Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا آپ بھی سوشل میڈیا پر بے مطلب اسکرولنگ کرتے ہیں؟ تو یہ تحقیق آپ کیلئے ہے

Updated: August 27, 2026, 10:43 AM IST | Agency | London

مسلسل اور بےمقصداسکرولنگ خصوصاً شارٹس اور ریلز دیکھنے کی عادت دماغی کارکردگی کو بری طرح متاثر کررہی ہے، لندن میں کی گئی اسٹڈی میں انکشاف۔

Mindless scrolling has become a habit for many people. Picture: INN
بے مقصد اسکرولنگ کئی لوگوں کی عادت بن گئی ہے۔ تصویر: آئی این این
مختصر ویڈیوز، ریلز اور شارٹس نے لوگوں کے موبائل استعمال کا انداز بدل دیا ہے، لیکن نئی سائنسی تحقیقات نے مسلسل اور بے مقصد اسکرولنگ جسے ’’ڈوم اسکرولنگ ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ،کے دماغی کارکردگی پر ممکنہ اثرات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ماہرین خاص طور پر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اسمارٹ فونز کی اسکرین پر تیزی سے بدلنے والے ویڈیوز دماغ کی توجہ برقرار رکھنے، معلومات یاد رکھنے اور انہیں گہرائی سے سمجھنے کی صلاحیت کو کس طرح متاثر کرسکتے ہیں۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ۱۰۰؍ سے زائد افراد کو ایک ہی دورانیے کا مواد دو مختلف انداز میں دکھایا گیا۔ ایک گروپ نے مسلسل طویل ویڈیو دیکھے جبکہ دوسرے گروپ کو اسی نوعیت کے متعدد مختصر ویڈیوز دکھائے گئے۔ بعد میں ان افراد کی یادداشت کا جائزہ لیا گیا اور دماغی سرگرمی کی تصویری جانچ کی گئی۔ مختصر ویڈیوز دیکھنے والے افراد نے معلومات کو طویل ویڈیو دیکھنے والے گروپ کے مقابلے میں کم یاد رکھا اور ان کی دماغی کارکردگی بھی متاثر رہی۔ 
 
 
دماغی اسکین سے بھی دونوں گروپوں کے درمیان فرق سامنے آیا۔ مختصر ویڈیوز دیکھنے کے بعد دماغ کے ان حصوں میں سرگرمی کم دیکھی گئی جو معلومات کو مربوط کرنے، توجہ اور معلومات کے معنی سمجھنے جیسے ذہنی کاموں سے وابستہ ہیں۔ محققین نے دماغ کے بعض حصوں کے درمیان رابطے میں بھی کمی نوٹ کی اور اسے یادداشت کی کارکردگی سے جوڑا۔
 
 
مختصر ویڈیو (شارٹس) کے نقصانات 
 جون ۲۰۲۶ء میں شائع ہونے والے تحقیقی جائزہ میں ۲۰۱۵ء سے ۲۰۲۵ء تک کی ۴۲؍ تحقیقات کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ ان مطالعات میں مجموعی طور پر ۴۶؍ ہزار ۹۱۲؍ افراد شامل تھے۔ جائزے کے مطابق زیادہ اور بے ترتیب مختصر ویڈیو کو توجہ میں کمی، جلد بازی پر مبنی رویے، کمزور یادداشت اور خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت میں کمی کے ساتھ مستقل طور پر منسلک پایا گیا۔ اسی جائزے میں مختصر ویڈیوز کے زیادہ استعمال اور بے چینی، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن جیسی علامات کے درمیان بھی تعلق پایا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK