاشی پیداوار مطلوبہ مقدار میں نہ ملنے کی وجہ سے ۱۹۸۵ء کے بعد انار کے باغات کو ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت کاشت کرنا شروع کر دیا گیا۔ ۹۹-۱۹۹۰ء کے بعد محکمہ زراعت کے ذریعے روزگار کی ضمانت اسکیم کے تحت باغات کی کاشت کا رقبہ بڑھنے لگا۔ انار کے پھل کی پیداوار سے کسانوں کو۴؍ تا ۵؍لاکھ فی ایکڑ پیداوار حاصل ہونے لگی۔ جیسے ہی پھل بین الاقوامی منڈی میں فروخت ہونے لگے، دھومال واڑی میں انار نے اپنا نام پیدا کر لیا۔
دھومال واڑی کی مجموعی آبادی ایک ہزار ۲۹۳؍ افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ گاؤں میں تالاب اور بورویل کے پانی سے کھیتی باڑی اور باغبانی کی جاتی ہے جبکہ گاؤں کے اطراف میں ایک نہر بئی بنائی گئی ہے۔ گاؤں کا جغرافیائی رقبہ ۹۵۹۶ء۸۰؍ ہیکٹر ہے۔ صرف۳۷۱؍ ہیکٹر رقبہ قابل کاشت ہے جس میں سے۲۵۸ء۷۰ ہیکٹر پرپھلوں کے باغات ہیں۔ بقیہ رقبہ پر۱۱۲ء۳۰؍ ہیکٹر پر سال بھر مویشیوں کیلئے سبزیاں، باجرہ اور مکئی کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ اس کے علاقے شیوارہ میں انار، انجیر، شریفہ (سیتاپھل)، امرود، آملہ، آم، چیکو، انگور اور ناریل کےمختلف باغات ہیں۔ گاؤں میں پھلوں کے معیار، مقدار اور ذائقے کی وجہ سے اس نے بازار میں ’پھلوں کے گاؤں ‘ کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ اسی وجہ سے دھومال واڑی گاؤں کا نام ’فروٹ ولیج‘ سے مشہور ہوا۔ واضح رہے کہ ۲؍ سال قبل اس گاؤں کو حکومت نے ’فروٹ ولیج دھومال واڑی‘ کے طور پر تسلیم کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر کی پہلی مسلم خاتون پولیس افسر ریحانہ شیخ ۳۶؍ سالہ خدمات کے بعد سبکدوش
۲۰۰۰ءسے قبل دھومال واڑی میں انار کا بڑا رقبہ تھا۔ اس کے بعداس گاؤں میں پھلوں کی فصلوں کے کاشت کا رقبہ بڑھنے لگا۔ اس میں بنیادی طور پر۵۵؍ہیکٹر پر پیرو، ۱۴۸؍ہیکٹر شریفہ (سیتاپھل) ، ۲۹؍ ہیکٹر پر انار، ۱ء۶۰؍ ہیکٹرپر آملہ، ۰ء۲۰؍ ہیکٹرپر املی، ۸ء۰۰؍ ہیکٹرپر انجیر، ۱ء۲۰؍ ہیکٹرپر جامن، ۱ء۰۰؍ پر کیلا، ۲ء۷۰؍ ہیکٹرپر ڈریگن فروٹ، ۶ء۰۰؍ ہیکٹرپر انگور، ۲ء۰۰؍ ہیکٹرپر چیکو، ۰ء۴۰؍ ہیکٹر پرلیموں، ۱ء۲۰؍ ہیکٹر نارنجی، ۱ء۰۰؍ ہیکٹر پر ناریل، ۰ء۴۰؍ ہیکٹرپر آم، ۱ء۰۰؍ ہیکٹر پر پپیتا کے باغات لگائے گئے ہیں ۔ اسی طرح مختلف پھل جیسے سیب، کاجو، لیچی، موسمبی، کٹھل، کروند، بور کھجور، بلیک بیری، شہتوت، اسٹار فروٹ، واٹرایپل کی کاشت کی جاتی ہے۔
’مہاراشٹر ٹائمز‘ کی خبر کے مطابق گاؤں کے تمام باغات میں پانی کا انتظام۱۰۰؍ فیصد ڈرپ اریگیشن کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ دھومال واڑی میں سبزیاں ۱۰۰؍ فیصد پلاسٹک ملچنگ پیپر پر اگائی جاتی ہیں اور سبزیوں کی بہترین پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔ زیادہ تر کسان نامیاتی طور پر پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح کسان مرحلہ وار پھل پیدا کرتے ہیں۔ تیار شدہ پھل ڈیم ہی پر فروخت کئے جاتے ہیں۔ کچھ کسان پھلوں کو پونے، ممبئی، سمبھاجی نگر(اورنگ آباد) کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں جیسے گجرات، حیدرآباد، دہلی، بنگلور اور بین الاقوامی منڈیوں میں تاجروں کو فروخت کرتے ہیں۔ ہر سال باغات کے ذریعے۳۰؍ تا ۴۰؍ کروڑ کا کاروبار ہوتا ہے۔ گاؤں والوں نے اسے زراعت اور خاندان کی ترقی کیلئے استعمال کیا ہے۔ اس لئے گاؤں کے زیادہ تر گھر پکے (آر سی سی) کے ہیں۔ چونکہ یہ گھر اپنے اپنے باغات میں بنائے گئے ہیں، اس لئے اس نے ایک الگ ہی شکل اختیار کر لی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ کسانوں نے اپنے گھروں کے نام پھلوں کے نام پر رکھے ہیں۔
بیگن، مرچ، ، کدو، گوار، بھنڈی، ٹماٹر، کالی مرچ اور پیاز وغیرہ۷۳ء۰۶؍ ہیکٹر رقبے پر اگائی جاتی ہیں جوار اور باجرہ ۳۰؍ہیکٹر رقبے پر اگایا جاتا ہے۔ مکئی، کڑول، نیپیئراور میتھی وغیرہ مویشیوں کیلئے سبز چارے کے طور پر اگائی جاتی ہیں۔ ۱۰؍ ہیکٹر رقبے پر چارا اگایا جاتا ہے۔