گھریلو خواتین کی اہمیت کو نہ سمجھنے والوں کیلئے عدالت کا اہم پیغام ،موٹر وہیکل ایکٹ کے معاوضے سے متعلق معاملے کی شنوائی کے دوران یہ تبصرہ کیا۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 11:01 AM IST | New Delhi
گھریلو خواتین کی اہمیت کو نہ سمجھنے والوں کیلئے عدالت کا اہم پیغام ،موٹر وہیکل ایکٹ کے معاوضے سے متعلق معاملے کی شنوائی کے دوران یہ تبصرہ کیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں کہا کہ گھریلو خواتین کی جانب سے انجام دی جانے والی گھریلو دیکھ بھال اور خدمات کا نقصان موٹر حادثات کے معاوضے کے معاملات میں ایک الگ اور قابلِ معاوضہ مد قرار پائے گا اور اس کا معاوضہ دیا جانا چاہئے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ گھریلو خاتون کی خدمات صرف گھر تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ وہ قوم کی تعمیر اور انسانی وسائل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔یہ فیصلہ جسٹس سنجے کرول اور جسٹس این کے سنگھ پر مشتمل بنچ نے ایک موٹر حادثہ معاوضہ کیس کی سماعت کے دوران سنایا۔ یہ معاملہ۲۰۰۱ء میں ایک سڑک حادثے میں خاتون کی موت سے متعلق تھاجس میں خاتون کے شوہر نے معاوضہ کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کیس میںپنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے۲۰۲۴ء میں متاثرہ خاندان کو آٹھ لاکھ روپے سے زائد کا معاوضہ دیا تھالیکن اس کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: منی لانڈرنگ الزام: ’نیوز کلک‘ کو راحت، ای ڈی کی کارروائی کالعدم قرار دی گئی
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں گھریلو خواتین کی بلا معاوضہ خدمات کی معاشی اور سماجی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی گھریلو خاتون کی موت ہو جائے یا وہ مستقل طور پر معذور ہو جائے تو خاندان کو ہونے والے نقصان کو موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت الگ شناخت اور معاوضہ ملنا چا ہئے۔فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس سنجے کرول نے کہاکہ ’’ہم اس رائے کے حامل ہیں کہ ایک گھریلو خاتون انسان کی نشوونما اور قوم کی ترقی میں اپناحصہ ڈالتی ہے۔ گھریلو خواتین قوم کی معمار ہوتی ہیں۔ اسی لئے ہم نے اصول طے کئے ہیں اورقوم کی معمار کی حیثیت سے گھریلو خاتون کی خدمات کے نقصان کی کم از کم ماہانہ مالیت ۳۰؍ ہزار روپے مقرر کی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: راجیہ سبھا: ۱۰؍ ریاستوں سے ۲۴؍ امیدوار بلا مقابلہ منتخب
عدالت نے واضح کیا کہ ’’گھریلو دیکھ بھال کے نقصان‘‘ کو معاوضے کی ایک اضافی بنیاد کے طور پر تسلیم کیا جائے گا جو پہلے سے تسلیم شدہ نقصانات کے علاوہ ہوگی۔ اس سلسلے میں عدالت نے کہا کہ اب گھریلو خدمات کے نقصان کو بھی الگ مد کے طور پر شامل کیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ لاکھوں ایسے خاندانوںکیلئے اہم ثابت ہوگا جو سڑک حادثات میں گھریلو خواتین کی موت یا معذوری کے بعد معاوضہ کے حصول کیلئے عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں۔