• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دوحہ، قطر: صرف خواتین کیلئے دنیا کی پہلی مسجد ’المجادلہ‘ کا افتتاح

Updated: January 15, 2026, 8:01 PM IST | Doha

قطر نے دارالحکومت دوحہ میں صرف خواتین کے لیے مخصوص دنیا کی پہلی مسجد، مسجد المجادلہ کا افتتاح کر دیا ہے، جو عبادت اور دینی تعلیم کے لیے مکمل طور پر خواتین کے زیرِ انتظام ہوگی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اسلامی دنیا میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت کے طور پر قطر نے دنیا کی پہلی ایسی مسجد قائم کی ہے جو مکمل طور پر خواتین کیلئے مخصوص ہے۔ اس مسجد کا نام مسجد المجادلہ ہے، جو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہے۔ یہ مسجد خواتین کے لیے عبادت، دینی تعلیم اور سماجی و روحانی سرگرمیوں کا ایک منفرد اور خودمختار مرکز ہوگی۔ قطری حکام کے مطابق مسجد المجادلہ کا قیام اس وژن کے تحت عمل میں لایا گیا ہے کہ خواتین کو ایسا مذہبی ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ نہ صرف عبادت کر سکیں بلکہ اسلامی علوم، فکری مکالمے اور سماجی تربیت میں بھی فعال کردار ادا کر سکیں۔ مسجد کا ڈیزائن، اندرونی انتظام، تعلیمی سرگرمیاں اور انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر خواتین کی قیادت اور نگرانی میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:چین: ’’آر یو ڈیڈ‘‘ نامی ایپ لانچ، ہر ۴۸؍ گھنٹے بعد پوچھتا ہے کیا آپ مر گئے؟

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اسلامی ملک میں ایک مسجد کو باضابطہ طور پر صرف خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر کی مساجد میں خواتین کے لیے علاحدہ حصے موجود ہیں، تاہم مسجد المجادلہ کو اس لحاظ سے منفرد حیثیت حاصل ہے کہ یہاں خطبات، دروسِ قرآن، فقہی نشستیں اور دینی لیکچرز خواتین عالمات اور اسکالرز ہی دیں گی۔ قطری حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اسلامی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے خواتین کے کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔ مسجد میں نہ صرف نماز اور عبادت کا اہتمام کیا جائے گا بلکہ قرآن فہمی، اسلامی تاریخ، اخلاقی تربیت اور سماجی مسائل پر مبنی نشستیں بھی منعقد ہوں گی، تاکہ خواتین کو ایک ہمہ جہت مذہبی و فکری پلیٹ فارم میسر آ سکے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Architecture | Design | 3D (@arch_shovel)

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۵ء زمین کا تیسرا گرم ترین سال قرار، اوسط عالمی درجہ حرارت میں ۵ء۱؍ کا اضافہ

سوشل میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس اقدام کو وسیع توجہ حاصل ہوئی ہے۔ بعض حلقوں نے اسے مسلم دنیا میں خواتین کے لیے ایک مثبت اور انقلابی قدم قرار دیا جبکہ کچھ قدامت پسند طبقات کی جانب سے اس پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم قطر کا مؤقف ہے کہ مسجد المجادلہ روایت اور جدید تقاضوں کے درمیان توازن کی ایک مثال ہے۔ مبصرین کے مطابق مسجد المجادلہ مستقبل میں دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی ایک عملی مثال بن سکتی ہے، جہاں خواتین کے مذہبی اور تعلیمی کردار کو مزید وسعت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK